بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اس وقت خاتم النبیین ہونا جب کہ حضرت آدم علیہ السلام مٹی اور پانی کے درمیان تھے


سوال

کیا یہ حدیث احادیث کی کتابوں میں موجود ہے؟ رہنمائی فرمائیں: 

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ میں اللہ تعالٰی کے نزدیک اس وقت ہی خاتم النبیین بن چکا تھا جس وقت حضرت آدم علیہ السلام مٹی اور پانی کے گارے کی شکل میں تھے۔

جواب

ـجس روایت کے بارے میں آپ نے دریافت کیا ہے ، وہ ان الفاظ کے ساتھ مذکور ہے:

"عن عرباض بن سارية، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إني عبد الله لخاتم النبيين، وإن آدم عليه السلام لمنجدل في طينته، وسأنبئكم بأول ذلك دعوت أبي إبراهيم، وبشارة عيسى بي، ورؤيا أمي التي رأتْ، وكذلك أمهات النبيين ترأين".

(مسند أحمد، الإمام أحمد ابن حنبل، مسند عرباض بن سارية، ط: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى، 1421ه-2001م، ج: 28، ص: 379،380، الرقم: 17150)

ترجمہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:" میں اللہ کا بندہ اس وقت خاتم النبیین تھا جب کہ آدم  مٹی پر تھے، اور میں تمہیں بتاتا ہوں کہ میں  شروع میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا ہوں، عیسی نے میری بشارت سنائی،  عیسی نے میرے آنے کی خوشخبری سنائی، اور میں اپنی ماں کا وہ خواب ہوں جو اس نے دیکھا، اور انبیا کی مائیں اسی طرح خوب دیکھتی ہیں"۔

امام حاکم نے اس رویت کو "مستدرک "  میں ذکر کرکے اس کو " صحیح "  کہا ہے، اور امام ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے:

"عن العرباض بن سارية، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «إني عند الله في أول الكتاب لخاتم النبيين وأن آدم ‌لمنجدل ‌في ‌طينته، وسأنبئكم بتأويل ذلك دعوة أبي إبراهيم وبشارة عيسى قومه، ورؤيا أمي التي رأت أنه خرج منها نور أضاءت له قصور الشام"َ.

(المستدرك على الصحيحين، أبو عبد الله حاكم، ط: دار الكتب العلمية، الطبعة الأولى، 1411ه-1990م، ج: 2، ص: 656، الرقم: 4175)

فقظ والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144503100190

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں