بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نفل نماز میں متعدد نوافل کی نیتیں کرنا


سوال

مغرب كی نماز کے نفل میں کئی نیتیں کرنا جائز ہے مثلا اوابین، شکرانے، توبہ وغیرہ اسی طرح عشاء کی نماز کے نفل میں تہجد کی نیت کرنا صحیح ہے؟

جواب

ایک نفل نماز کی ادائیگی میں کئی  نوافل   کی نیتیں کی جا سکتی ہیں اور متعدد نیتیں کرنے پر ان ہی دو رکعتوں میں ان تمام نوافل کا ثواب ملے گا، اسی طرح عشاء کی نفل میں تہجد کی نیت کرنا بھی درست ہے البتہ  جس عمل کی نیت کر رہا ہو اس کا وقت اور موقع بھی ہونا ضروری ہے،  اگر کسی ایسے عمل کی یا کسی ایسے نفل کی نیت کی جس کا وہ وقت ہی نہیں تھا  پھر وہ اجر کا مستحق نہیں ہوگا، جیسےرات میں نفل پڑھتے وقت چاشت کی نیت لغو  ہے۔

یہ ملحوظ رہے کہ  ایک نفل میں متعدد نوافل کی نیت درست ہونے کا یہ مطلب  نہیں ہے کہ صرف دو رکعت نفل میں ساری نوافل کی نیت کر کے باقی نوافل کو مستقل طور پر چھوڑ دیا جائے، بلکہ یہ تو ضرورت کے موقع پر سہولت کے اَحکام ہیں، ورنہ حسبِ موقع جتنی توفیق ہو زیادہ سے زیادہ  نوافل پڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

حاشیۃ  الطحطاوی میں ہے:

"ثم إنه إن جمع بين عبادات الوسائل في النية صح، كما لو اغتسل لجنابة و عيد و جمعة اجتمعت و نال ثواب الكل، وكما لو توضأ لنوم وبعد غيبة وأكل لحم جزور، وكذا يصح لو نوى نافلتين أو أكثر، كما لو نوى تحية مسجد وسنة وضوء وضحى وكسوف، والمعتمد أن العبادات ذات الأفعال يكتفي بالنية في أولها ولايحتاج إليها في كل جزء اكتفاء بانسحابها عليها، ويشترط لها الإسلام والتمييز والعلم بالمنوى، وأن لايأتي بمناف بين النية والمنوي."

(باب شروط الصلاة وأركانها، ج:1، ص:216، ط: دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

" ولو نافلتين كسنة فجر وتحية مسجد فعنهما،(قوله ولو نافلتين) قد تطلق النافلة على ما يشمل السنة وهو المراد هنا (قوله فعنهما) ذكره في الأشباه ثم قال: ولم أر حكم ما إذا نوى سنتين كما إذا نوى في يوم الاثنين صومه عنه وعن يوم عرفة إذا وافقه فإن مسألة التحية إنما كانت ضمنا للسنة لحصول المقصود اهـ أي فكذا الصوم عن اليومين وأيده العلامة البيري بأنه يجزيه الصوم في الواجبين، ففي غيرهما أولى لما في خزانة الأكمل: لو قال لله علي أن أصوم رجبا ثم صام عن كفارة ظهار شهرين متتابعين أحدهما رجب أجزأه، بخلاف ما لو كان أحدهما رمضان، ولو نذر صوم جميع عمره ثم وجب صوم شهرين عن ظهار أو أوجب صوم شهر بعينه ثم قضى فيه صوم رمضان جاز من غير أن يلحقه شيء اهـ لكن ليس في هذا جمع بين نيتين بل هو نية واحدة أجزأت عن صومين، ولم يذكر الشارح هذه المسألة لأن كلامه في الصلاة ولا تتأتى فيها. ويمكن تصويره فيما لو نوى سنة العشاء والتهجد بناء على ما رجحه ابن الهمام من أن التهجد في حقنا سنة لا مستحب."

(کتاب الصلاۃ ،باب صفۃ الصلاۃ،ج:1،ص:440،ط:سعید)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144702100273

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں