
ناخن کاٹنے کا مسنون (سنت کے مطابق) طریقہ کیا ہے؟ ہاتھوں اور پاؤں کے ناخن کس ترتیب سے کاٹنے چاہئیں؟ اور اس کے متعلق شریعت کی کیا راہ نمائی ہے؟
واضح رہے کہ ناخن کاٹنا اُن اعمال میں سے ہے جن کو فطرتِ سلیمہ کے تقاضوں میں شمار کیا گیا ہے، چناں چہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : یہ پانچ چیزیں انسان کی فطرتِ سلیمہ کے تقاضے اور دینِ فطرت کے خاص اَحکام ہیں: ختنہ ، زیرِ ناف بالوں کی صفائی ، مونچھیں تراشنا ، ناخن لینا اور بغل کے بال لینا۔
البتہ ہاتھوں اور پیروں کے ناخن کاٹنے کی ترتیب اور طریقہ سے متعلق کوئی بھی صحیح روایت آپ ﷺ سے ثابت نہیں ہے، لہذا کسی بھی طریقہ سے ناخن کاٹ سکتے ہیں، البتہ احادیث میں آتا ہے کہ آپ ﷺ دائیں طرف سے ابتدا کرنے کو پسند کرتے تھے؛ اس لیے بعض فقہاء واکا برین نے ناخن کاٹنے کی درج ذیل ترتیب نقل کی ہےجسے سلفِ صالحین کے پسندیدہ ہونے کی وجہ سے "مستحب" بمعنی "ماأحبه السلف" کہہ سکتے ہیں:
” ابتدا دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے کرکے ترتیب وار چھنگلیا (چھوٹی انگلی) کاٹے جائیں، اور پھر بائیں ہاتھ کی چھنگلیا (چھوٹی انگلی) سے شروع کرکے ترتیب وار انگوٹھے تک کاٹے جائیں، اور پھر آخر میں دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کا ناخن کاٹ لیا جائے۔ اور پاؤں کی انگلیوں میں دائیں پاؤں کی چھنگلیا (چھوٹی انگلی) سے شروع کرکے ترتیب وار بائیں پاؤں کی چھنگلیا تک کاٹے جائیں“۔
صلاۃ مسعودی میں ہے کہ ہاتھوں کے ناخن کاٹنے میں یہ ترتیب (جو مذکور ہوئی) اس وجہ سے ہے؛ تاکہ ابتدا اور انتہا دونوں دائیں ہاتھ پر ہو۔
البتہ علامہ نووی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ پہلے دائیں ہاتھ کے مکمل ناخن کاٹنے چاہییں، یعنی شہادت کی انگلی سے شروع کرکے چھوٹی انگلی تک اور پھر اسی ہاتھ کے انگوٹھے کا ناخن کاٹ لے، اور پھر بائیں ہاتھ کے مکمل ناخن اسی طرح کاٹے جائیں۔
لہذا مذکورہ دونوں طریقوں میں سے کوئی بھی اختیار کرلیا جائے، یہ زیادہ بہتر ہے۔
صحيح مسلم میں ہے:
"عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: « الفطرة خمس، أو خمس من الفطرة: الختان، والاستحداد، وتقليم الأظفار، ونتف الإبط، وقص الشارب »."
(كتاب الطهارة، باب خصال الفطرة، ج:1، ص:152، ط:دار الطباعة العامرة - تركيا)
بدر الدین عینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"والتقلیم تفعیل من الْقَلَم وَهوَ الْقطع، وَوَقع فِي حَدِیث الْبَاب فِي رِوَایَة: وقص الْأَظْفَار، والأظفار جمع ظفر بِضَم الظَّاء وَالْفَاء وسکونها، وَحکی عَن أبي زید کسر الظَّاء وَأنْکرہُ ابْن سَیّدہ، وَقد قیل: إِنَّه قِرَائَة الْحسن وَعَن أبي السماک أَنه قریء بِکَسْر أَوله وثانیه، وَیسْتَحب الِاسْتِقْصَاء فِي إِزَالَتہَا بِحَیْثُ لَا یحصل ضَرَر علی الإصبع."
(باب تقليم الأظفار، ج:22، ص:70، ط: دار الكتب العلمية بيروت)
فتاوی شامی میں ہے:
"وفي شرح الغزاویة: روي أنه صلی الله علیه وسلم بدأ بمسبحته الیمنی إلی الخنصر، ثم بخنصر الیسری إلی الإبهام، وختم بإبهام الیمنی. و ذکر له الغزالي في الإحیاء وجهاً وجیهاً ... قلتُ: وفي المواهب اللدنیة: قال الحافظ ابن حجر: إنه یستحب کیفما احتاج إلیه، ولم یثبت في کیفیته شيء، ولا في تعیین یوم له عن النبي صلی اللّٰه علیه وسلم".
وفي الرد: (قوله: قلتُ الخ) وکذا قال السیوطي، وقد أنکر الإمام ابن دقیق العید جمیع هذه الأبیات، وقال: لا تعتبر هیئة مخصوصة، وهذا لا أصل له في الشریعة، ولایجوز اعتقاد استحبابه؛ لأن الاستحباب حکم شرعي لا بد له من دلیل."
(كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ج:6، ص:406، ط: سعيد)
المجموع شرح المهذب للنووی میں ہے:
"قال النووي: ویستحب أن یبدأ بالید الیمنی، ثم الیسری، ثم الرجل الیمنی، ثم الیسری. قال الغزالی في الإحیاء: یبدأ بمسبحة الیمنی، ثم الوسطی، ثم البنصر، ثم الخنصر، ثم خنصر الیسری إلی إبهام الیمنی، وذکر فیه حدیثاً وکلاماً لا أوثر ذکره، والمقصود أن الذي ذکره الغزالي لابأس به إلا في تاخیر إبهام الیمنی، فلا یقبل قوله فیه؛ بل یقدم الیمنی بکمالها، ثم یشرع في الیسری، وأما الحدیث الذي ذکره، فباطل لا أصل له."
(ج:1، ص:283، ط: دار الفکر، بیروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710100121
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن