بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نابالغ بچے صف میں کہاں کھڑے ہوں گے؟


سوال

اگر کوئی نابالغ بچہ اگلی صف میں کھڑا ہو، تو کیا  اس بچے کے  کھڑے ہونے کی وجہ سے باقی نمازیوں کی نماز پر کوئی اثر پڑے گا یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر ایک ہی نابالغ بچہ ہو، تو اسے بالغوں کی صف میں کھڑا کیا جائے اور اگر ایک سے زیادہ بچے ہوں، تو بہتر یہ ہے کہ انہیں بالغوں کی صف کے پیچھے کھڑا کیا جائے، مگر اس زمانے میں نابالغ بچوں کو مردوں کی صفوں میں کھڑا کرنا چاہیے کیوں کہ دو یا زیادہ بچے ایک جگہ جمع ہو کر نہ صرف اپنی نماز خراب کریں گے بلکہ دوسروں کی نماز میں بھی خلل ڈالنے کا سبب بن سکتے ہیں، بلکہ بہتر یہ ہے کہ بچے کا سرپرست اسے اپنےساتھ لے کر صف کی ایک جانب کھڑا ہو، نیز بالغ افراد کی موجودگی میں پہلی صف میں امام کے قریب بچے نہ کھڑے ہوں، امام کے قریب وہ افراد کھڑے ہوں، جو بوقتِ ضرورت امامت کرسکتے ہوں، تاہم بچوں کو ڈانٹ کر یا سختی کے ساتھ ہاتھ سے پکڑ کر پیچھے کی صف میں بھیجنا درست نہیں ہے، اس سے بچوں کی تربیت نہیں ہوسکے گی  اور وہ مسجد سے دور ہوسکتے ہیں، اگر بچے نماز کے دوران مسجد میں شور و غُل کریں، تو انہیں نرمی اور محبت کے ساتھ سمجھادینا چاہیے، سخت لہجے سے پیش نہیں آنا چاہیے۔

خلاصہ یہ ہے کہ پہلی صف میں سمجھ دار نابالغ بچے کا کھڑا ہونا شرعاً ممنوع نہیں ہے، البتہ اسے امام کے قریب نہیں کھڑا ہونا چاہیے۔

البحر الرائق میں ہے:

"(قوله ويصف الرجال ثم الصبيان ثم النساء) لقوله - عليه الصلاة والسلام - «ليليني منكم أولو الأحلام والنهى» ولأن المحاذاة مفسدة فيؤخرون، وليلني أمر الغائب من الولي وهو القرب، والأحلام جمع حلم بضم الحاء وهو ما يراه النائم أريد به البالغون مجازا؛ لأن الحلم سبب البلوغ، والنهى جمع نهية وهي العقل كذا في غاية البيان ..................................... ولم أر صريحا حكم ما إذا صلى ومعه رجل وصبي، وإن كان داخلا تحت قوله والاثنان خلفه وظاهر حديث أنس أنه يسوي بين الرجل والصبي ويكونان خلفه فإنه قال فصففت أنا واليتيم وراءه والعجوز من ورائنا ويقتضي أيضا أن الصبي الواحد لا يكون منفردا عن صف الرجال بل يدخل في صفهم وأن محل هذا الترتيب إنما هو عند حضور جمع من الرجال وجمع من الصبيان فحينئذ تؤخر الصبيان بخلاف المرأة الواحدة فإنها تتأخر عن الصفوف كجماعتهن."

(كتاب الصلاة، باب الإمامة، ج:1، ص:375، ط:دار الكتب العلمية)

نابالغ بچوں کا صف کے درمیان میں کھڑے ہونے سے باقی نمازیوں کی نماز پر کوئی اثر نہیں پڑگے گا۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708100563

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں