بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نافرمان بیوی کے نان ونفقہ اور بچی کی ولادت کے خرچہ کا حکم


سوال

1۔ میں نے اپنی اہلیہ کی ضد اور بار بار والدین کے گھر جانے کے اصرار کی وجہ سے تنگ آکر ان کو ان کی والدین کے گھر چھوڑ آیا، تقریبا ایک مہینہ  بعد میں اور  میرے بڑے بھائی سسر صاحب کے ایک دوست کے پاس  گئے، ہم نے ان سے  کہا کہ ہم گھر بسانا چاہتے ہیں، میری اہلیہ کو میرے ساتھ بھیجا جائے، تو انہوں نے میرے سسر سے رابطہ کیا  تو سسر صاحب نے جواب دیا کہ ہم گھر والوں کا متفقہ فیصلہ ہے کہ ہم گھر بسانا نہیں چاہتے، ہمارا ان کے ساتھ نباہ نہیں ہوسکتا، تقریباً ڈیڑھ مہینہ پہلے میری بچی کی پیدائش ہوئی تھی، لیکن مجھے ایک مہینہ بعد کسی اور سے اطلاع ملی کہ میری بیٹی ہوئی ہے، تو کیا ایسی صورتِ حال  میں سسرال والوں کا  بیوی کے نان ونفقہ اور بچہ کے ڈلیوری کا مطالبہ کرنا درست ہے؟جب کہ ابھی تک آٹھ مہینے ہوچکے ہیں، لیکن  وہ میرے گھر آنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

2۔جب میری بائیک چوری ہوگئی تھی تو  بیوی نےاپنی خوشی اور رضامندی سے ایک لاکھ روپے دیے تھے تاکہ میں اپنے لیے بائیک خرید لوں،کوئی قرض وغیرہ کی بات نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی  بعد میں لوٹانے کا کہاگیا تھا، اب سسر ان پیسوں کا بھی مطالبہ کررہے ہیں تو کیا ان کایہ  مطالبہ درست ہے؟

3۔ بچی کا خرچہ کتنی عمر تک والد کے ذمہ لازم ہے؟

4۔عورت اگر شوہر سے علیحدہ ہونے کے بعد دوسری شادی کرلے تو بچی کس کے پاس رہے گی؟

جواب

1۔ صورتِ مسئولہ میں جب بیوی شوہر کی اجازت اور رضامندی کے بغیر اپنے میکے بیٹھی ہوئی ہے، شوہر کے ساتھ گھر بسانے کے لیے نہیں آتی، اور بچی کی ولادت کا خرچ بھی شوہر کی اجازت اور اطلاع کے بغیر کیا ہے، تو ایسی صورت میں سسرال والوں کا شوہر سے بیوی کے نان ونفقہ اور بچی کی ولادت کے خرچ کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہوگا،  البتہ اگر بیوی شوہر کے گھر  آجائے تو پھر شوہر کے ذمہ اس کا نان ونفقہ لازم ہوگا۔

2۔ اگر واقعتاً بیوی نے اپنی رضامندی سے مذکورہ رقم شوہر کو بائیک خریدنے کےلیے  ہدیہ کی تھی تو پھر بیوی  کے لیے مذکورہ رقم کا مطالبہ کرنا جائز نہیں۔ 

3۔ بچی کی شادی ہونے تک اس کا نان ونفقہ اور دیگر ضروری خرچ والد کے ذمہ لازم ہے،البتہ  شادی کے بعد شوہر کے ذمہ  لازم ہوگا۔

4۔ بچی کی پرورش شرعاً نو سال کی عمر تک ماں کے ذمہ لازم ہوتی ہے، نو سال کے بعد پرورش کا حق والد کو حاصل ہوتا ہے، البتہ اگر بچی کی ماں طلاق  کے بعد بچی کے غیر محرم سے شادی کر لے،تو اس کا حقِ پرورش ساقط ہو جائے گا،اس کے بعد یہ   بچی نانی کے پاس مذکورہ مدت تک رہے گی،  اگر نانی زندہ نہ ہو یا وہ  پرورش کے قابل نہ ہو تو پھر حقِ پرورش دادی کو منتقل ہوگا، اور وہ بچی کی پرورش کرے گی۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وإن نشزت فلا نفقة لها حتى تعود إلى منزله والناشزة هي الخارجة عن منزل زوجها المانعة نفسها منه."

(كتاب الطلاق، الباب السابع عشر في النفقات، الفصل الأول في نفقة الزوجة، 1/ 545، ط: دار الفكر)

فتاوی شامی میں ہے:

"‌وفيه ‌أجرة ‌القابلة ‌على ‌من ‌استأجرها ‌من ‌زوجة ‌وزوج ‌ولو ‌جاءت بلا استئجار، قيل عليه وقيل عليها."

(كتاب الطلاق، باب النفقة، 3/ 580، ط: سعيد)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"(ومنها الزوجية) سواء كان أحد الزوجين مسلما أو كافرا، كذا في الاختيار شرح المختار. وإذا وهب أحد الزوجين لصاحبه لا يرجع في الهبة، وإن انقطع النكاح بينهما."

(كتاب الهبة، الباب الخامس في الرجوع في الهبة، 4/ 386، ط: دار الفكر)

وفيه أيضا:

"‌ونفقة ‌الإناث واجبة مطلقا على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهن مال كذا في الخلاصة."

(كتاب الطلاق،  الباب السابع عشر في النفقات، الفصل الرابع في نفقة الأولاد، 1/ 563، ط: دار الفكر)

فتاوی شامی میں ہے:

 "(والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء، وقدر بسبع، وبه يفتى؛ لأنه الغالب. ولو اختلفا في سنه، فإن أكل وشرب ولبس واستنجى وحده دفع إليه ولو جبراً وإلا لا، (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية. ولو اختلفا في حيضها فالقول للأم، بحر بحثاً.

وأقول: ينبغي أن يحكم سنها ويعمل بالغالب. وعند مالك، حتى يحتلم الغلام، وتتزوج الصغيرة ويدخل بها الزوج عيني (وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع، وبه يفتى."

(باب الحضانة، 3/ 566، ط: سعید)

وفيه أيضا:

"(ثم) أي بعد الأم بأن ماتت، أو لم تقبل أو أسقطت حقها أو تزوجت بأجنبي (أم الأم) وإن علت عند عدم أهلية القربى (ثم أم الأب وإن علت) بالشرط المذكور، وأما أم أبي الأم فتؤخر عن أم الأب بل عن الخالة أيضا بحر (ثم الأخت لأب وأم ثم لأم) لأن هذا الحق لقرابة الأم (ثم) الأخت (لأب) ثم بنت الأخت لأبوين ثم لأم ثم لأب (ثم الخالات كذلك) أي لأبوين، ثم لأم ثم لأب، ثم بنت الأخت لأب ثم بنات الأخ (ثم العمات كذلك) ثم خالة الأم كذلك، ثم خالة الأب كذلك ثم عمات الأمهات والآباء بهذا الترتيب."

(باب الحضانة، 3/ 563، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705100749

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں