
1۔ اگر کسی عورت کو اس کا شوہر نہ طلاق دے رہا ہو اور نہ خلع دے رہا ہو، تو اس صورت میں عورت کیا کرے گی؛ کیونکہ عورت کو شوہر سے ہم آہنگی نہیں ہورہی اور اس وجہ سے عورت کو اپنے شوہر سے نفرت ہوگئی ہے، تو عورت کیا راستہ اختیار کرے؟
2۔ اگر کسی عورت کا شوہر تمام حقوق ادا کر رہا ہو لیکن بعد میں اچانک لاپتہ ہوگیا، تو اس صورت میں عورت عدالت سے کس طرح اپنا نکاح ختم کراسکتی ہے؟
اور پھر اگر اس کا نکاح ختم ہوجاتا ہے عدالت کے ذریعہ سے اور وہ خاتون کسی اور جگہ نکاح کرلیتی ہے، پھر اس نکاح کے ایک ماہ بعد پہلا شوہر واپس آجاتا ہے، تو اس کا کیا حکم ہے؟
1۔ واضح رہے کہ ازدواجی زندگی پرسکون اور خوش گوار ہونے کے لیے ضروری ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق ادا کریں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شوہرکو اپنی اہلیہ کے ساتھ حسنِ سلوک کی تلقین فرمائی ہے، چنانچہ ارشاد نبوی ہے: تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنی گھر والی کے ساتھ اچھا ہو اور میں اپنی گھر والی کے ساتھ تم میں سے سب سے بہتر ہوں۔ دوسری جانب بیوی کو بھی اپنے شوہر کی اطاعت اور فرماں برداری کا حکم دیا ، ارشاد نبوی ہے: بالفرض اگر میں کسی کو کسی کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو بیوی سے کہتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے، بلا کسی ضرورت کے بیوی کا طلاق کا مطالبہ کرنا درست نہیں، حدیث شریف میں شرعی وجہ کے بغیر طلاق یا خلع کا مطالبہ کرنے والی عورت کو منافق کہا گیا ہے۔
لیکن اگر عورت کا اپنے شوہر سے باوجود کوشش کے ہم آہنگی پیدا نہیں ہورہی اور اس وجہ سے اس کے دل میں اپنے شوہر کے لیے نفرت پیدا ہو رہی ہے اور کسی صورت نباہ ممکن نہیں، تو عورت اپنے مہر کے بدلے شوہر سے خلع حاصل کرسکتی ہے۔تاہم اگر دونوں کے درمیان نباہ ممکن ہو تو نباہ کی پوری کوشش کرے۔ شریعت کی نظر میں علیحدگی یا خلع کی طرف جانا مناسب نہیں۔ شریعتِ مطہرہ میاں بیوی کے باہمی اختلافات میں حتی المقدور اصلاح، صلح اور مفاہمت کو ترجیح دیتی ہے،اس معاملے کو جذبات کے بجائے باہمی مصالحت کے ذریعے حل کرنا چاہیے ، تاکہ خود عورت کے لیے کسی بھی قسم کی کوئی پریشانی نہ ہو اور گھر بھی آباد رہے۔
2۔ اگر کسی عورت کا شوہر لاپتہ ہوجائے، تو شوہر کے صرف غائب ہونے کے سبب خود بخود طلاق واقع نہیں ہوتی،بلکہ بدستور دونوں کا نکاح برقرار رہتا ہے، البتہ ایسی صورت میں اگر عورت کے لیے خرچہ کا انتظام نہ ہو، یا عورت کا پاک دامنی کے ساتھ زندگی گزارنا ممکن نہ ہو، اور اس کا معصیت و گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو اور عدالت اور متعلقہ اداروں کی ہر قسم کی کوشش کے باوجود بھی شوہر نہ مل پایا ہو، تو ایسی شدید ضرورت کے وقت قضاء علی الغائب درست ہے، بہتر یہ ہے مسلمان جج غائب شوہر کی طرف سے وکیل قائم کرکے اس پر فیصلہ کرے۔
طریقہ کار یہ ہوگاکہ عدالت میں جاکر مسلمان قاضی کے سامنے عورت اپنے غائب شوہر کے ساتھ نکاح کو دو گواہوں کے ذریعے ثابت کرے، پھر اپنے شوہر کا غائب ہونا ثابت کرے، نیز یہ بھی ثابت کرے کہ میرا شوہر مجھے کسی قسم کا نفقہ دے کر نہیں گیا، اور نہ ہی فی الحال دے رہاہے، اور نہ ہی نفقہ کا انتظام ہے، اور نہ ہی میں نے نفقہ معاف کیا ہے، اور ان تمام باتوں کو ثابت کرنے کے بعد ان تمام باتوں پر قسم بھی کھاۓ، لیکن اگر نفقہ کا انتظام تو ہے، مگر عورت کا گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے، تو اس بات پر قسم کھاۓ ، پھر حاکم اس غائب شوہر کے لیے حکم جاری کرے کہ :" وہ خود حاضر ہوکر بیوی کے حقوق ادا کرے، یا اپنی بیوی کو اپنے پاس بلالے، یا اپنی بیوی کا کسی بھی قسم کا انتظام کرے، ورنہ ہم تفریق کردیں گے۔ نیز قاضی یا عدالت عورت کے احوال دیکھ کر کوئی مدت طے کرےجو ایک ماہ سے کم نہ ہو اگراس مقررہ مدت میں بھی شوہر نہ آئے یا کسی قسم کا بیوی کے لیے انتظام نہ کرے تو عدالت فسخ نکاح کا فیصلہ کردے، عدالت کے فیصلے کے بعدعورت عدتِ وفات گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔(1)
البتہ اگر ایسی عورت کی دوسری شادی کے بعد اس کا پہلا شوہر لوٹ آئے تو مذکورہ خاتون کا نکاح اس کے پہلے شوہر سے بدستور قائم رہےگا، دوسرے شوہر کے ساتھ اس کا نکاح خود بخود باطل ہو جائے گا، اس صورت میں دوسرے شوہر سے اس وقت فوراً علیحدگی لازم ہوگی۔ (2)
(1) حیلہ ناجزہ میں ہے:
"اس عورت کی رہائی کے واسطے جو صورت باتفاق ائمہ صحیح ہے وہ تو یہ ہے کہ اس خاوند کو خلع پر راضی کیا جائے اور وہ سنگ دل خلع پر بھی راضی نہ ہو تو پھر اگر یہ عورت صبر کرکے اپنا زمانہ عفت میں گزار سکے تو بہتر ورنہ گزارہ اور نان نفقہ کی صورت ممکن نہ ہو تو سخت مجبوری میں یہ بھی گنجائش ہے کہ مذہبِ مالکیہ کے موافق صورت ذیل اختیار کرکے رہائی حاصل کرلے وہ صورت یہ ہے کہ اولاً قاضی کے پاس مقدمہ پیش کرکے گواہوں سے اس غائب کے ساتھ اپنا نکاح ہونا ثابت کرے، پھر یہ ثابت کریں کہ وہ مجھے نفقہ دے کر نہیں گیا،اور نہ وہاں سے اس نے میرے لیے نفقہ بھیجا، نہ یہاں کوئی انتظام کیا، نہ میں نے نفقہ معاف کیا، غرض نفقہ کا وجوب بھی اس کے ذمے ثابت کرے، اور یہ بھی کہ وہ اس واجب میں کوتاہی کررہا ہے، ان سب باتوں پر حلف بھی کرے، اس کے بعد اگر کوئی عزیز قریب یا اجنبی اس کی نفقہ کی کفالت کرلے تو خیر ورنہ قاضی اس شخص کے پاس حکم بھیجے کہ یا تو خود حاضر ہوکر اپنی بیوی کے حقوق ادا کرو، یا اس کو بلالو یا وہیں سے کوئی انتظام کرو ورنہ اس کو طلاق دے دو، اگر تم نے ان باتوں میں سے کوئی بات نہ کی تو پھر ہم خود تم دونوں میں تفریق کردیں گے، ، اس کے بعد بھی خاوند کوئی صورت نہ کرے تو قاضی ایک مہینے کے مزید انتظار کرنے کا حکم دے اس مدت میں بھی اگر اس کی شکایت رفع نہ ہوئی تو اس عورت کو اس غائب کی زوجیت سے الگ کردے۔۔۔۔ الخ"
(حکم زوجہ غائب غیر مفقود، تفریق کی صورت اور اس کی شرائط، ص:76/77، ط: دارالاشاعت)
(2)احسن الفتاوی میں ہے:
اگر دوسری جگہ نکاح کرنے کے بعد پہلا شوہر واپس آگیا تو اس کے احکام یہ ہیں:
(1)یہ عورت اسی پہلے شوہر کو ملے گی، جدید نکاح کی بھی ضرورت نہیں، پہلا نکاح ہی کافی ہے۔
(2)اگر دوسرے شوہر نے خلوتِ صحیحہ کی ہو تو کل مہر دے گا، اور عورت پر عدتِ طلاق واجب ہوگی، اگر خلوتِ صحیحہ نہ ہوئی ہو تو نہ مہر واجب ہوگا نہ عدت۔
(3)عدت پہلے شوہر کے پاس گزارے گی، مگر عدت گزارنے تک پہلے شوہر کے لیے جماع کرنا جائز نہیں۔
(4)اگر دوسرے شوہر سے حالتِ نکاح میں یا فسخِ نکاح کے بعد عدت گزرنے سے قبل اولاد پیدا ہوگئی تو یہ دوسرے شوہر سے ہوگی۔
(کتاب الطلاق، باب خیار الفسخ، حکم زوجہ مفقود، ج: 5، ص: 421، ط: سعید)
سنن أبی داؤد میں ہے:
"عن ثوبان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أيما امرأة سألت زوجها طلاقا في غير ما بأس، فحرام عليها رائحة الجنة."
ترجمہ: "حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو عورت بغیر کسی ضروری وجہ کے اپنے شوہر سے طلاق مانگے، اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔"
(كتاب الطلاق، باب في الخلع، رقم الحديث: 2226، ج: 2، ص: 268، ط: المكتبة العصرية)
سنن ترمذی میں ہے:
"عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أكمل المؤمنين إيمانا أحسنهم خلقا»، وخيركم خيركم لنسائهم."
ترجمہ: "حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے کامل مومن وہ ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہو، اور تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی عورتوں کے ساتھ سب سے بہتر سلوک کرے۔"
(أبواب النكاح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب ما جاء في حق المرأة على زوجها، ج: 2، ص: 454، ط: دار الغرب الاسلامي)
وفیہ ایضا:
"عن أم سلمة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أيما امرأة ماتت وزوجها عنها راض دخلت الجنة."
ترجمہ: حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو عورت مر جائے اور اس کا شوہر اس سے راضی ہو، وہ جنت میں داخل ہوگی۔"
(كتاب الطلاق، باب ما جاء في حق الزوج على المرأة، ج: 2، ص: 454، ط: دار الغرب الاسلامي )
سنن سعید ابن منصور میں ہے :
"حدثنا أبو قدامة، قال: نا علي بن الأحول، أن امرأة جاءت إلى الحسن، فقالت: يا أبا سعيد، إن زوجها صوام قوام، وإنها لم تحبه، أفتختلع منه؟ قال: لا، إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «المنتزعات والمختلعات هن المنافقات» . قالت: أعد علي ، فأعاد عليها الحديث، قالت: والله لأصبرن. فلما انصرفت قال الحسن: ما كنت أرى بقيت امرأة تصبر نفسها على مكروه لما بلغها من رسول الله صلى الله عليه وسلم."
ترجمہ:"ایک عورت حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کے پاس آئی اور کہا کہ اس کا شوہر عبادت گزار ہے مگر وہ اسے پسند نہیں کرتی، کیا وہ اس سے خلع لے سکتی ہے؟ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: نہیں، کیونکہ جنابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: بلا وجہ خلع لینے والی یا نکاح توڑنے والی عورتیں منافق ہیں۔ یہ سن کر عورت نے صبر کرنے کا فیصلہ کیا، اور اس کے چلے جانے کے بعد حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مجھے گمان نہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سن کر بھی کوئی عورت ناپسند چیز پر اپنے آپ کو صبر پر آمادہ کرلے گی۔"
(كتاب الطلاق، باب المرأة تسأل الزوج الطلاق، ج: 1، ص: 373، الدار السلفية - الهند)
صحیح بخاری کی روایت ہے:
عن ابن عباس:أن امرأة ثابت بن قيس أتت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله، ثابت بن قيس، ما أعتب عليه في خلق ولا دين، ولكني أكره الكفر في الإسلام، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (أتردين عليه حديقته). قالت: نعم، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (اقبل الحديقة وطلقها تطليقة)."
(كتاب الطلاق، باب: الخلع وكيف الطلاق فيه، ج: 5، ص: 2021، رقم الحديث: 4971، ط: دار ابن كثير)
ترجمہ: حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے ثابت بن قیس کے دین اور اخلاق میں کوئی اعتراض نہیں، لیکن میں اسلام میں رہتے ہوئے کفر کو ناپسند کرتی ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ان کا باغ واپس کر دو گی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باغ قبول کر لو اور اسے ایک طلاق دے دو۔
عمدۃ القاری میں ہے:
قوله: (وما أعتب) ،ويروى: وما أعيب، بالياء آخر الحروف من العيب أي: لا أغضب عليه، ولا أريد مفارقته لسوء خلقه ولا لنقصان دينه، ولكن أكرهه طبعا فأخاف على نفسي في الإسلام ما ينافي مقتضى الإسلام باسم ما ينافي في نفس الإسلام، وهو الكفر، ويحتمل أن يكون من باب الإضمار أي: لكني أكره لوازم الكفر من المعاداة والنفاق والخصومة ونحوها، وجاء في رواية جرير بن حازم إلا أني أخاف الكفر، قيل: كأنها أشارت إلى أنها قد تحملها شدة كراهتها على إظهار الكفر لينفسخ نكاحها منه، وهي تعرف أن ذلك حرام، لكن خشيت أن يحملها شدة البغض على الوقوع فيه. وقيل: يحتمل أن يريد بالكفر كفران العشير إذ هو تقصير المرأة في حق الزوج، وجاء في رواية ابن جرير: والله ما كرهت منه خلقا ولا ذنبا إلا أني كرهت دمامته، وفي رواية أخرى له قالت: يا رسول الله {لا يجمع رأسي ورأسه شيئا أبدا إني رفعت جانب الحياء فرأيته أقبل في عدة فإذا هو أشدهم سوادا وأقصرهم قامة وأقبحهم وجها … الحديث، وفي رواية ابن ماجه: كان رجلا دميما، فقالت: يا رسول الله} والله لولا مخافة الله إذا دخل علي بصقت في وجهه وعن عبد الرزاق عن معمر، قال: بلغني أنها قالت: يا رسول الله! وبي من الجمال ما ترى وثابت رجل دميم فإن قلت: جاء في رواية النسائي: أنه كسر يدها فكيف تقول لا أعتب … الخ؟ قلت: أردت أنه سيء الخلق لكنها ما تعيبته بذلك، ولكن تعييبها إياه كان بالوجوه التي ذكرناها. قوله: (حديقته) ، أي: بستانه الذي أعطاها. قوله: (وطلقها) الأمر فيه للإرشاد والاستصلاح لا للإيجاب والإلزام، ووقع في رواية جرير بن حازم: فردت عليه فأمره ففارقها."
(كتاب الطلاق، باب: الخلع وكيف الطلاق فيه، ج: 20، 263، ط: دار الفكر)
بخاری کی روایت ہے:
"عن ابن عباس رضي الله عنهما قال:جاءت امرأة ثابت بن قيس بن شماس إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله، ما أنقم على ثابت في دين ولا خلق، إلا أني أخاف الكفر، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (فتردين عليه حديقته). فقالت: نعم، فردت عليه، وأمره ففارقها.
حدثنا سليمان: حدثنا حماد، عن أيوب، عن عكرمة: أن جميلة، فذكر الحديث."
(كتاب الطلاق، باب: الخلع وكيف الطلاق فيه، ج: 5، ص: 2022، رقم الحديث: 4973، ط: دار ابن كثير)
ترجمہ: حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کی بیوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا:یا رسول اللہ! مجھے ثابت کے دین اور اخلاق میں کوئی شکایت نہیں، مگر مجھے اندیشہ ہے کہ (ان کے ساتھ رہتے ہوئے) میں کفر میں نہ پڑ جاؤں۔تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا تم ان کا باغ (جو انہوں نے مہر میں دیا تھا) واپس کر دو گی؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، چنانچہ انہوں نے باغ واپس کر دیا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت کو حکم دیا کہ وہ اسے طلاق دے دیں۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(ولو قضى على الغائب بلا نائب ينفذ) في أظهر الروايتين عن أصحابنا.
والحاصل: أنه لا خلاف عندنا في عدم جواز القضاء على الغائب، وإنما الخلاف في أنه لو قضى به من يرى جوازه هل ينفذ بدون تنفيذ أو لا بد من إمضاء قاض آخر ورأيت نحو هذا منقولا عن إجابة السائل عن بعض رسائل العلامة قاسم، وبه ظهر أن قول المصنف فيما مر، ولا يقضى على غائب بيان لحكم المذهب عندنا وقوله: هنا ولو قضى إلخ، حكاية للخلاف في النفاذ وعدمه.
وقال في جامع الفصولين: قد اضطربت آراؤهم وبيانهم في مسائل الحكم للغائب، وعليه ولم يصف ولم ينقل عنهم أصل قوي ظاهر يبنى عليه الفروع بلا اضطراب ولا إشكال فالظاهر عندي أن يتأمل في الوقائع، ويحتاط ويلاحظ الحرج والضرورات فيفتي بحسبها جوازا أو فسادا، مثلا لو طلق امرأته عند العدل فغاب عن البلد، ولا يعرف مكانه أو يعرف، ولكن يعجز عن إحضاره أو عن أن تسافر إليه هي أو وكيلها لبعده أو لمانع آخر، وكذا المديون لو غاب وله نقد في البلد أو نحو ذلك، ففي مثل هذا لو برهن على الغائب، وغلب على ظن القاضي أنه حق لا تزوير، ولا حيلة فيه فينبغي أن يحكم عليه وله، وكذا للمفتي أن يفتي بجوازه دفعا للحرج والضرورات وصيانة للحقوق عن الضياع مع أنه مجتهد فيه، ذهب إليه الأئمة الثلاثة وفيه روايتان عن أصحابنا، وينبغي أن ينصب عن الغائب وكيل يعرف أنه يراعي جانب الغائب ولا يفرط في حقه اهـ وأقره في نور العين
قلت: ويؤيده ما يأتي قريبا في المسخر، وكذا ما في الفتح من باب المفقود لا يجوز القضاء على الغائب إلا إذا رأى القاضي مصلحة في الحكم له وعليه فحكم فإنه ينفذ؛ لأنه مجتهد فيه اهـ.
قلت: وظاهره ولو كان القاضي حنفيا ولو في زماننا ولا ينافي ما مر؛ لأن تجويز هذا للمصلحة والضرورة."
(كتاب القضاء، فصل في الحبس، مطلب في قضاء القاضي بغير مذهبه، ج: 5، ص: 414، ط: سعيد)
وفیہ ایضا:
"(ولا بأس به عند الحاجة) للشقاق بعدم الوفاق.
(قوله: للشقاق) أي لوجود الشقاق وهو الاختلاف والتخاصم. وفي القهستاني عن شرح الطحاوي: السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما، فإن لم يصطلحا جاز الطلاق والخلع. اهـ. ط، وهذا هو الحكم المذكور في الآية."
(كتاب الطلاق، باب الخلع، ج: 3، ص: 226، ط: سعید)
وفیہ ایضا:
"(قوله: خلافا لمالك) فإن عنده تعتد زوجة المفقود عدة الوفاة بعد مضي أربع سنين، وهو مذهب الشافعي القديم وأما الميراث فمذهبهما كمذهبنا في التقدير بتسعين سنة، أو الرجوع إلى رأي الحاكم. وعند أحمد إن كان يغلب على حاله الهلاك كمن فقد بين الصفين أو في مركب قد انكسر أو خرج لحاجة قريبة فلم يرجع ولم يعلم خبره فهذا بعد أربع سنين يقسم ماله وتعتد زوجته، بخلاف ما إذا لم يغلب عليه الهلاك كالمسافر لتجارة أو لسياحة فإنه يفوض للحاكم في رواية عنه، وفي أخرى يقدر بتسعين من مولده كما في شرح ابن الشحنة، لكنه اعترض على الناظم بأنه لا حاجة للحنفي إلى ذلك أي؛ لأن ذلك خلاف مذهبنا فحذفه أولى. وقال في الدر المنتقى: ليس بأولى، لقول القهستاني: لو أفتى به في موضع الضرورة لا بأس به على ما أظن اهـ ."
(كتاب المفقود، ج: 4، ص: 295، ط: سعيد)
المبسوط للسرخسی میں ہے:ـ
"وأما تخييره إياه بين أن يردها عليه وبين المهر فهو بناء على مذهب عمر رضي الله عنه في المرأة إذا نعي إليها زوجها فاعتدت، وتزوجت ثم أتى الزوج الأول حيا إنه يخير بين أن ترد عليه وبين المهر، وقد صح رجوعه عنه إلى قول علي رضي الله عنه، فإنه كان يقول ترد إلى زوجها الأول، ويفرق بينها وبين الآخر، ولها المهر بما استحل من فرجها، ولا يقربها الأول حتى تنقضي عدتها من الآخر وبهذا كان يأخذ إبراهيم رحمه الله فيقول: قول علي رضي الله عنه أحب إلي من قول عمر رضي الله عنه، وبه نأخذ أيضا؛ لأنه تبين أنها تزوجت، وهي منكوحة ومنكوحة الغير ليست من المحللات بل هي من المحرمات في حق سائر الناس كما قال الله تعالى: {والمحصنات من النساء} [النساء: 24] فكيف يستقيم تركها مع الثاني، وإذا اختار الأول المهر، ولكن يكون النكاح منعقدا بينهما فكيف يستقيم دفع المهر إلى الأول، وهو بدل بضعها فيكون مملوكا لها دون زوجها كالمنكوحة إذا وطئت بشبهة، فعرفنا أن الصحيح أنها زوجة الأول، ولكن لا يقربها لكونها معتدة لغيره كالمنكوحة إذا وطئت بالشبهة."
(كتاب المفقود، ج: 11، ص: 37، ط: مطبعة السعادة - مصر)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144707102322
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن