
زید نے اپنا ایک معمول بنایا ہوا ہے کہ اپنی ہر آمدن میں سے کچھ حصہ بطور نفلی صدقہ کے الگ کرکے اپنے پاس ایک فنڈ کی شکل میں جمع کرتارہتاہے اور پھر اس فنڈ کے متولی کی حیثیت سے ضرورت مندوں میں خرچ کرتارہتاہے. اب سوال یہ ہے کہ زید خود مقروض ہوگیا ہے تو کیا وہ اس اپنے ہی دیئے ہوئے نفلی صدقہ کی جمع شدہ رقم سے اپنے قرض کی ادائیگی کےلیے کچھ رقم وصول کرسکتا ہے؟ حالانکہ یہ وصول کرنا ایسا ہوجائےگا کہ زید خود ہی صدقہ کرنے والا اور خود ہی اس فنڈ کے متولی کی حیثیت سے تقسیم کرنے والا اور خود ہی ضرورت مند بن کر وصول کرنے والا. تو کیا ان تمام صورتِ حال کے مطابق یہ درست ہوگا؟
صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص کا اپنی آمدن میں سے کچھ حصہ نفلی صدقہ کی نیت سے الگ کردینا،یہ صدقہ کا ارادہ ہے ،اس طرح الگ کرنے سے وہ مال ابھی صدقہ نہیں ہوا ،بلکہ ابھی اس شخص کی ملکیت میں باقی ہے ،چنانچہ جب تک صدقہ نہ کردے اس سے پہلے پہلے تک ضرورت پڑنے پر خود بھی استعمال کرسکتا ہے۔
البتہ جب کسی مال کو اللہ کے نام پر الگ کرکے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا ارادہ کر لیا جائے تو بہتر اور مناسب یہی ہے کہ اس کواللہ کی راہ میں ہی خرچ کیا جائے ۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"(الباب الثاني عشر في الصدقة) . الصدقة بمنزلة الهبة في المشاع وغير المشاع وحاجتها إلى القبض، إلا أنه لا رجوع في الصدقة إذا تمت ويستوي إن تصدق على غني أو فقير في أنه لا رجوع فيها ومن أصحابنا رحمهم الله تعالى من يقول الصدقة على الغني والهبة سواء، كذا في المحيط."
(کتاب الھبۃ، باب ثانی عشرفی الصدقۃ، ج نمبر ۴ ،ص نمبر۴۰۶، دار الفکر)
وفيه أيضا :
"رجل أخرج الدراهم من الكيس أو من الجيب ليدفعها إلى مسكين، ثم بدا له فلم يدفع فلا شيء عليه من حيث الحكم، كذا في السراجية...وعن الحسن البصري فيمن يخرج كسرة إلى مسكين فلم يجده قال: يضعها حتى يجيء آخر، وإن أكلها أطعم مثلها، قال إبراهيم النخعي مثله، وقال عامر الشعبي: هو بالخيار إن شاء قضاها، وإن شاء لم يقضها، لا تجوز الصدقة إلا بالقبض، وقال مجاهد: من أخرج صدقة فهو بالخيار إن شاء أمضى، وإن شاء لم يمض، وعن عطاء مثله، قال الفقيه أبو الليث - رحمه الله تعالى -: وهو المأخوذ به، كذا في المحيط"
(کتاب الھبۃ، باب ثانی عشرفی الصدقۃ، ج : 4،ص:408، دار الفکر)
فتاوی شامی میں ہے:
"ولا يخرج عن العهدة بالعزل بل بالأداء للفقراء۔۔۔
(قوله: ولا يخرج عن العهدة بالعزل) فلو ضاعت لا تسقط عنه الزكاة ولو مات كانت ميراثا عنه، بخلاف ما إذا ضاعت في يد الساعي لأن يده كيد الفقراء بحر عن المحيط."
(کتاب الزکاۃ،270/2، ط: دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704102129
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن