
میری ایک بھتیجی ہے، جس کے والد انتقال کر گئے ہیں، اس کی شادی کو آٹھ سال ہو چکے ہیں، شروع میں ڈیڑھ سال تو معاملہ ٹھیک رہا، لیکن اس کے بعد سے دونوں میں نا اتفاقیاں شروع ہو گئیں، جس کے باعث اس کا شوہر اس کو مارتا بھی تھا، یہاں تک کہ شوہر کے ماموں نے بھی اس کو مارا، لڑکی تین سال سے اپنے بھائیوں کے ساتھ رہ رہی ہے، نان نفقہ بھی نہیں دیتا تھا، ان تین سالوں میں بھی نان نفقہ کچھ نہیں دیا،اب لڑکی ساتھ رہنے کو تیار نہیں اور کہتی ہے کہ اگر زبردستی مجھے شوہر کے حوالے کیا تو میں کچھ زہر وغیرہ کھا لوں گی، لیکن اب ان کے ساتھ نہیں رہوں گی، اس کا شوہر نہ اس کو طلاق دینے کو تیار ہے اور نہ خلع دینے کو، کیا ایسی صورت میں عدالت سے فسخ نکاح کروایا جا سکتا ہے؟
صورتِ مسئولہ میں سائل کا بیان اگر واقعۃً صحیح اور درست ہے کہ اس کی بھتیجی جب تک اپنے شوہر کے گھر تھی تو شوہر نہ صرف مارپیٹ کرتا تھا بلکہ اس کو نان ونفقہ بھی نہیں دیتا تھاتو اس کا ایسا کرنا شرعاً جائز نہیں، شوہر گناہ گار ہے، اس پر لازم ہے کہ اپنے اس رویہ سے باز آ جائے، بیوی کے تمام شرعی حقوق ادا کرے، اگر وہ باوجود قدرت کے نباہ نہیں کرتا اور نان و نفقہ دینے پر راضی نہیں ہوتا تو دونوں خاندانوں کے معزز اور سمجھ دار بزرگ افراد کے ذریعہ اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کی جائے، اگر وہ اس کے باوجود بھی راہِ راست پر نہ آئے تو اس سے طلاق مانگی جائے، اگر وہ طلاق پر بھی راضی نہ ہو تو باہمی رضامندی سے خلع کا معاملہ کر لیں، چوں کہ قصور شوہر کا ہے تو اس کے لیے خلع کا عوض لینا جائز نہ ہو گا، اور اگر وہ خلع پر بھی راضی نہ ہو تو نکاح ختم کرانے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ عورت اپنا مقدمہ قاضی شرعی یا مسلمان حاکم کے سامنے پیش کرے اور جس کے سامنے پیش ہو وہ شوہر کو طلب کرے اور معاملہ کی شرعی شہادت کے ذریعہ سے پوری تحقیق کرے اور اگر عورت کا دعویٰ صحیح ثابت ہو کہ باوجود وسعت کے خرچ نہیں دیتا تو اس کے شوہر سے کہا جائے کہ تم اپنی بیوی کے حقوق ادا کرو یا طلاق دے دو، ورنہ ہم تفریق واقع کر دیں گے، اس کے بعد بھی اگر وہ کسی صورت پر عمل نہ کرے یا شوہر سرے سے عدالت میں حاضر ہی نہ ہو تو ایسی صورت میں شوہر کی غیر موجودگی میں بھی عدالت کو نکاح ختم کرنے کا حق حاصل ہے، لہذا مسلمان جج کو فسخِ نکاح کا اختیار حاصل ہو گا، جس کے بعدبیوی اپنی عدت (پوری تین ماہواریاں)گزارکردوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔
حیلہ ناجزہ میں ہے:
"بیوی نان نفقہ نہ دینے سے متعلق تنسیخِ نکاح کا مقدمہ مسلم عدالت میں دائر کرے،پھر اپنے نکاح کو شرعی گواہوں سے ثابت کرے ،اس کے بعد اپنے دعویٰ کو دو گواہوں سے ثابت کرے۔پھر جس جج کے سامنے معاملہ پیش ہو وہ شوہر کو طلب کرے اور معاملہ کی شرعی شہادت کے ذریعہ سے پوری تحقیق کرے اور اگر عورت کا دعویٰ صحیح ثابت ہو تو اس کے شوہر سے کہا جائے کہ تم اپنی بیوی کے حقوق ادا کرو یا طلاق دے دو، ورنہ ہم تفریق واقع کر دیں گے، اس کے بعد بھی اگر وہ کسی صورت پر عمل نہ کرے تو قاضی یا جو شرعاً اس کے قائم مقام ہو اس کی بیوی پر طلاق واقع کر دے۔"
(حیلہ ناجزہ، ص:292، ط: مکتبہ رضی دیوبند)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703100824
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن