بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نامحرم کے ساتھ رہنے والی عورت سے سماجی قطع تعلقی کرنا


سوال

ہمارے پڑوس میں ایک فیملی رہتی ہے جن کے آٹھ بچے ہیں، ڈیڑھ سال قبل خاتون کے شوہر نے ان کو طلاق دے دی تھی، طلاق کے بعد خاتون ایک دوسرے علاقہ میں کرایہ کے گھر میں رہنے لگیں، ان کی تین بیٹیوں کی شادی ہوچکی ہے ، باقی بچے کچھ دن والدہ اور کچھ دن والد کے پاس رہتے تھے۔ دوسرے گھر میں خاتون نے ایک کنوارے لڑکے سے شادی کرلی، لڑکے نے ماں باپ سے چھپ کرخفیہ  شادی کی تھی، ماں باپ کو علم ہوا تو انہوں نے لڑکے کو اپنے پاس بلالیا، اب یہ خاتون اپنے پہلے شوہر کے پاس واپس آگئی ہے ، اس لڑکے نے اس خاتون کو طلاق نہیں دی ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ یہ خاتون اپنے سابقہ شوہر (جو کہ اب ایک غیر مرد کی طرح ہے) کے ساتھ دو کمروں کے گھر میں رہتی ہے ۔ میرے دیور نے ایک مفتی صاحب سے مسئلہ معلوم کیا تو انہوں نے کہا کہ اس سے قطع تعلق کرلیں کیوں کہ یہ لوگ حرام رہ رہے ہیں، پوری گلی والوں نے ان کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے۔

ان خاتون کا گھر میرے گھر کے سامنے ہے، میں ان کو سلام تک نہیں کرتی ہوں، ان کے گھر میں غربت ہے، وہ مجھ سے چھوٹی چھوٹی گھریلو اشیاءکی استعمال کی چیزیں مانگتی ہیں، میں ان کو نہیں دیتی، حالاں کہ اسلام میں پڑوسیوں کے بہت سے حقوق ہیں لیکن میرے شوہر اور میری ساس ان سے کوئی بھی تعلق رکھنے سے منع کررہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں کیا کیا جائے؟کیا ان خاتون کا یہ طرز عمل درست ہے ؟ کیا ان کا بائیکاٹ کرنا شرعا درست ہے ؟

جواب

 صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً   مذکورہ خاتون کو اس کے شوہر نے تین طلاقیں دے دی تھیں ، جس کے بعد اس خاتون نے کسی لڑکے سے شادی کی تھی ، اب اگر واقعۃً اس لڑکے نے مذکورہ خاتون کو طلاق نہیں دی تو مذکورہ خاتون  بدستور اسی لڑکے کے نکاح میں ہے، شوہر کے موجود ہوتے ہوئے  طلاق یا خلع کے بغیر مذکورہ خاتون  کا اپنے سابقہ شوہر (جو اس کے لیے نا محرم ہے)کے ساتھ رہنا ناجائز اور کبیرہ گناہ ہے۔دونوں پر فی الفور علیحدگی اور اپنے اس فعل پر توبہ واستغفار لازم ہے۔

اگر مذکورہ مسئلہ کا علم ہونے یا سمجھانے کے باوجود وہ دونوں ایک دوسرے سے علیحدہ نہ ہوں تو اصلاح کی غرض سے  بقدر ضرورت سماجی قطع تعلقی کرنا درست  ہے، تاہم اگر  شدید ضرورت کی بنا پر وہ ضروری اشیاء طلب کریں، تو ان کی ضروریات کو پورا کردینا درست ہوگا۔ 

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة."

(كتاب النكاح، الباب الثالث في بيان المحرمات، القسم السادس المحرمات التي يتعلق بها حق الغير، ج: 1، ص: 280، ط: دار الفكر)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے :

"فإن هجرة أهل الأهواء والبدع واجبة على مر الأوقات ما لم يظهر منه التوبة والرجوع إلى الحق."

(كتاب الآداب، باب ما ينهى عنه من التهاجر والتقاطع واتباع العورات، ج: 8، ص: 1347، ط: دار الفكر)

رد المحتار میں ہے:

"ولا يسلم على الشيخ المازح الكذاب واللاغي؛ ولا على من يسب الناس أو ينظر وجوه الأجنبيات، ولا على الفاسق المعلن، ولا على من يغني أو يطير الحمام ما لم تعرف توبتهم ويسلم على قوم في معصية وعلى من يلعب بالشطرنج ناويا أن يشغلهم عما هم فيه عند أبي حنيفة وكره عندهما تحقيرا لهم."

(کتاب الحظر والإباحة، ج: 6، ص: 415، ط: سعید)

کفایت المفتی میں ہے:

”مسلمان آدمی خواہ کتنا ہی فاسق و فاجر کیوں نہ ہو مسلمان مؤمن تو ہے، پھر اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا نہ کھانے اور برادرانہ تعلقات نہ رکھنے سے اگر اس کی امید ہو کہ یہ اپنے افعال سے باز رہے گا تو ترکِ تعلقات بہتر ہے اور باوجود اس کے اگر کوئی ا س کے ساتھ تعلقات رکھے تو ایسا گناہ نہ ہوگا جیسا کافر کے ساتھ رکھنے کا ہوتا ہے۔“

(کتاب الحظر والإباحۃ،  ج: 9، ص: 122، ط: دارالاشاعت)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144704100202

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں