بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نابالغہ لڑکی کا نکاح اس کے والد کی اجازت کے بغیر کرنا


سوال

ایک نابالغ لڑکی کا اس کے چچا نے نکاح کرایا ، اور لڑکا بھی نابالغ تھا ، لڑکے کی طرف سےایجاب و قبول اس کے والد نے کیا، لڑکی کا والد نکاح کی مجلس میں موجود نہیں تھا اور نکاح سے پہلے کہہ رہا تھا کہ میں نہیں دوں گا اور نکاح کے بعد بھی یہی کہہ رہا تھا کہ میں یہاں پر اپنی بیٹی کو نہیں دیتا ہوں، فون پر بتایا تو بھی انکار کیا اور جب وہاں جاکر بتایا تو بھی انکار کیا ، تقریبا بارہ سال تک انکار کرتا رہا، پھر اس کو چند مولویوں نے سمجھایا تو اس نے کہا کہ چونکہ میری والدہ کی اجازت سے نکاح ہوا ہے، لہذا میں راضی ہوں ، پھر لڑکی بالغ ہوئی تو لڑکا اور لڑکی دونوں راضی تھے، پھر ایک وقت رخصتی کا طے ہوا اور لڑکے نے کہا کہ اگر لڑکی میرے گھر نہیں آئی تو پھر میرے اوپر میری ماں بہن کی طرح ہے، اور مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے، میرا کسی کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں ہوگا صرف میری بہنوں کے ساتھ ہوگا۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا نکاح منعقد ہوا  کہ نہیں؟ اور اگر منعقد ہو تو ان مذکورہ الفاظ سے طلاق واقع ہوئی کہ نہیں ؟

جواب

نابالغہ لڑکا اور لڑکی کے نکاح کا اختیار ولی کو ہوتا ہے اور ولی اقرب کے ہوتے ہوئے ولی ابعد کا کرایا ہوا نکاح ولی اقرب کی اجازت پر موقوف ہوتا ہے، شرعا چچا ولی ابعد ہے اور والد ولی اقرب ہے، مذکورہ تفصیل کی رو سے صورت مسئولہ میں جب نابالغہ کا نکاح اس کے ولی یعنی والد کی اجازت اور رضامندی کے بغیر کیا گیاتو نکاح والد کی اجازت پر موقوف تھا، والد نے جب نکاح کی اجازت نہیں دی اور انکار کردیا تو انکار کرتے ہی نکاح باطل ہوگیا؛ اس لیے بعد میں لڑکا لڑکی کی رضامندی اور لڑکے کے الفاظ کاکوئی اعتبار نہیں ، اب اگر مذکورہ لڑکے اور لڑکی کا نکاح کرنا چاہیں تو نئے مہر کی تعیین کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں۔

فتاویٰ دار العلوم دیوبند میں ہے:

باپ کے رہتے ہوئے ماں نے نابالغہ لڑکی کی شادی کی باپ نے انکار کر دیا تو نکاح درست نہیں ہوا

"(سوال ۹۱۲) ایک لڑکی نابالغہ کا نکاح اس کی ماں کی اجازت سے ہوا لڑكي کاباپ انکار کر تا رہا حتی کہ مجلس نکاح ميں بھی شریک نہیں ہوالڑ کی اب بالغہ ہوئی اور اس نے کہا کہ میں اب بالغہ ہوئی اور شریعت کے قاعدہ سے میں اس کے نکاح سے باہر ہوئی جس کے ساتھ میری ماں نے نکاح پڑھایا ہے اب میں اپنے باپ کی مرضی سے نكاح كروں گی لڑکی کا نکاح فسخ ہوا یا نہیں اور اس کا باپ اس کا دوسرا نکاح کر سکتا ہے یا نہیں ؟

جواب ( باپ کی موجودگی میں ماں کو ولایت اور اختیار نکاح کرنے کا نہ تھا اگر ماں نے بلا اجازت باپ کے نابالغہ کانکاح کیا تو باپ کی اجازت پر موقوف تھا اگر باپ نے رد کر دیا اور انکار کر دیا تو نکاح باطل ہو گیا۔۔۔۔۔ـ"

(کتاب النکاح،ج: 8، ص:53، ط:دارالاشاعت)

 فتاویٰ شامی میں ہے:

"(لو استووا في الدرجة وإلا فللأقرب) منهم(حق الفسخ۔۔۔۔۔)

(قوله وإلا إلخ) أي وإن لم يستووا في الدرجة، وقد رضي الأبعد فللأقرب الاعتراض بحر عن الفتح وغيره."

(كتاب النكاح، باب الولي، ج: 3، ص: 57، ط: سعيد)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما شرائط ثبوت هذه الولاية فمنها: عقل المالك، ومنها بلوغه، فلا يجوز الإنكاح من المجنون والصبي الذي لا يعقل ولا من الصبي العاقل؛ لأن هؤلاء ليسوا من أهل الولاية؛ لأن أهلية الولاية بالقدرة على تحصيل النظر في حق المولى عليه، وذلك بكمال الرأي والعقل ولم يوجد ألا ترى أنه لا ولاية لهم على أنفسهم فكيف يكون على غيرهم؟"

(كتاب النكاح، فصل بيان شرائط الجواز والنفاذ، ج: 2، ص: 237، ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144704100829

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں