
میں نے جوانی کےد وران مختلف جگہوں پر کاروبار اور مزدوری کی ہے ،بعض جگہیں اور بندے تو معلوم ہیں کہ جس کے پاس ہم نے مزدوری کی ہےاور بعض معلوم نہیں ہیں۔بہرصورت جب مالک ہم پر ظلم کرتے تو ہم بھی ان کو معاف نہیں کرتے ،ان کے مال سے چھپکے سے کھاتے اور اٹھاتے تھے،یعنی ہم نے مختلف صورتوں سے لوگوں کا حق کھایا ہے اپنے زعم کے مطابق،تو جولوگ معلوم ہیں ان کا حق ان کو واپس کس طریقہ سے کیا جائے ؟کیونکہ ان بتاکر دینے میں شرم ہوتی ہے،اور جو معلوم نہیں ہیں ان کے حق کا کیا حکم ہے؟کیا طریقہ اختیار کیا جائے؟
صورت مسئولہ میں مالکوں کی طرف سے سائل پر جو ظلم ہوا تھا اگر وہ مالی ظلم تھا ،مثلاً کبھی سائل کی اجرت نہیں دی یا بلاوجہ کم دی وغیرہ ، تو اپنا حق کے بقدر جو مال اٹھایا ہو اس کو واپس کرنے کی ضرورت نہیں ہے ،لیکن اگر سائل نے اپنے حق سے زیادہ وصول کیا ہو یا ظلم کا تعلق مال سے نہ ہو ،اخلاقیات وغیرہ سے ہو تو اس صورت میں( مالکوں کا ظلم کرنا اگرچہ ناجائز تھا،جس پر آخرت میں وہ جواب دہ ہوں گے )سائل پر توبہ و استغفار کے ساتھ اپنے مالکان کو ان کے مال کی قیمت لوٹانا ضروری ہے ،جو لوگ معلوم ہیں ان کو قیمت ادا کرے،جو لوگ معلوم نہیں ہیں تو اپنے ساتھی مزدوروں کے ذریعہ ان کا یا انتقال ہوجانے کی صورت میں ان کے ورثاء کا پتہ معلوم کرے ،اگر تلاش کے باوجود معلوم نہ ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کردے۔
باقی اگر ان کو بتانے میں عار محسوس ہوتی ہویاکسی فساد کا اندیشہ ہوتو یہ بھی گنجائش ہے کہ رقم مالک کو کسی اور عنوان سے واپس کردے، مثلاً ہدیہ اور تحفہ کے نام سے واپس کردے، یا کسی سے ان کا بینک اکاؤنٹ معلوم کرکے خاموشی سے اکاؤنٹ میں رقم ڈالدے،غرض یہ کہ کسی بھی مناسب طریقہ کے ذریعہ ان تک ان کاحق پہنچادے ۔
حدیث شریف میں ہے:
"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ’’ألالا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه ‘‘. رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى."
ترجمہ:’’خبردار کسی پر ظلم و زیادتی نہ کرو، خبردار کسی آدمی کی ملکیت کی کوئی چیز اس کی دلی رضامندی کے بغیر لینا حلال اور جائز نہیں ہے ۔‘‘
(مشکوٰۃ المصابیح، باب الغصب والعاریة، الفصل الثانی، ج:2، ص:889، ط:المكتب الإسلامي - بيروت)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"عليه ديون لأناس لا يعرفهم من غصوب ومظالم وجبايات يتصدق بقدره على الفقراء على عزيمة القضاء إن وجدهم مع التوبة إلى الله تعالى فيعذر ولو صرف ذلك إلى الوالدين أو المولودين يصير معذورا وكذا في إزالة الخبث عن الأموال."
(کتاب الكراهية،الباب السابع والعشرون في القرض والدين،5/ 367،ط:دار الفکر)
فتاوی شامی میں ہے:
"(عليه ديون ومظالم جهل أربابها وأيس) من عليه ذلك (من معرفتهم فعليه التصدق بقدرها من ماله وإن استغرقت جميع ماله) هذا مذهب أصحابنا لا تعلم بينهم خلافا كمن في يده عروض لا يعلم مستحقيها اعتبارا للديون بالأعيان (و) متى فعل ذلك (سقط عنه المطالبة) من أصحاب الديون (في المعقبي) مجتبى''.
(قوله: جهل أربابها) يشمل ورثتهم، فلو علمهم لزمه الدفع إليهم؛ لأن الدين صار حقهم. وفي الفصول العلامية: من له على آخر دين فطلبه ولم يعطه فمات رب الدين لم تبق له خصومة في الآخرة عند أكثر المشايخ؛ لأنها بسبب الدين وقد انتقل إلى الورثة. والمختار أن الخصومة في الظلم بالمنع للميت، وفي الدين للوارث. قال محمد بن الفضل: من تناول مال غيره بغير إذنه ثم رد البدل على وارثه بعد موته برئ عن الدين وبقي حق الميت لظلمه إياه، ولا يبرأ عنه إلا بالتوبة والاستغفار والدعاء له..."
(4 /283، کتاب اللقطة، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144608100553
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن