بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نہرِ عظیم سے حقِ انتفاع کا شرعی حکم


سوال

ایک قدیمی نالہ جو سب کےلیے مشترک ہے ،کسی فرد واحد کی ملکیت نہیں ،اس میں دوفریق کے درمیان اختلاف ہوا ہے جس کی تفصیل درج ذیل ہے :

فریق اول :نے اس نالہ پر پرانے زمانہ میں دو عدد پن چکیاں (واٹرملز )تعمیر کیں ،تقریبا چالیس ،پچاس سال کے بعد مارکیٹ میں ڈیزل کی پنچکیاں دریافت ہوئی تو مذکورہ واٹرملز بندہوگئی ۔

فریق دوم :نے بعد ازاں اسی نالے پر فریق اول کی نہر کے نیچلے حصے پر نہر تعمیر کرکے ایک بجلی گھر تعمیر کیا،فریق اول نے اعتراض کیا کہ یہ نہر اور پانی پہلے ہماری پن چکیوں کاحق تھا ،فریق دوم نے اس وقت زبانی طورپر تسلیم کیا کہ فریق اول کو جب ضرروت ہو تو پانی لے سکتاہے ۔

بعد میں فریق اول نے فریق دوم کے بجلی گھر کی نہر سے اوپر سرکاری منظوری سے ایک پاور ہاؤس( بجلی گھر )قائم کیا،اس پاور ہاؤس کے نظام کو چلانے کےلیے جملہ عوام نے 11افراد پر مشتمل ایک منظم کمیٹی تشکیل دی اور کمیٹی کے ممبران نے اپنے لیے ایک آئینی دستور ومنشور بنایاکہ ہم نے اجلاس میں جوبھی فیصلہ کرناہو تو اکثریتی رائے (ووٹ )سے کرینگے ،جب فریق اول نیاپاور ہاؤس قائم کرنے لگا تو اس وقت فریق دوم نے یہ اعتراض کیا کہ اگر آپ لوگوں نے اس نہر میں پانی روکا تو ہمارا پن بجلی گھر متاثر ہوگا ،کچھ بحث مباحثہ کے بعد فریق اول نے اپناپاور ہاؤس قائم کرکے باقاعدہ طورپر محکمہ  کے حوالہ کردیا اور بجلی استعمال کرناشروع کیا۔

کمیٹی کے تین اراکین نے بغیر کمیٹی کی مشاورت اور اکثریت رائے کے اور جملہ عوام میں دوتین بندوں نے فریق دوم کے ساتھ ایک سرکاری اسٹام پیپر پر ایک غیر رسمی معاہدہ کیاکہ جب فریق دوم کوپانی کی کمی ہو تو فریق اول انہیں پانی یابجلی فراہم کرے گا،واضح رہے کہ باقی کمیٹی کے اراکین اور جملہ عوام اس معاہدے سے مکمل طورپر انکاری ہیں اور اسے غیر شرعی غیرقانونی اور غیر آئینی قرار دیتے ہیں ۔

اب پوچھنایہ ہے کہ کیاایسے ذاتی اور اقلیتی معاہدے کی شرعی حیثیت ہے،جبکہ کمیٹی کی اکثریت اور عوام الناس اس سے انکارکررہےہوں ؟

نیز فریق دوم فریق اول کی بجلی میں خلل پیداکرنےکے حق دار ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ  مذکورہ نالہ تمام لوگوں میں حق مشترک ہے ،اس میں ہر  کسی کو  حق انتفاع حاصل ہے ،البتہ ایسے انتفاع کاحق حاصل ہوگا جس سے کسی اور کوضرر نہ پہنچے ، کسی کو اس طرح انتفاع کا حق نہیں ہوگا کہ جس سے عام لوگوں کا نقصان ہو ۔لہذا صورت مسئولہ میں جب فریق اول نےنالہ پر   بجلی گھر تعمیر کیا اور عام لوگوں کو بھی  اس سے حق انتفاع حاصل ہے  ،اور باقاعدہ محکمہ کے بھی حوالہ کردیاتویہ درست تھا،اسی طرح عوام کی تشکیل دی گئی کمیٹی کایہ فیصلہ کہ ہم اکثریت کی بنیادپر فیصلہ کریں گے تو یہ بھی درست تھا ،بعد ازاں چند لوگوں کافیصلہ کرنا درست نہیں ۔البتہ مذکورہ اقلیتی معاہدہ شرعادرست ہے ؛کیونکہ فریق اول کی طرح فریق دوم کو بھی حق انتفاع حاصل ہے ۔

نیز فریق دوم کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ فریق اول کی بجلی میں خلل پیداکرے ۔تاہم ان کو حق انتفاع حاصل ہوگا ۔

فتاوی شامی میں ہے: 

"الأول: ماء البحار ولكل أحد فيها حق الشفة؛ وسقي الأراضي فلا يمنع من الانتفاع على أي وجه شاء،والثاني: ماء الأودية العظام كسيحون، وللناس فيه حق الشفة مطلقا وحق سقي الأراضي إن لم يضر بالعامة.والثالث: ما دخل في المقاسم أي المجاري المملوكة لجماعة مخصوصة، وفيه حق الشفة.والرابع. المحرز في الأواني ينقطع حق غيره عنه وتمامه في الهداية. وحاصله: أن لكل أحد في الأولين حق الشفة والسقي لأرضه وفي الثالث حق الشفة فقط ولا حق في الرابع لأحد."

(کتاب إحیاءالموات،فصل فی الشرب،ج:6،ص:438،ط:سعید)

بدائع الصنائع  میں ہے:

"(وأما) الأنهار العظام كسيحون ودجلة والفرات ونحوها فلا ملك لأحد فيها ولا في رقبة النهر وكذا ليس لأحد حق خاص فيها ولا في الشرب بل هو حق لعامة المسلمين فلكل أحد أن ينتفع بهذه الأنهار بالشفة والسقي وشق النهر منها إلى أرضه بأن أحيا أرضا ميتة بإذن الإمام له أن يشق إليها نهرا من هذه الأنهار وليس للإمام ولا لأحد منعه إذا لم يضر بالنهر وكذا له أن ينصب عليه رحى ودالية وسانية إذا لم يضر بالنهر؛ لأن هذه الأنهار لم تدخل تحت يد أحد فلا يثبت الاختصاص بها لأحد فكان الناس فيها كلهم على السواء، فكان كل واحد بسبيل من الانتفاع لكن بشريطة عدم الضرر بالنهر كالانتفاع بطريق العامة وإن أضر بالنهر فلكل واحد من المسلمين منعه لما بينا أنه حق لعامة المسلمين.وإباحة التصرف في حقهم مشروطة بانتفاء الضرر كالتصرف في الطريق الأعظم."

(کتاب الشرب،ج:6،ص:192،ط:دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144704101057

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں