بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نابالغ بچوں کی رضامندی سے صدقے کی عادت ڈالنے کے لیے رقم جمع کرنے کا حکم


سوال

 ہمارے مدرسے میں چھوٹے بچوں سے ان کی رضامندی کے ساتھ کچھ رقم جمع کی جاتی ہے، چاہے 20 روپے ہوں، 50 روپے ہوں یا 200 روپے۔

پھر وہ رقم کسی بیوہ خاتون، یتیم بچے یا کسی مستحق شخص کی مدد کے لیے دی جاتی ہے تاکہ ان کے ساتھ ہمدردی اور تعاون ہو سکے۔

کیا اس طرح بچوں سے رضامندی کے ساتھ رقم جمع کرنا اور مستحق لوگوں کی مدد میں خرچ کرنا شرعاً جائز ہے؟ تاکہ بچے مستقبل میں بھی خیرات وصداقات کے عادی رہے

جواب

صورت مسئولہ میں نابالغ بچوں  سےرقم جمع کرنا  خواہ صدقے کی عادت  ڈالنے کی نیت سے ہو تب بھی شرعاً ناجائز ہے   ،نابالغ بچوں  کےرضامندی کا شرعا کوئی اعتبار نہیں کیا جاتاہے۔البتہ  بچوں کو صدقہ کی عادت ڈالنے کےلے اولیاء صدقہ کرنے کی ترغیب دے کر اپنے طرف سے رقم دے کر  بچوں سے صدقہ کروائیں   تو یہ جائز ہوگا یعنی بچوں کے اولیاء اپنی طرف سے بچوں کو رقم دے دیں اور بچے سےیہ کہیں کہ یہ رقم مدرسہ والوں کو جمع کرادو تو یہ صورت جائز ہے۔

فتاوی شامی میں ہے :

"(‌وتصرف ‌الصبي ‌والمعتوه) الذي يعقل البيع والشراء (إن كان نافعا) محضا (كالإسلام والاتهاب صح بلا إذن وإن ضارا كالطلاق والعتاق) والصدقة والقرض (لا وإن أذن به وليهما وما تردد) من العقود (بين نفع وضرر كالبيع والشراء توقف على الإذن) حتى لو بلغ فأجازه نفذ.
‌‌{رد المحتار}
(قوله والاتهاب) أي قبول الهبة وقبضها وكذا الصدقة قهستاني (قوله وإن ضارا) أي من كل وجه أي ضررا دنيويا، وإن كان فيه نفع أخروي كالصدقة والقرض (قوله كالطلاق والعتاق) ولو على مال فإنهما وضعا لإزالة الملك وهي ضرر محض، ولا يضر سقوط النفقة بالأول وحصول الثواب بالثاني، وغير ذلك مما لم يوضعا له إذ الاعتبار للوضع وكذا الهبة والصدقة وغيرهما قهستاني (قوله لا وإن أذن به وليهما) لاشتراط الأهلية الكاملة."

(‌‌كتاب المأذون، مبحث في تصرف الصبي ومن له الولاية عليه وترتيبها، ج:6، ص:173، ط:سعيد)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144712100246

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں