بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نوسال سے کم عمر بچی کے ساتھ زنا سے حرمتِ مصاہرت کا حکم


سوال

 زید نے اپنی حقیقی نواسی  (جس کی عمر اس وقت آٹھ سال تھی)  کے ساتھ زنا کیا اور پھر اسی نواسی کے ساتھ زید کے پوتے بکر کا نکاح ہو گیا۔زید اب مرگیا ہے اور ابھی نکاح کا سال گزرنے کے بعد بکر کی بیوی نے بکر کو بتایا کہ آپ کے دادا  زید نے میرے ساتھ زنا کیا تھا، لیکن دخول ہوا یانہیں ہوا یہ مجھے پتہ نہیں، میں چھوٹی تھی، بہر حال وہ میرے ساتھ دو مرتبہ یہ حرکت کر چکا ہے۔ اب حل طلب امور مندرجہ ذیل ہیں:

نمبر 1:  کیا زید کا اپنی نواسی کے ساتھ زنا کرنا حرمت مصاہرت کو ثابت کرتا ہے، جب کہ نواسی کی عمر آٹھ سال تھی نابالغہ تھی۔ 

نمبر 2: اگر حرمت مصاہرت ہے تو کیا زید کے پوتے بکر کا اپنی پھوپھی زاد بیٹی جس کے ساتھ زید بقول اس لڑکی کے زنا کر چکا ہے  کیا یہ نکاح درست ہے؟

نمبر 3: اگر نکاح درست نہیں تو اب اس کا حل کیا ہے؟

جواب

حرمتِ مصاہرت کے لیے بچی کی عمر  کا کم از کم نوسال ہونا ضروری ہے،  اس سے کم عمر میں حرمتِ  مصاہرت ثابت نہیں ہوتی۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں نواسی کی عمر اُس وقت اگر وقعتاً آٹھ سال تھی تو حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوئی اور اس کے بعد اس لڑکی کا اپنے نانا کے پوتے بکر کے ساتھ جو نکاح ہوا ہے، یہ نکاح درست ہے۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"ويشترط أن تكون المرأة مشتهاة، كذا في التبيين. والفتوى على أن بنت تسع محل الشهوة لا ما دونها، كذا في معراج الدراية.

وقال الفقيه أبو الليث ما دون التسع سنين لا تكون مشتهاة وعليه الفتوى، كذا في فتاوى قاضي خان. وحكي عن الشيخ الإمام أبي بكر - رحمه الله تعالى - أنه كان يقول: ينبغي للمفتي أن يفتي في السبع والثمان أنه لا تحرم إلا إن بالغ السائل أنها عبلة ضخمة جسيمة فحينئذ يفتي بالحرمة، كذا في الذخيرة والمضمرات".

(کتاب النکاح، القسم الثاني المحرمات بالصهرية، ج:1، ص:275، ط:دار الفکر)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144702100408

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں