بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نفلی روزے میں متعدد نیتیں کرنا درست ہے


سوال

نفلی روزے میں ایک یا دو نیت کی جا سکتی ہے؟  مثلاً ایامِ بیض اور شوال کے روزے کی اکٹھی نیت کی جا سکتی ہے؟

جواب

کسی بھی نفلی عمل یا نفلی عبادت کی ادائیگی  میں ایک عمل کرتے ہوئے متعدد نفلی نیتیں کی جا سکتی ہیں؛ لہذا نفلی روزہ میں ایک سے زائد نیتیں، مثلاً  ایامِ بیض کے روزے اور شوال کے روزے کی نیت کی جا سکتی ہے  اور متعدد نیتیں کرنے پر اسی ایک روزے میں   ان تمام روزوں کا ثواب ملے گا۔ البتہ خاص فضیلت والے نفلی روزوں میں قضا وغیرہ کی نیت درست نہیں ہے۔

حاشیۃ الطحطاوی  میں ہے:

"ثم إنه إن جمع بين عبادات الوسائل في النية صح، كما لو اغتسل لجنابة وعيد وجمعة اجتمعت ونال ثواب الكل، وكما لو توضأ لنوم وبعد غيبة وأكل لحم جزور، وكذا يصح لو نوى نافلتين أو أكثر، كما لو نوى تحية مسجد وسنة وضوء وضحى وكسوف، والمعتمد أن العبادات ذات الأفعال يكتفي بالنية في أولها ولا يحتاج إليها في كل جزء اكتفاء بانسحابها عليها، ويشترط لها الإسلام والتمييز والعلم بالمنوى، وأن لا يأتي بمناف بين النية والمنوي".

(باب شروط الصلاة وأركانها، ١/ ٢١٦، ط: دارالكتب العلمية)
فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144710100859

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں