
سنن و نوافل دینی مشورہ سے مقدم ہے یا دینی مشورہ سنن و نوافل سے مقدم ہے؟
سنن ، نوافل اور دینی امور میں مشورہ تینوں نیکی کے کام ہیں۔کسی ایک کی وجہ سے دوسروں کو چھوڑنا نہیں چاہیے۔نیز فرائض کے بعد والی سنن فرائض کے بعد فورا ادا کرنی چاہیے، ان میں تاخیر مکروہ ہے، لہذا مشورہ کے لیے ان سنن کو موخر نہیں کرنا چاہیے باقی وہ نوافل جو کسی خاص وقت کے ساتھ متعلق ہوتی ہیں ان کے وقت میں وسعت ہوتی ہے لہذا کسی وقت میں دینی امور میں مشورہ اور نفل جمع ہوجائیں تو نفل کو بعد میں ادا کیا جاسکتا ہے، لیکن اگر کوئی نفل ادا کرتا ہے اور مشورہ میں شرکت کو موخر کرتا ہے تو اس کو بھی غلط نہیں کہا جائے گا۔
ملاحظہ: سائل کے سوال کا منشأ اگر کچھ اور ہے وضاحت سے لکھ کر معلوم کریں۔
الدر المختار میں ہے:
"ويكره تأخير السنة إلا بقدر اللهم أنت السلام إلخ. قال الحلواني: لا بأس بالفصل بالأوراد واختاره الكمال. قال الحلبي: إن أريد بالكراهة التنزيهية ارتفع الخلاف."
(فتاوی شامی،کتاب الصلاۃ، ج:1،ص:530،ایچ ایم سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709101245
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن