
میری بیوی کچھ مہینوں سے مجھ سے ناراض ہے،اور الگ کمرے میں رہتی ہے ، میرےبچوں کو اس کے خاندان والوں سے ملنے نہیں دیتی،اور نہ مہمانوں کو بغیر اجازت آنے دیتی ہے، اسی طرح وہ جائدادمیں بھی حصے کا تقاضہ کر رہی ہے جب کہ اس نے نہ کبھی ملازمت کی ہے اور نہ ہی اس گھر میں مالی حصہ ڈالا ہے،وہ براہ راست طلاق کا مطالبہ نہیں کرتی ،البتہ مجھ سے علیحدگی چاہتی ہے۔
(1)اب سوال یہ ہے کہ اس صورت حال میں جب کہ وہ بیوی کی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی ہے اور ازدواجی تعلق بھی قائم نہیں ہے، کیا میں پھر بھی ان کے ذاتی اخراجات اٹھانے کا ذمہ دار ہوں اور اس کے علیحدہ رہائش کے مطالبہ کو پورا کرنے کا پابند ہوں؟نیز جب بیوی نہ طلاق چاہتی ہو اورہی شوہر کو خاندان کا سربراہ اور نگہبان کی حیثیت سے تسلیم کرتی ہو اور نہ ہی شوہر کے حقوق وفرائض ادا کرتی ہو تو اس صورت میں شوہر کو کیا قدم اٹھانا چاہیے؟کیا شوہر اس بات کا پابند ہے کہ وہ بیوی کو علیحدہ گھر دے جہاں وہ شوہر کے بغیر اکیلی رہ سکےاور زیادہ وقت اکیلی رہےاور شوہر کچھ وقت کے لیے ملنے آئے؟
(2)اگر بیوی جائیداد میں اپنا نام شامل کرنے کا مطالبہ کرے جب کے اس نے کبھی ملازمت نہیں کی اور نہ ہی اس گھر میں مالی حصہ ڈالا ہے تو کیا شوہر شرعا اس کا پابند ہے؟
(3)کیا شریعت اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ وہ میرے بچوں کو ان کی دادی تایا پھوپھو وغیرہ سے ملنے سے روک سکے،یا شوہرکے رشتہ داروں کو گھر آنے سے روک سکے، جب کہ وہ اس کے بیڈروم اور لیونگ روم میں داخل نہیں ہوتے؟
ازدواجی زندگی کو پرسکون اور خوشگوار بنانے کے لیے ضروری ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق حسن سلوک سے ادا کریں۔ شریعت مطہرہ نے دونوں پر باہمی ذمہ داریاں عائد کی ہیں ۔ چناچہ قرآن مجید میں اور احادیث مبارکہ میں شوہر کو بیوی کے ساتھ حسن معاشرت اور بھلائی کی تاکید کی گئی ہے، اور بیوی کو شوہر کی اطاعت وفرمان برداری کا حکم دیا گیا ہے، نیز شوہر کے مقام ومرتبہ کو واضح کیاگیا ہے۔چناچہ آپ ۡﷺ کا ارشاد مبارک ہے : اگر میں کسی کو کسی کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو بیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔اسی فرمان برداری کا ایک اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ جب شوہر اپنی طبعی ضرورت پوری کرنے کے لیے بیوی کو بلائے تو وہ بلا عذر انکار نہ کرے۔ اس سلسلے میں واضح تعلیمات واردہوئی ہیں۔ چناچہ ارشاد مبارک ہے:جب آدمی اپنی بیوی کو اپنی حاجت کے لیے بلائےاور وہ انکار کرے ، اور شوہر ناراض ہو کر رات گزارے، تو صبح تک فرشتے اس عورت پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔ ایک دوسری روایت میں ہے؛ جب شوہر بیوی کو اپنی حاجت کے لیے بلائے تو وہ اس کے پاس چلی جائے، اگرچہ وہ تنور پر روٹی پکا رہی ہو۔اور اگر بیوی نافرمانی پر اتر آئے تو شریعت نے اس کی اصلاح کے لیے تدریجی طریقہ اختیار کرنے کی تعلیم دی ہے، جس کاذکر قرآن مجید میں موجود ہے:پہلا درجہ: نرمی اور حکمت سے سمجھانا اور نصیحت کرنا ۔ دوسرا درجہ:اگر محض نصیحت مؤثر نہ ہو تو شوہر اپنا بسترایک کمرہ میں رہتے ہوئے الگ کردے تاکہ اسے شوہر کی ناراضگی کا احساس ہو اور اپنے فعل پر نادم ہو۔ تیسرا درجہ:اگر اس طرح کی شریفانہ تنبیہ سے بھی متاثر نہ ہو تو پھر شرعاً تأدیب کے لیے ہلکی مارکی بھی اجازت دی گئی ہے ،جس سے اس کے بدن پر نشان نہ پڑے۔
(1) مذکورہ تفصیل کی رو سے صورتِ مسئولہ میں سائل نے اپنی بیوی کے رویہ سے متعلق جو کچھ لکھا ہے اگر یہ تفصیل درست ہوتو واقعُۃًبیوی کا یہ طرز عمل خلاف شرع ہے۔بیوی پر لازم ہے کہ اپنے اس طرز عمل سے باز آجائے شوہر کے تمام شرعی وجائز حقوق ادا کرے اس میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی نہ کرے، ورنہ سخت گناہ گار ہوگی ، باقی چونکہ بیوی شوہر کے گھر میں رہ رہی ہے، شوہر کے گھر سے اپنے والدین وغیرہ کے گھر نہیں گئی ، بلکہ اپنے آپ کو شوہر کے گھر میں مقید رکھا ہوا ہے اگرچہ علیحدہ کمرے میں رہتی ہے۔نیز ازدواجی تعلق بھی قائم کرنے نہیں دیتی ، اس کے باوجود سائل پر اپنی بیوی کا نان ونفقہ لازم ہے۔زیر نظر مسئلہ میں اگر سائل نے بیوی کو ایک علیحدہ کمرہ دیا ہوا ہےجس میں صرف بیوی کا عمل دخل ہو تو ایسی صورت میں بیوی کو علیحدہ گھر کا مطالبہ کرنے کا شرعاً حق نہیں ہے،البتہ اس گھر میں بیوی کو علیحدہ باتھ روم ،غسل خانہاور علیحدہ باورچی خانے کے مطالبہ کا شرعاً حق حاصل ہے۔
لہذا اگر شوہر بیوی کے حقوق بھی ادا کر رہا ہو اور مناسب نفقہ اور رہائش کا انتطام بھی کرچکا ہو، اور اصلاح کے تمام مناسب طریقے بھی اختیار کرچکا ہو،اس کے باوجود ازدواجی زندگی میں ہم آہنگی پیدا نہ ہو سکے اور بیوی مسلسل نافرمانی پر قائم رہے تو ایسی صورت میں نکاح کا مقصد (عفت وسکون )فوت ہوجاتا ہے۔چناچہ ایسی مجبوری کی حالت میں شریعت نے شوہر کو طلاق کااختیار دیا ہے تاکہ دائمی نزاع اور گناہ کے اندیشے سے بچا جا سکے ، ایسی صورت میں طلاق دینے سے شوہر گناہ گار بھی نہیں ہوگا۔
(2)ہر شخص اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کا مالک خود ہوتا ہے اس میں ہر جائز تصرف کرسکتا ہے، اور صاحب جائداد کی زندگی میں اس کی جائداد میں اس کی اولاد، بیوی وغیرہ کا شرعاً کوئی حق وحصہ نہیں ہوتا، اور ہی کسی کو مطالبہ کا حق حاصل ہوتا ہے۔لہذا بیوی کا شوہر کی زندگی میں جائداد کا مطالبہ کرنا شرعاًدرست نہیں ہے۔
(3)بیوی کا بلاوجہ بچوں کو دادای تایا اور پھوپھو وغیرہ سے ملنے سے روکنا قطع رحمی ہے جس سے بچنا چاہیے ، احادیث میں قطع رحمی کرنے والے کے لیے سخت وعیدیں آئی ہیں۔نیز بیوی کا شوہر کے مہمانوں کو گھر آنے سے منع کرنا بھی درست نہیں ہے جب کہ وہ اس کے کمرے میں بھی داخل نہیں ہوتے، کیوں کہ گھر شوہر کی ملکیت ہے ، اور کسی کو حق نہیں کہ اسے اپنے ملکیت میں تصرف سے روکے۔
قرآن کریم میں ہے:
﴿وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا (34)﴾ [النساء: 34]
ترجمہ:"اور جو عورتیں ایسی ہوں کہ تمہیں ان کی بد دماغی کا احتمال ہو تو ان کو زبانی نصیحت کرو اور ان کو ان کے لیٹنے کی جگہ میں تنہا چھوڑ دو اور ان کو مارو،پھر اگر وہ تمہاری اطاعت کرنا شروع کریں تو ان پر بہانہ مت ڈھونڈو۔"
مشکوۃ المصابیح میں ہے:
"عن أبي هريرةؓ قال: قال رسول الله ﷺ: لو كنت آمرا أحدا أن يسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها."رواه الترمذي.
(كتاب النكاح، باب عشرة النساء،الفصل الثاني، ج:3، ص:228، ط:البشرى)
وفيه أيضاً:
"عن أبي هريرةؓقال: قال رسول الله ﷺ:إذا دعا الرجل إمرأته إلى فراشه فأبت فبات غضبان لعنتها الملائكة حتى تصبح"متفق عليه. وفي رواية لهما قال:والذي نفسي بيده مامن رجل يدعو إمرأته إلى فراشه فتأبى عليه إلا كان الذي في السماء ساخطا عليها حتى يرضى عنها."
(كتاب النكاح، باب عشرة النساء،الفصل الأول، ج:3، ص:225، ط:البشرى)
وفيه أيضاً:
"عن طلق بن عليؓ قال: قال رسول الله ﷺ: إذا الرجل دعا زوجته لحاجته فلتأته وإن كانت على التنور."رواه الترمذي."
(كتاب النكاح، باب عشرة النساء،الفصل الثاني، ج:3، ص:228، ط:البشرى)
بخاری شریف میں ہے:
"لا يدخل الجنة قاطع"
ترجمہ: "رشتہ داری توڑنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔"
(باب إثم القاطع، ج:2، ص:1708، ط:البشرى)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"تجب على الرجل نفقة إمرأته المسلمة والذمية والفقيرة والغنية دخل بها أو لم يدخل،كبيرة كانت المرأة أو صغيرة ،يجامع مثلها، كذا في فتاوى قاضي خان.سواء كانت حرة أو مكاتبة ، كذا في الجوهرة النيرة."
(كتاب الطلاق، الباب التاسع عشر في النفقات، ج:1،ص:344، ط:رشيديه)
وفيه أيضاً:
"تجب السكنى لها عليه في بيت خال عن أهله وأهلها إلا أن تختار ذلك.....إمرأة أبت أن تسكن مع ضرتها أو مع أحمائها كأمه وغيرها،فإن كان في الدار بيوت ،وفرغ لها بيتا، وجعل لبيتها غلقا على حدة، ليس لها أن اطلب من الزوج بيتا آخر."
(الباب السابع في النفقات، الفصل الثاني في السكنى، ج:1،ص:556، ط:رشيديه)
شرح المجلّہ میں ہے:
"لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي."
(شرح المجلة لخالد الأتاسي ،ج:1، ص:264، ماده:97، ط:مكتبه اسلاميه ميزان ماركيت كوئته)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144708102382
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن