
میرا نکاح ڈیڑھ سال پہلے ہوا تھا جب کہ رخصتی کو تقریباً 6 ماہ ہوئے ہیں۔ میری اہلیہ کی عمر 22 سال ہے۔ رخصتی سے پہلے وہ کہتی تھیں کہ اپنی بعض عادات کو بہتر کر لیں گی، لیکن اب معاملہ اس کے برعکس محسوس ہوتا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ جب میں انہیں نماز پڑھنے یا قرآنِ پاک کی تلاوت کی تلقین کرتا ہوں تو وہ ناراض ہو جاتی ہیں اور اکثر اس بات پر جھگڑا بھی کرتی ہیں۔ اسی طرح انہیں اپنی والدہ اور بہن کے ساتھ باہر جانے، خریداری یا دیگر مصروفیات میں کافی وقت گزارنے کا شوق ہے، اور بعض اوقات دیر رات تک باہر رہتی ہیں۔ جب میں انہیں نرمی سے سمجھاتا ہوں کہ دیر رات تک باہر رہنا مناسب نہیں، تو وہ کہتی ہیں کہ انہیں اس سے قید محسوس ہوتی ہے۔
مزید یہ کہ وہ کہیں جانے کے لیے مجھ سے اجازت لینا پسند نہیں کرتیں، اور غصے میں مجھے سخت الفاظ بھی کہہ دیتی ہیں، جنہیں میں گھر کا سکون برقرار رکھنے کے لیے برداشت کرتا رہا ہوں۔ اگرچہ ان کا رویہ میرے والدین کے ساتھ اچھا ہے، لیکن زبان کی سختی، بات بات پر لڑائی، بلا ضرورت زیادہ باہر رہنے کی رغبت، نماز میں غفلت، اور سخت الفاظ کہنا — یہ چیزیں مجھے بہت تکلیف دیتی ہیں۔ میں اپنی اہلیہ کو طلاق دینا نہیں چاہتا، بلکہ اصلاح اور گھر کے سکون کا خواہش مند ہوں۔ لیکن اب مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اس معاملے کو کس حکمت اور طریقے سے سنبھالوں۔ یہ خوف بھی لاحق رہتا ہے کہ آئندہ اللہ تعالیٰ اولاد عطا فرمائے تو کہیں ان پر بھی یہی عادات اثر انداز نہ ہوں۔
براہِ کرم شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں کہ میں اپنی اہلیہ کے ساتھ کس طرح معاملہ کروں؟ نیز اگر کوئی دعا یا وظیفہ ہو جس سے اللہ تعالیٰ ان کے دل میں نرمی، دین کی رغبت اور گھریلو زندگی میں بہتری عطا فرمائے تو وہ بھی ارشاد فرما دیں۔
شریعت نے بیوی کو اپنے شوہر کی اطاعت اور فرمانبرداری کا حکم دیا، ارشادِ نبویﷺ ہے: "(بالفرض) اگر میں کسی کو کسی کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو بیوی کو کہتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے، اسی اطاعت شعاری کا اسلام میں عورت کو شوہر کی مکمل فرمانبرداری کا حکم دیا گیا ہے، اگر شوہر بیوی کو کسی بات سے منع کر دے تو بیوی پر اس کی بات کا ماننا لازم ہے۔
جو عورت اللہ تعالی کی اطاعت اور اپنے شوہر کی فرماں برداری کرے، اس کے بارے میں حدیث شریف میں یہ فضیلت وارد ہوئی ہے کہ وہ کل قیامت کے دن جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہوجائے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "جس عورت نے (اپنی پاکی کے دنوں میں پابندی کے ساتھ) پانچوں وقت کی نماز پڑھی، رمضان کے (ادا اور قضا) رکھے، اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی اور اپنے خاوند کی فرماں برداری کی تو (اس عورت کے لیے یہ بشارت ہےکہ) وہ جس دروازہ سے چاہے جنت میں داخل ہوجائے۔
نیزبیوی بےنمازی ہےاور قرآن مجید کی تلاوت نہیں کرتی ہو تو شوہر کو چاہیےکہ اسے حکمت سے نماز اور قرآن مجید کی اہمیت اوراس کے فضائل سنائے ، حکمِ الٰہی کی عظمت اس کے سامنے بیان کرے، امید ہے کہ دل میں نرمی پیدا ہو اور بات اثر کرے، فرائض کے علاوہ سنن ونوافل اور تلاوت گھر میں ادا کرے اور بیوی کو اپنے ساتھ نماز پڑھوائے، گھر میں فضائل نماز اور قرآن کی تعلیم کا سلسلہ شروع کردیں، نیز اس کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کی جائے ۔ مایوس ہوئے بغیر کوشش کرتا رہے،نرمی سے بات قابو میں نہ آئے تو نماز کے ترک کرنے کی وجہ سے سختی بھی کی جاسکتی ہے۔
اگر نصیحت مؤثر ثابت نہ ہو توایک کمرہ میں رہتے ہوئے وقتی طور پر بستر الگ کر دے،تاکہ اسے شوہر كی ناراضگی كا احساس ہو اور اپنے اس فعل سے توبہ كرے۔ پھر بھی اصلاح نہ ہو تو مناسب حد تک تنبیہ کرے۔ اگر اس کے باوجود بیوی اطاعت پر آمادہ نہ ہو تو خاندان کے معزز، دیندار، مخلص اور معاملہ فہم بزرگ افراد کے سامنے معاملہ پیش کرے تاکہ وہ اس كی اصلاح کی کوشش کریں۔ اگر ان تمام تدابیر کے باوجود وہ نماز اور تلاوت کا اہتمام نہ کرے تو سائل گناہ گار نہیں ہوگا۔
نیز سائل کی ساس کو بھی اپنی بیٹی کی تربیت کرنی چاہیے،شوہر کی اجازت کے بغیر بیٹی کو باہر لے کر جانا اوررات دیر تک باہر رہنا ہرگز جائز نہیں ۔
البتہ مستقل اللہ تعالی سے اس کی اصلاح کے لیے دعا کرتارہے،اور ساتھ ہی ظاہر و باطن کی اصلاح کے لیے اس آیت کریمہ کو بطور ورد پڑھے!
" رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا"(سورہ الفرقان: 74)
ترجمہ:اے ہمارے پروردگار ہم کو ہماری بیبیوں اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک (یعنی راحت) عطا فرما اور ہم کو متقیوں کا افسر بنا دے۔(بیان القرآن)
مصنف ابن شیبہ میں ہے:
"حدثنا (عبد الرحيم) بن سليمان عن ليث عن عبد الملك عن عطاء عن ابن عمر قال: أتت امرأة نبي اللَّه صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول اللَّه! ما حق (الزوج)على امرأته؟ (قال): (لا تمنعه) نفسها ولو كانت على ظهر قتب (قالت): يا رسول اللَّه! ما حق الزوج على زوجته؟ (قال): (لا تصدق بشيء من بيته إلا بإذنه فإن فعلت [كان له الأجر، وعليها الوزر"، قالت: يا نبي اللَّه، ما حق الزوج على زوجته؟ قال: [لا تخرج من بيته الا لإذنه، فإن فعلت] لعنتها ملائكة اللَّه وملائكة الرحمة وملائكة الغضب حتى (تتوب) أو (ترجع) "، قالت: يا نبي اللَّه: فإن كان لها ظالمًا؟ قال: "وإن كان لها ظالمًا"، قالت: والذي بعثك بالحق لا يملك علي أحد أمري بعد هذا أبدًا ما بقيت"
(كتاب النكاح، ما حق الزوج على امرأته، ج:9، ص:467، ط :دار كنوز إشبيليا)
ترجمہ:حضرت ابن عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا " اے اللہ کے رسول ! بیوی پر خاوند کا کیا حق ہے؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ خاوند کا حق یہ ہے کہ بیوی اسے اپنے نفس سے منع نہ کرے خواہ وہ چکی پر بیٹھی ہو۔ اس عورت نے پھر سوال کیا " اے اللہ کے رسول بیوی پر خاوند کا کیا حق ہے؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ خاوند کے گھر سے کوئی چیز اس کی اجازت کے بغیر صدقہ نہ کرے۔ اگر اس نے ایسا کیا تو خاوند کو اجر اور بیوی کو گناہ ملے گا۔ اس عورت نے پھر عرض کیا اے اللہ کے رسول ! بیوی پر خاوند کا کیا حق ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا کہ عورت خاوند کی اجازت کے بغیر گھر سے نہ نکلے، اگر اس نے ایسا کیا تو اس پر اللہ کے فرشتے ، رحمت کے فرشتے اور غضب کے فرشتے اس وقت تک لعنت کرتے ہیں جب تک وہ تو بہ نہ کرلے یا واپس نہ آجائے ۔ اس عورت نے سوال کیا کہ خواہ اس کا خاوند ظالم ہی ہو؟ آپ نے فرمایا ہاں خواہ وہ ظالم ہی ہو۔ پھر عورت نے عرض کیا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر مبعوث فرمایا ہے آج کے بعد میں اپنے معاملے کا مالک کسی کو نہیں بناؤں گی "یعنی شادی نہیں کروں گی"۔
(ج:5، ص:250، ط:مكتبہ رحمانیہ )
مشکاۃ المصابیح میں ہے
"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: المرأة إذا صلت خمسها وصامت شهرها وأحصنت فرجها وأطاعت بعلها فلتدخل من أي أبواب الجنة شاءت . رواه أبو نعيم في الحلية."
( ج:1، ص:281، ط: قدیمی)
البحر الرائق میں ہے:
"(قوله بخلاف الزوج إذا عزر زوجته لترك الزينة والإجابة إذا دعاها إلى فراشه وترك الصلاة والخروج من البيت) يعني فماتت، فإنه يكون ضامنا ولا يكون دمها هدرا؛ لأنه مباح ومنفعته ترجع إليه كما ترجع إلى المرأة من وجه وهو استقامتها على ما أمر الله تعالى به، وقد ظهر بهذا أن كل ضرب كان مأمورا به من جهة الشارع، فإن الضارب لا ضمان عليه بموته وكل ضرب كان مأذونا فيه بدون الأمر فإن الضارب يضمنه إذا مات لتقييده بشرط السلامة كالمرور في الطريق وظهر أن الزوج لا يجب عليه ضرب زوجته أصلا وظهر به أيضا أن له ضربها في أربعة مواضع لكن وقع الاختلاف في جواز ضربها على ترك الصلاة فذكر هنا تبعا لكثير أنه يجوز وفي النهاية تبعا لما في كافي الحاكم أنه لا يجوز له؛ لأن المنفعة لا تعود إليه بل إليها وليس في كلام المصنف ما يقتضي أنه ليس له ضربها في غير هذه الأربعة أشياء ولهذا قال الولوالجي في فتاويه للزوج أن يضرب زوجته على أربعة أشياء وفي معناها ففي قوله وما في معناها إفادة عدم الحصر فما في معناها ما إذا ضربت جارية زوجها غيرة ولا تتعظ بوعظه فله ضربها كذا في القنية."
(کتاب الحدود،فصل في التعزير، ج:5، ص:53، ط:دار الكتاب الإسلامي)
فتاوی شامی میں ہے:
(قوله لا يجب على الزوج تطليق الفاجرة) ولا عليها تسريح الفاجر إلا إذا خافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس أن يتفرقا اهـ مجتبى والفجور يعم الزنا وغيره وقد «قال صلى الله عليه وسلم لمن زوجته لا ترد يد لامس وقد قال إني أحبها: استمتع بها» اهـ
(كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ج:6، ص :427، ط:سعید)
وفیۃ ایضاً:
"(قوله يعزر المولى عبده) قال في الفتح: وإذا أساء العبد الأدب حل لمولاه تأديبه، وكذا الزوجة."
(کتاب الحدود،فصل في التعزير، ج:4 ، ص :77، ط:سعید)
نفع المفتی والسائل میں ہے:
"الاسْتِفْسَارُ : هل يَجِبُ على الزَّوجِ تطليق الزوجة الفاجرة التي لا تصوم، ولا تُصلِّي، ولا تَنْزَجِرُ بِزَحْرِهِ؟
الاسْتِبْشَارُ : إذا اعتادت الزوجة الفسق، عليه الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر، والضرب فيما يجوز فيه، فإن لم تَنْزَجِرْ لَا يَحِبُ التَّطليق عليه؛ لأنَّ الزوج قد أَدَى حَقَّه، والإِثْمُ عليها."
(ما يتعلق بإطاعة الزوجات للأزواج وحقوقهم عليهن وحقوقهن عليهم،ص:410، ط :دار ابن حزم)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711101673
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن