بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

نعت خواں عورت کا اپنی آواز میں نعت پڑھ کر ویب سائٹ پر اَپ لوڈ کرنا


سوال

اگر نعت خواں عورت اپنی صرف آواز ریکارڈ کرکے اس کی آڈیو ویب سائٹ وغیرہ پر شیئر کرے تو ایسا کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

عورت کے لیے ضرورت کے موقع پر مردوں سے بات کرنا جائز ہے، لیکن ضرورت اور مجبوری کی صورت میں بات  کرنے کے لیے یہ ضروری ہے وہ اپنی آواز کو پرکشش نہ بنائے، نرم لہجہ میں بات نہ کرے، بلکہ سخت لہجے میں بات کرے، مختصر بات کرکے بات ختم کردے، جیساکہ قرآنِ پاک  (سورہ احزاب) میں ازواجِ مطہرات  رضی اللہ عنہن کو  (امہات المؤمنین ہونے کےباجود) ہدایت کی گئی کہ اگر کسی امتی سے بات چیت کی نوبت آجائے تو نرم گفتگو نہ کرے؛ مبادا اس شخص کے دل میں کوئی طمع نہ پیدا ہوجائے جو دل کا مریض ہو، بلکہ صاف اور دوٹوک بات کہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں  نعت خواہ عورت کا اپنی آواز میں نعت ریکارڈ کرکے ویب سائٹ پر اس کو اَپ لوڈ کرنے میں درج ذیل خرابیاں موجود ہیں:

1- وہ نعتیں مرد بھی سنیں گے، اور نامحرم عورتوں کے لیے مردوں کو نعتیں سنانا جائز نہیں ہے۔

2- یہ بلاضرورت عورت کی آواز مردوں کو سنانا ہے۔

3-   نعت میں عمومًا آواز کو نرم  اور پرکشش بنایا جاتا ہے، جب کہ عورتوں کو یہ حکم ہے  کہ  ضرورت کے موقع پر بھی مردوں  سے بات کریں تو لہجے میں نرمی اور کشش پیدا نہ کریں۔

لہذا عورتوں کے لیے آپنی آواز میں نعتیں پڑھ کر ویب سائٹ پر اَپ لوڈ کرنا جائز نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 406):

"وصوتها على الراجح وذراعيها على المرجوح.

(قوله: وصوتها) معطوف على المستثنى يعني أنه ليس بعورة ح (قوله: على الراجح) عبارة البحر عن الحلية أنه الأشبه. وفي النهر وهو الذي ينبغي اعتماده. ومقابله ما في النوازل: نغمة المرأة عورة، وتعلمها القرآن من المرأة أحب. قال عليه الصلاة والسلام: «التسبيح للرجال، والتصفيق للنساء» فلايحسن أن يسمعها الرجل. اهـ. وفي الكافي: ولاتلبي جهرًا لأن صوتها عورة، ومشى عليه في المحيط في باب الأذان بحر. قال في الفتح: وعلى هذا لو قيل إذا جهرت بالقراءة في الصلاة فسدت كان متجها، ولهذا منعها عليه الصلاة والسلام من التسبيح بالصوت لإعلام الإمام بسهوه إلى التصفيق اهـ وأقره البرهان الحلبي في شرح المنية الكبير، وكذا في الإمداد؛ ثم نقل عن خط العلامة المقدسي: ذكر الإمام أبو العباس القرطبي في كتابه في السماع: ولا يظن من لا فطنة عنده أنا إذا قلنا صوت المرأة عورة أنا نريد بذلك كلامها، لأن ذلك ليس بصحيح، فإذا نجيز الكلام مع النساء للأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك، ولا نجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن وتحريك الشهوات منهم، ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة. اهـ. قلت: ويشير إلى هذا تعبير النوازل بالنغمة."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144205200987

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں