بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 صفر 1448ھ 10 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

نافرمان بیٹی کوعاق کرنے کا حکم


سوال

ایک شخص کی آٹھ بیٹیاں ہیں، اوران میں سے چھ شادی شدہ ہیں، سب کے چار چار،پانچ پانچ بچے ہیں، ایک بیٹی والدین کی بہت نافرمان ہے، والدین کوکافراورظالم تک کہتی ہے، یہ پانچ بچوں کی ماں ہے، اس کاشوہر،سسرلوگ سب موجودہیں، اوراپنامکان بھی ہے، یہ بیٹی والدین سےان کی زندگی میں ہی  اپناحصہ مانگ رہی ہے، حالاں کہ والدین سےدعاسلام نہیں رکھتی، بات چیت بھی نہیں کرتی، والدین سے کہتی ہے کہ میں آپ کوبہت ذلیل ورسواکروں گی۔

یہ اپنے پانچ بچوں  سمیت والدین کے گھرآکربیٹھ چکی ہے،والدین سے کوئی بات چیت نہیں کرتی،کہتی ہے کہ ہمیں کون نکال سکتاہے، والدین اس وجہ سے رشتہ داروں کے گھرچلے گئے ، والد ین نے اس کی شادی بڑی عزت سے اپنے خاندان میں کی،دینی تعلیم بھی اس کودی، اس کے باوجودوالدین کوکتااورظالم کہتی ہے، اوروالدین کی زندگی میں ہی اپناحصہ مانگتی ہے، اگروالدین ا سے نصیحت کریں کہ اپنے ایمان عزت ا ورحیاکاخیال رکھو،توجواب میں والدین کوکہتی ہےکہ ابھی میں آپ لوگوں کوذلیل ورسواکروں گی، نہ اپنے ایمان کاخیال کروں گی اورنہ اپنی حیا کامجھے کوئی خیال ہوگا۔

لہٰذاوالد اگرایسی بیٹی کو فتنہ کی وجہ سےعاق کردے،توایسی صورت میں شریعت کاکیاحکم ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں سائل کااپنی مذکورہ بیٹی کواس کی نافرمانی کی وجہ سے عاق کرنایعنی مرنے کے بعدوراثت سے محروم کرناجائز نہیں ہے،البتہ سائل کویہ اختیارہے کہ وہ اپنی زندگی میں ہی اگراولاد کے درمیان اپنا مال واسباب تقسیم کرناچاہے،تواس میں تمام اولاد کوبرابرسرابرحصہ دے دے،اورمذکورہ بیٹی کواس کی نافرمانی کی وجہ سے کچھ کم حصہ دے دے لیکن بالکل ہی محروم نہ کرے۔

السراجی  فی المیراث میں ہے :

"موانع الارث  اربع اربعة : الرق وافرا  ََکان او ناقصاََ، ولقتل الذی یتعلق بہ وجوب القصاص اوالکفارۃ ،واختلاف الدینین ،واختلاف الدارین "

(فصل فی الموانع، ص:12، ط:مکتبة بشریٰ)

تکملہ  ردالمحتار  میں ہے :

"الارث جبری لا یسقط بالاسقاط "

(فصل فی دفع الدعاویٰ، ج:11، ص:644، ط:مکتبة غفاریة)

البحرالرائق میں ہے :

"يكره تفضيل بعض الأولاد على البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين وإن وهب ماله كله الواحد جاز قضاء وهو آثم كذا في المحيط  ، وفي الخلاصة المختار التسوية بين الذكر والأنثى في الهبة ولو كان ولده فاسقا فأراد أن يصرف ماله إلى وجوه الخير ويحرمه عن الميراث هذا خير من تركه لأن فيه إعانة على المعصية"

(کتاب الھبة، ج : 7، ص:490، ط:مکتبة حبیبیة)

فقط واللہ اعلم

 


فتویٰ نمبر : 144802100913

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں