
خصوصاً کردار، دیانت اور مالی استطاعت کے اعتبار سے درج ذیل صورتِ حال کی روشنی میں: ایک لڑکا اور لڑکی دونوں معزز خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ مجھے فقہِ حنفی کے مطابق نکاح میں کفاءت (کفو) کے حوالے سے راہ نمائی درکار ہے۔
لڑکی مالی طور پر اچھے حالات والے خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ لڑکی کے بڑے ہونے کے دوران کچھ لڑکوں کے لیے اس کے جذبات رہے اور ان سے محدود درجے کی گفتگو بھی ہوئی؛ تاہم یہ جذبات کبھی غیر سنجیدہ یا وقتی نوعیت کے نہیں تھے، اور وہ کسی باقاعدہ ناجائز تعلق یا بدنامی کا شکار نہیں ہوئی۔ دوستوں کو معلوم تھا، اور اس نے خود بھی یہ بات ان دوستوں کو بتائی تھی، تاہم یہ معاملہ عام لوگوں میں مشہور نہیں ہوا۔ اس نے اپنی سابقہ حرکات پر واضح توبہ یا ندامت ظاہر نہیں کی۔
بعض اوقات وہ کچھ لڑکوں کے لیے سنجیدہ بھی ہوئی اور اس نے اپنے گھر میں شادی کے لیے بات بھی کی، مگر گھر والے راضی نہیں ہوئے۔ بعد میں جب دونوں کا ذاتی تعلق ہوا تو لڑکے نے اس لڑکی کے ساتھ نامناسب جسمانی قربت اختیار کی (بغیر مباشرت)، جس پر لڑکی کو شدید ندامت ہوئی۔ اس پر لڑکی نے واضح طور پر کہا کہ یا تو نکاح کیا جائے یا پھر تعلق ختم کر دیا جائے۔
دوسری طرف لڑکا اپنے حلقے میں متعدد غیر سنجیدہ تعلقات اور افیئرز کے لیے معروف تھا۔ اس کے تعلقات عموماً وقتی اور غیر سنجیدہ نوعیت کے ہوتے تھے۔ بعض لڑکیوں کے ساتھ اس کے نامناسب جسمانی تعلقات بھی رہے (بغیر مباشرت کے)۔ ان سابقہ باتوں کے باوجود اس کے بعض قریبی لوگ یہ غور کر رہے تھے کہ یہ لڑکی تعلیم، گھریلو مزاج اور مجموعی طور پر شادی کے لیے ایک مناسب اور اچھا انتخاب ہے، اور انہوں نے یہ امید رکھی کہ وہ اس لڑکی کے ساتھ وفادار رہے گا اور پچھلی باتیں چھوڑ دے گا۔ چنانچہ اس نے نکاح پر رضامندی ظاہر کی۔
دونوں کو یہ بھی معلوم تھا کہ ان کے گھر والے اس رشتے کو قبول نہیں کریں گے، اور لڑکا خود بھی مالی طور پر مستحکم نہ تھا۔ اس کے باوجود دونوں نے یہ سوچ کر خفیہ طور پر نکاح کر لیا کہ بعد میں گھر والوں کو راضی کر کے علانیہ نکاح کر لیں گے۔ نکاح کے وقت لڑکا اپنے والد کے کاروبار میں معمولی نوعیت کا کام کرتا تھا؛ اس کی آمدنی بیوی کے نان و نفقہ کے لیے کافی نہیں تھی، نہ اس کے پاس ذاتی کاروبار، جائیداد یا خاطر خواہ بچت تھی، اور نہ ہی فوری طور پر بہتر معاشی استحکام کا کوئی واضح ذریعہ موجود تھا۔
حقِ مہر پانچ ہزار روپے مقرر ہوا جو ادا کر دیا گیا، مگر یہ مہرِ مثل کے مقابلے میں کم تھا، اور مہرِ مثل ادا کرنے کی بھی اس میں استطاعت نہیں تھی۔ اگر قرض لے کر مہرِ مثل ادا بھی کر دیا جاتا تو قرض واپس کرنے کا بھی کوئی واضح یا قابلِ اعتبار ذریعہ آمدن موجود نہ تھا۔
لڑکی کے گھر والے لڑکے کو کسی بھی لحاظ سے پسند نہیں کرتے تھے—نہ کردار کے اعتبار سے، نہ اس کی شہرت اچھی تھی، نہ اسے تعلیم یافتہ اور باوقار سمجھا جاتا تھا، اور نہ ہی وہ مالی طور پر مستحکم تھا؛ بلکہ وہ مکمل طور پر اپنے والد پر انحصار کرتا تھا۔ بعد میں جب والد کو نکاح کا علم ہوا تو انہوں نے بھی کسی قسم کی ذمہ داری لینے سے انکار کر دیا۔
نکاح کے تقریباً ایک ماہ بعد دونوں کے گھر والوں کو اس کا علم ہوا، جس پر لڑکی کے والدین نے اعتراض کیا، جبکہ لڑکے کے گھر والوں نے بھی اس نکاح کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور کسی بھی قسم کی مالی یا عملی ذمہ داری لینے سے صاف انکار کر دیا۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ لڑکا اس لڑکی کا کفو ہے؟
واضح رہے کہ فقہائے کرام نے کفاءت کے اعتبار سے چند اوصاف ذکر فرمائے ہیں، جن کا نکاح میں لحاظ کیا جاتا ہے، وہ یہ ہیں:
(1) اسلام (2) دیانت و تقویٰ (3) نسب (4) حریت (آزادی) (5) پیشہ (6) اتنا مال کہ شوہر مہرِ معجل ادا کرنے اور بیوی کے نان و نفقہ کا انتظام کرنے پر قادر ہو۔
کفاءت معتبر ہونے کے لیے مذکورہ تمام اوصاف میں برابری کا پایا جانا ضروری ہے، یعنی لڑکا ان صفات میں لڑکی کے مساوی یا اس سے بڑھ کر ہو۔ لہٰذا اگر ان اوصاف میں سے کسی ایک وصف میں بھی ایسا تفاوت ہو جو عرفاً عار کا باعث سمجھا جائے، تو لڑکا شرعاً کفو شمار نہیں ہوگا۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ لڑکا اگر بیوی کے نان و نفقہ کی ادائیگی پر قادر نہیں ہے تو وہ شرعاً اس لڑکی کا کفو نہیں ہے۔ اس صورت میں لڑکی کے اولیاء کو مذکورہ نکاح فسخ کرانے کا حق حاصل ہے۔
نیز شرعی طور پر مہر کی کم از کم مقدار 30 گرام 618 ملی گرام چاندی یا اس کی قیمت ہے، لہذا بوقتِ نکاح طے شدہ مہر (پانچ ہزار روپے) اگر چاندی کے مذکورہ وزن کے برابر یا اس سے زائد تھاتب تو یہ مہر مقرر کرنا درست تھا، اور اگر مذکورہ وزن کی مالیت پانچ ہزار روپے سے کہیں زیادہ تھی اور لڑکا اس کی ادائیگی کی استطاعت نہیں رکھتا تو ایسی صورت میں بھی وہ لڑکی کا کفو نہیں ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"إن الكفاءة في النكاح تكون في … ست لها بيت بديع قد ضبط--- نسب وإسلام كذلك حرفة … حرية وديانة مال فقط."
(كتاب النكاح، باب الكفاءة، ج: 3، ص: 86، ط: ایچ ایم سعید کمپنی)
فتح القدیر میں ہے:
"قال (و) تعتبر (في المال وهو أن يكون مالكا للمهر والنفقة) وهذا هو المعتبر في ظاهر الرواية، حتى إن من لا يملكهما أو لا يملك أحدهما لا يكون كفئا؛ لأن المهر بدل البضع فلا بد من إيفائه وبالنفقة قوام الازدواج ودوامه.
"(قوله وهو) أي اعتبار الكفاءة في المال هو (أن يكون مالكا للمهر والنفقة) وتقييده بظاهر الرواية احتراز عما سنذكره في الكفاءة في الغنى بما نسبه إلى قول أبي حنيفة ومحمد فإن ذلك ليس هو ظاهر الرواية كما سنذكره، وبين أن المراد من المهر ملك ما تعارفوا تعجيله وإن كان كله حالا. وفي المجتبى: قلت في عرف أهل خوارزم كله مؤجل فلا تعتبر القدرة عليه، ولم يبين المراد بملك النفقة. واختلف فيه: قيل المعتبر ملك نفقة شهر، وقيل نفقة ستة أشهر، وفي جامع شمس الأئمة سنة، وفي المجتبى: الصحيح أنه إذا كان قادرا على النفقة عن طريق الكسب كان كفئا، ومعناه منقول عن أبي يوسف قال: إذا كان قادرا على إيفاء ما يعجل لها باليد ويكتسب ما ينفق لها يوما بيوم كان كفئا لها. وفي غريب الرواية للسيد أبي شجاع جعل الأصح ملك نفقة شهر."
(كتاب النكاح، باب الأولياء والأكفاء، فصل في الكفاءة، ج: 3، ص: 300، ط: دار الفكر، بيروت)
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق میں ہے:
"قال رحمه الله (ولو نقصت من مهر مثلها فللولي أن يفرق أو يتم مهرها) أي لو تزوجت المرأة ونقصت من مهر مثلها فللولي الاعتراض عليها حتى يتم لها مهرها أو يفارقها."
(كتاب النكاح، باب الأولياء والأكفاء، ج: 2، ص: 130، ط: المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144711101229
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن