بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نفسیاتی مریض کی حفاظت کی خاطر اس کو کسی ادارے میں داخل کرنے کا حکم


سوال

ہم چار بھائی اور دو بہنیں ہیں، ہمارے والد صاحب بھی حیات ہیں، البتہ والدہ کا انتقال ہوگیا ہے، ایک بھائی اور ایک بہن غیر شادی شدہ ہیں، باقی سب  شادی شدہ ہے، اور جو غیر شادی شدہ بہن بھائی ہیں وہ والد صاحب کے ساتھ ایک ہی مکان میں رہتے ہیں، اور وہ  دو نوں نفسیاتی امراض میں مبتلا ہیں،  جب تک ہماری  والدہ حیات تھیں، وہ باقاعدگی سے ان کی دیکھ بھال اور دوائی وغیرہ کا انتظام کرتی رہتی تھیں، مگر تقریباً پانچ ماہ قبل ان کا انتقال ہو گیا، جس کے بعد سے دوائی کا سلسلہ بھی منقطع ہو گیا ہے، اور دونوں  کی ذہنی حالت انتہائی خراب ہو چکی ہے،  والد صاحب، جن کی عمر تقریباً 70 سال ہے، اپنی جان کے لیے خطرہ محسوس کرتے ہیں، کیوں کہ بہن (جن کی عمر 43 سال ) کبھی بھی اچانک گھر سے نکل جاتی ہیں،  اور مارنے پر تلی رہتی ہیں، جب کہ بھائی  (جن کی عمر 38 سال)بالکل فارغ گھر پر پڑا رہتا ہے،ایک دو جگہ سے کرایہ آتا ہے، وہ سارا ان کے کھاتے میں جمع ہوتا ہے، اور گھر کے بنیادی اخراجات (جیسے راشن اور پانی وغیرہ) پر وہ پیسہ خرچ نہیں ہوتا،گھر میں فقر وفاقہ کا ماحول رہتا ہے، والد صاحب نہایت کرب کے ساتھ کہتے ہیں کہ "ہمارے لیے کچھ کریں، ورنہ ہم اسی حالت میں زندگی گزار کر ختم ہو جائیں گے، ہم اپنی آخری سانسیں گن رہے ہیں۔"

نفسیاتی معالجین کا کہنا ہے کہ مریضوں کو ہسپتال میں داخل کر کے علاج کے بعد دوبارہ گھر بھیج دیا جائے گا،لیکن سائیکالوجی کے مطابق یہ مرض چار  گنا شدت سے واپس آتا ہے، اب ــــ ہم ان کو کسی مستقل نگہداشت کے ادارے (مثلاً ایدھی سینٹر) میں  داخل کروانے کا سوچ رہے ہیں۔

براہِ مہربانی رہنمائی فرمائیں کہ ایسی صورتِ حال میں اہلِ خانہ کو  کیا اقدام کرنا چاہیے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب  سائل کے  بہن بھائی نفسیاتی مریض ہیں، اور  ڈاکٹروں کے کہنے کے مطابق ان کا علاج بھی ممکن ہے، تو ایسی صورت میں سائل اور اس کے دیگر بھائیوں پرمذکورہ  معذور بہن بھائی کی دیکھ بھال اور علاج کرنا لازم ہوگا، ان کو کسی  ادارے (مثلا ایدھی سینٹر وغیرہ)میں داخل کر کے وہاں چھوڑ دینا جائز نہیں ہوگا۔ 

فتاوى شامي میں ہے:

"ونفقة ‌الغير ‌تجب ‌على ‌الغير ‌بأسباب ‌ثلاثة: زوجية، وقرابة، وملك."

(كتاب الطلاق، باب النفقة، 3/ 572، ط: سعيد)

وفيه أيضا:

"(و) تجب أيضا (لكل ذي رحم محرم صغير أو أنثى) مطلقا (ولو) كانت الأنثى (بالغة) صحيحة (أو) كان الذكر (بالغا) لكن (عاجزا) عن الكسب (بنحو زمانة)  كعمى وعته وفلج، زاد في الملتقى والمختار: أو لا يحسن الكسب لحرفة أو لكونه من ذوي البيوتات أو طالب علم (فقيرا) .... (بقدر الإرث) - {وعلى الوارث مثل ذلك} [البقرة: 233]- (و) لذا (يجبر عليه)، ثم فرع على اعتبار الإرث بقوله (فنفقة من) أي فقير (له أخوات متفرقات) موسرات (عليهن أخماسا) ولو إخوة متفرقين فسدسها على الأخ لأم والباقي على الشقيق (كإرثه) وكذا لو كان معهن أو معهم ابن معسر؛ لأنه يجعل كالميت ليصيروا ورثة ...
(قوله كعمى إلخ) أفاد أن المراد بالزمانة العاهة كما في القاموس. وفي الدر المنتقى أن الزمانة تكون في ستة: العمى وفقد اليدين أو الرجلين أو اليد والرجل من جانب والخرس والفلج. اهـ .... (قوله وعته) بالتحريك: نقصان العقل...(قوله بقدر الإرث) أي تجب نفقة المحرم الفقير على من يرثونه إذا مات بقدر إرثهم منه".

(كتاب الطلاق، باب النفقة، 3/ 228، ط: سعيد)

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"والذي قلنا في الصغار من الأولاد كذلك في الكبار إذا كن إناثا؛ لأن النساء عاجزات عن الكسب؛ واستحقاق النفقة لعجز المنفق عليه عن كسبه. وإن كانوا ذكورا بالغين لم يجبر الأب على الإنفاق عليهم لقدرتهم على الكسب، إلا من كان منهم زمنا، أو أعمى، أو مقعدا، أو أشل اليدين لا ينتفع بهما، أو مفلوجا، أو معتوها فحينئذ تجب النفقة على الوالد لعجز المنفق عليه عن الكسب."

(کتاب النکاح، باب نفقة ذوي الأرحام، 5/ 223، ط: دارالمعرفة)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"والنفقة لكل ذي رحم محرم إذا كان صغيرا فقيرا، أو كانت امرأة بالغة فقيرة، أو كان ذكرا فقيرا زمنا، أو أعمى ويجب ذلك على قدر الميراث ويجبر كذا في الهداية وتعتبر أهلية الإرث لا حقيقته كذا في النقاية."

(كتاب الطلاق، الباب السابع عشر في النفقات، الفصل الخامس في نفقة ذوي الأرحام، 1/ 566، ط: دار الفكر)
فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710100428

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں