
کوئٹہ میں عوام بنیادی سہولیات کے شدید فقدان کا شکار ہیں۔ نہ بجلی کی مناسب فراہمی ہے، نہ گیس اور پانی کی، جبکہ امن و امان، سڑکوں اور تعلیمی سہولیات کی صورتحال بھی انتہائی ناقص ہے۔ مزید یہ کہ ہم بعض اوقات ایک یا دو ماہ کے لیے دوسرے صوبے چلے جاتے ہیں، اس دوران ہمارا گھر بند رہتا ہے اور بجلی کا استعمال نہیں ہوتا، بلکہ بعض اوقات میٹر بھی بند ہوتا ہے۔ اس کے باوجود واپسی پر واپڈا کی جانب سے دس ہزار روپے یا اس سے زیادہ کے بل بھیج دیے جاتے ہیں۔ جب ہم متعلقہ حکام سے پوچھتے ہیں کہ نہ ہم نے بجلی استعمال کی ہے اور نہ ہی میٹر چل رہا تھا، پھر یہ بل کس بنیاد پر ہے؟ تو جواب دیا جاتا ہے کہ یہ بالا حکام کے احکامات ہیں، لہٰذا بل جمع کروانا ہوگا۔ گیس کے بلوں کے معاملے میں بھی اسی طرح کی صورتحال پیش آتی ہے۔
ایسی حالت میں جبکہ عوام کو نہ مناسب سہولیات ملتی ہیں اور نہ ہی ان کے ساتھ انصاف کیا جاتا ہے، بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ حکومت اور متعلقہ ادارے خود لوگوں کو بجلی اور گیس چوری یا بغیر ادائیگی کے استعمال کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ نیز جب چوبیس گھنٹوں میں آٹھ گھنٹے بھی بجلی دستیاب نہیں ہوتی اور اس کے باوجود بھاری بل وصول کیے جاتے ہیں، تو ایسی صورتِ حال میں شرعی رہنمائی کیا ہے؟
اگر حکومت یا متعلقہ ادارے صارفین سے ان کے اصل استعمال سے زیادہ رقم وصول کریں، یا بلوں میں ناجائز اضافہ اور غلط اندراج کریں، تو یہ شرعاً جائز نہیں، بلکہ یہ لوگوں کے مالی حقوق کی پامالی، ظلم اور ناحق مال کھانے کے زمرے میں آتا ہے۔ اسلام نے حکمرانوں اور ذمہ دار اداروں کو عدل و انصاف کا پابند بنایا ہے، لہٰذا ان پر لازم ہے کہ وہ عوام کے ساتھ دیانت داری سے معاملہ کریں، صحیح حساب کے مطابق بل جاری کریں، اور کسی بھی صورت میں لوگوں پر ناجائز مالی بوجھ نہ ڈالیں۔ اگر واقعی کسی صارف کے ساتھ اس قسم کی ناانصافی یا زیادتی کی جائے تو اسے شرعی طور پر یہ حق حاصل ہے کہ وہ قانونی اور جائز ذرائع اختیار کرکے اپنے حق کا مطالبہ کرے، متعلقہ اداروں، اعلیٰ حکام یا مجاز عدالتوں سے رجوع کرے اور ظلم کے ازالے کی کوشش کرے۔
تاہم محض اس ظلم یا زیادتی کی بنا پر بجلی یا گیس چوری کرنا، میٹر میں رد و بدل کرنا، غیر قانونی کنکشن لینا یا بغیر اجازت استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں، کیونکہ یہ دوسرے کے مال میں ناحق تصرف، خیانت اور قانون شکنی کے حکم میں داخل ہے۔ لہٰذا متاثرہ افراد کو چاہیے کہ وہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے صرف جائز اور قانونی ذرائع اختیار کریں اور ناجائز طریقوں سے اجتناب کریں۔
قرآن کریم میں ہے:
"وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ"(سورۃ البقرۃ: 188)
درر الحکام فی شرح مجلۃ الأحکام میں ہے:
"لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه أو وكالة منه أو ولاية عليه وإن فعل كان ضامنا."
(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، المادة: 96، ج: 1، ص: 51، ط: رشيدية)
وفيه أيضا:
"لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي وإن أخذ ولو على ظن أنه ملكه وجب عليه رده عينا إن كان قائما وإلا فيضمن قيمته إن كان قيميا."
(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، المادة: 97، ج: 1، ص: 51، ط: رشيدية)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144712101230
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن