
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کو کتنے عرصے میں مکمل حفظ کیا؟
قرآن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر 23 سال کے عرصے میں تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہوا، اور جیسے جیسے قرآنی آیات نازل ہوتی رہتیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حفظ بھی ہوتی رہتیں۔
تفسیر مظہری میں ہے:
"(إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ) فى صدرك (وَقُرْآنَهُ )اثبات قرأته على لسانك تعليل للنهى.
(فَإِذا قَرَأْناهُ )اى القران بلسان جبرئيل أضاف قراءة جبريل الى نفسه مجازا لانه بامره ورسالته (فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ) قراءته يعنى فاقرأ بعد قراءة جبريل حتى يرسخك فى ذهنك."
(التفسير المظهري، [القيامة: 18-19]،10/ 139،الناشر: مكتبة الرشيدية - الباكستان)
معارف القرآن میں ہے:
"چنانچہ ابتدا ئے اسلام میں قرآن کریم کی حفاظت کے لئے سب سے زیادہ زور حافظہ پر دیا گیا ، شروع شروع میں جب وحی نازل ہوتی تو آپ اُس کے الفاظ کو اُسی وقت دہرانے لگتے تھے ، تاکہ وہ اچھی طرح یاد ہو جائیں ، اس پر سورۂ قیامہ کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہدایت فرمائی کہ قرآن کریم کو یاد رکھنے کے لئے آپ کو عین نزول وحی کے وقت جلدی جلدی الفاظ دہرانے کی ضرورت نہیں،
اللہ تعالیٰ خود آپ میں ایسا حافظہ پیدا فرمادے گا کہ ایک مرتبہ نزول وحی کے بعد آپ اُسے بھول نہیں سکیں گے، چنانچہ یہی ہوا کہ ادھر آپ پر آیات قرآنی نازل ہوئیں اور اُدھر وہ آپ کو یاد ہو جاتیں،اس طرح سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ مبارک قرآن کریم کا سب سے زیادہ محفوظ گنجینہ تھا ، جس میں کسی ادنی غلطی یا ترمیم و تغیر کا امکان نہیں تھا، پھر آپ مزید احتیاط کے طور پر ہر سال رمضان کے مہینے میں حضرت جبرئیل علیہ السلام کو قرآن سنایا کرتے تھے ، اور جس سال آپ کی وفات ہوئی اس سال آپ نے دو مرتبہ حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ دور کیا ۔ (صحیح بخاری مع فتح الباری ، ص ۳۶ ،ج ۹)
(معارف القرآن ، ج۱، ص۳۵، ط: ادارہ معارف)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709100750
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن