بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

میت کی کی تجہیز و تکفین کے متعلق چند سوالات


سوال

1- ایک شخص فوت ہوتا ہے، اور اس میت کے ورثاء میت کو نہلانے اور کفنانے کے بعد نماز جناز ہ سے  پہلے یہ اعلان کرتے ہیں کہ جس نے میت کا چہرہ دیکھنا ہے وہ آکر دیکھ لیں،کیا میت کا چہرہ نما ز  جنازہ سے پہلے دکھانا چاہیے یا بعد میں یا بالکل نہیں دکھانا چاہیے ؟

 2- اگر کسی گھر میں میت ہوتی ہے اور اس گھر والوں کے لئے عزیز اور رشتہ دار کھانے کا اہتمام کرتے ہیں، اور میت کے ورثاء کے ساتھ ان کے عزیز و رشتہ دار بھی کھانے میں شریک ہوتے ہیں ،اور فرض کریں کہ جس گھر میں میت ہوتی ہے وہ 5 سے 10 افراد ہوتے ہیں، ان کے ساتھ عزیز و اقرباء ساتھ مل کر تقریبا کم و بیش 30 سے 40 لوگ بن جاتے ہیں، اور یہ کھانے کا سلسلہ 3 دن تک چلتا ہے ،اور اس کھانے میں ورثاء کے ساتھ کتنے لوگ کھانا کھا سکتے ہیں؟اس کی وضاحت فرمائیں،نیز اس کھانے کا بندوبست کبھی چچاکبھی پڑوسی کبھی کوئی کر دیتا ہے ۔

3- جس جگہ میت کا جنازہ پڑھا جاتا ہے فورا بعد اسی جگہ بیٹھ کراجتماعی دعا مانگی جاتی ہے ،اور میت کو دفنانے کے بعد قبر پر بھی اجتماعی دعا مانگی جاتی ہے، اور ورثاء اور رشتہ دار مسجد میں آکر بیٹھ جاتے ہیں، اور محلے یا گاؤں سےاور  قرب و جوار سے آنے والے افراد جب تعزیت کے لئے آتے ہیں یا جاتے ہیں تو پھر اجتماعی دعاہر 5 سے 10 منٹ کے بعد مانگی جاتی ہے اور یہ آمد کا سلسلہ 3 دن تک جاری رہتا ہے۔

ان تمام سوالات کے جوابات قرآن وسنت کی روشنی میں عنایت فرمائیں۔

جواب

1۔  واضح رہے کہ مرد میت کا چہرہ مردوں اور محارم کے لیے نیز عورت کا  عورتوں اور محارم کے لیے دیکھنا جائز ہے ،البتہ میت کا چہرہ دیکھنا   نماز جنازہ سے پہلے  ہوناچاہیے کیوں کہ نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد میت کو جلد دفن کرنے کا حکم  حدیث مبارک میں وارد ہے، لہٰذا نمازِ جنازہ کے بعد صرف چہرہ دکھانے کے لیے تدفین میں تاخیر کرنا مکروہ اور خلافِ سنت ہے نیز اخروی زندگی کے آثار میت کے چہرہ پر ظاہر ہوسکتے ہیں، اس لئے جنازہ کے بعد میت کا چہرہ دکھانا مناسب نہیں ہے۔

2-  جس گھر میں میت ہوجائے ان کے پڑوسیوں اور رشتے داروں کے لیے مستحب اور باعث اجر و ثواب ہے کہ میت کے گھر والوں کے لیے اس دن (دو وقت) کے کھانے کا انتظام کریں اور خود ساتھ بیٹھ کر، اصرار کر کے ان کو کھلائیں،اور ضرورت ہو تو تین دن تک کھانا کھلانا بھی جائز ہے، اہلِ میت کو یہ کھانا کھلانا اس وجہ سے نہیں ہوتا کہ میت کے گھر میں یا میت کے گھر والوں کے لیے کھانا پکانا ممنوع ہے، بلکہ اس وجہ سے   ہوتا ہے کہ غم و حزن اور تجہیز و تکفین کی مشغولیت کی وجہ سے ان کو کھانا پکانے کا موقع نہیں ملے گا، لہٰذا اگر میت کے گھر والے خود اپنے لیے اسی دن کھانا بنائیں تو اس کی اجازت ہے،البتہ میت کے اہل خانہ کے علاوہ جو افراد دور دراز علاقوں سے میت کے اہلِ خانہ سے تعزیت اور تکفین و تدفین میں شرکت کے لیے آئے ہوں،اگر کھانے میں اتنی وسعت ہو کہ وہ میت کے اہل خانہ کی ضرورت سے زائد ہو تو اس صورت میں  اگر وہ بھی کھانے میں شریک ہوجائیں، تو ان کا شریک ہونا  بھی درست ہے،تاہم کھانا دینے والا ان تمام افراد کو کھانا دینے کا شرعاً پابند نہیں ۔

تعزیت کے لیے قرب و جوار سے آئے لوگوں کے لیے میت کے ہاں باقاعدہ کھانے کا انتظام کرنا،اور تین دن تک اس سلسلے کو جاری رکھناخلافِ سنت عمل  بھی ہے،اور میت کے گھر والوں کے لیے تکلف ومشقت بھی ہے۔

3- نمازِ جنازہ خود دعا ہے اور اس میں میت کے لیے مغفرت کی دعا کرنا ہی اصل ہے، جنازہ کی نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا قرآن و سنت، صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین سے ثابت نہیں ہے؛ اس لیے جنازہ کی نماز کے بعد اجتماعی طور پر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا مکروہ و ممنوع اور بدعت ہے، ہاں انفرادی طور پر ہاتھ اٹھائے بغیر دل دل میں دعا کرنا جائز ہے، نیزکسی مسلمان کے انتقال پر میت کے متعلقین سے تعزیت کرنا ( یعنی ان کو تسلی دینا اور صبر کی تلقین کرنا ) سنت سے ثابت ہے، تعزیت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ میت کی تدفین سے پہلے یا اگر موقع نہ ملے تو تدفین کے بعد میت کے گھر والوں کے یہاں جا کر ان کو تسلی دے، ان کی دل جوئی کرے، صبر کی تلقین کرے،  ان کے اور میت کے حق میں دعائیہ جملے کہے، تعزیت کے الفاظ اور مضمون متعین نہیں ہے،صبر اور تسلی کے لیے جو الفاظ زیادہ موزوں ہوں وہ جملے کہے، تعزیت کی بہترین دعا یہ ہے: ’’إِنَّ لِلّٰهِ مَا أَخَذَ وَلَه مَا أَعْطٰى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَه بِأَجَلٍ مُّسَمًّى‘‘ یا ’’أَعْظَمَ اللّٰهُ أَجْرَكَ وَ أَحْسَنَ عَزَائَكَ وَ غَفَرَ لِمَیِّتِكَ‘‘۔ اس سے زائد بھی ایسا مضمون بیان کیا جاسکتا ہے جس سے غم ہلکا ہوسکے اور آخرت کی فکر پیدا ہو،باقی تعزیت کے دوران ہر آنے والے کے ساتھ ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا سنت سے ثابت نہیں ہے؛ اس لیے اس کو لازم سمجھ کر کرنا  شرعاً درست نہیں ہے، البتہ لازم سمجھے بغیر مغفرت کی کوئی بھی دعا کی جائے یا ہاتھ اٹھا کر دعا کرلی  تو کوئی حرج نہیں ہے۔

 تدفین کے بعد قبر پر    قبلہ رخ ہوکر دعا کرسکتے ہیں، یہ دعا انفرادًا بھی کی جاسکتی ہے، اور اجتماعًا بھی،  اور بہتر ہے کہ یہ دعا سرًّا ہو، البتہ جہرًا بھی کی جاسکتی ہے۔

  فتاویٰ شامی میں ہے:

"(قوله: وباتخاذ طعام لهم) قال في الفتح: ويستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم وليلتهم، لقوله صلى الله عليه وسلم: «اصنعوا لآل جعفر طعاماً فقد جاءهم ما يشغلهم». حسنه الترمذي وصححه الحاكم؛ ولأنه بر ومعروف، ويلح عليهم في الأكل؛ لأن الحزن يمنعهم من ذلك فيضعفون."

(کتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة،ج:2،ص:260، ط: سعید)

فتح القدیر میں ہے:

"ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور، وهي بدعة مستقبحة. روى الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال: كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة. ويستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم وليلتهم؛ لقوله صلى الله عليه وسلم: «اصنعوا لآل جعفر طعاماً فقد جاءهم ما يشغلهم». حسنه الترمذي وصححه الحاكم؛ ولأنه بر ومعروف، ويلح عليهم في الأكل؛ لأن الحزن يمنعهم من ذلك فيضعفون، والله أعلم."

(کتاب الصلاة، قبیل باب الشهید، ج:2،ص:102،  ط: رشیدی)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: ويسرع في جهازه)؛ لما رواه أبو داود «عنه صلى الله عليه وسلم لما عاد طلحة بن البراء وانصرف، قال: ما أرى طلحة إلا قد حدث فيه الموت، فإذا مات فآذنوني حتى أصلي عليه، وعجلوا به؛ فإنه لا ينبغي لجيفة مسلم أن تحبس بين ظهراني أهله».  والصارف عن وجوب التعجيل الاحتياط للروح الشريفة؛ فإنه يحتمل الإغماء."

  (کتاب الصلاۃ،باب فی الجنائز،ج:2،ص: 193،ط:سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ويستحب أن يقال لصاحب التعزية: غفر الله تعالى لميتك وتجاوز عنه، وتغمده برحمته، ورزقك الصبر على مصيبته، وآجرك على موته، كذا في المضمرات ناقلاً عن الحجة. وأحسن ذلك تعزية رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن لله ما أخذ وله ما أعطى وكل شيء عنده بأجل مسمى»".

(کتاب الصلاۃ،باب فی الجنائز،ج:1، ص:167، ط:رشیدیہ)

کفایت المفتی میں ہے:

’’نماز جنازہ کے بعد متصل ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں ہے اور نماز جنازہ خود ہی دعا ہے، ہاں لوگ اپنے اپنے دل میں بغیر ہاتھ اٹھائے دعائے مغفرت کرتے رہیں تو یہ جائز ہے، اجتماعی دعا ہاتھ اٹھا کر کرنا بدعت ہے۔‘‘

(کتاب الجنائز،ج:4، ص:97، ط:دار الاشاعت) 

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144702101613

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں