بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 صفر 1448ھ 21 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

حدیث ’’میری امت کے اکثر منافقین قاری ہوں گے‘‘ کی تحقیق وتفصیل مع بیان مصداق روایت


سوال

پوچھنا یہ ہے کہ لوگوں میں یہ حدیث مشہور ہے جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ:

"میری امت کے اکثر منافقین قاری ہوں گے"۔
یہ روایت بلحاظ سند کس درجہ کی ہے ؟ اوربراہِ کرم یہ بھی رہنمائی فرمائیں کہ اس حدیث کا موجودہ دور میں کن لوگوں پر اطلاق ہوتا ہے؟
 

جواب

مذكوره روايت حضرت عبد الله بن عمرو بن عاص ر ضي الله عنه سے  ’’مسند احمد ‘‘ میں مروی  ہے ، روایت کے الفاظ درج ذیل ہیں: 

" عن عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ أَكْثَرَ مُنَافِقِي أُمَّتِي قُرَّاؤُهَا. " 

(مسند أحمد، (11/ 209) برقم (6633)، ط/ مؤسسة الرسالة)

حكمِ روايت:

يه  روايت سند كے لحاظ سے صحیح روایت ہے۔

’’مجمع الزوائد‘‘ میں ہے :

" رواه أحمد، والطبراني، ورجاله ثقات، وكذلك رجال أحد إسنادي أحمد ثقات. "

(مجمع الزوائد، (6/ 229 و230) برقم (10414)، ط/ مكتبة القدسي، القاهرة)

حديث كا مصداق:

اس حدیث کے مصداق کی تعیین فرماتے ہوئے علامہ مناوی ؒ لکھتے ہیں: 

" (أكثر منافقي أمتي قراؤها) أي الذين يتأولونه على غير وجهه ويضعونه في غير مواضعه أو يحفظون القرآن تقية للتهمة عن أنفسهم وهم معتقدون خلافه فكان المنافقون في عصر النبي صلى الله عليه وسلم بهذه الصفة. ذكره ابن الأثير. وقال الزمخشري: أراد بالنفاق الرياء لأن كلا منهما إرادة ما في الظاهر خلاف ما في الباطن. اه. وبسطه بعضهم فقال: أراد نفاق العمل لا الاعتقاد ولأن المنافق أظهر الإيمان بالله لله وأضمر عصمة دمه وماله. والمرائي أظهر بعلمه الآخرة وأضمر ثناء الناس وعرض الدنيا والقارئ أظهر أنه يريد الله وحده وأضمر حظ نفسه وهو الثواب ويرى نفسه أهلا له وينظر إلى عمله بعين الإجلال فأشبه المنافق واستويا في مخالفة الباطن. " 

يعني اس حدیث کی شرح میں کہا گیا ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو قرآن کی ایسی تاویل کرتے ہیں جو اس کے صحیح مفہوم کے خلاف ہو، یا قرآن کی آیات کو ان کے اصل مواقع کے بجائے غلط جگہ استعمال کرتے ہیں، یا وہ لوگ جو لوگوں کے الزام اور بدگمانی سے بچنے کے لیے قرآن حفظ کرتے ہیں، حالانکہ ان کے دل میں اس کے برخلاف عقیدہ ہوتا ہے، عہدِ نبوی کے منافقین کی یہی کیفیت تھی۔ یہ توضیح ابن الاثیر نے ذکر کی ہے۔

امام زمخشری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: یہاں نفاق سے مراد ریاکاری ہے، کیونکہ نفاق اور ریا دونوں میں ایک مشترک وصف ہے، اور وہ یہ کہ انسان ظاہر میں کچھ اور دکھائے اور باطن میں اس کے خلاف ارادہ رکھے۔

بعض اہلِ علم نے اس کی مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہاں اعتقادی نفاق مراد نہیں بلکہ عملی نفاق مراد ہے، اس لیے کہ منافق بظاہر اللہ پر ایمان ظاہر کرتا ہے، مگر اندرونی طور پر اپنی جان و مال کی حفاظت مقصود رکھتا ہے۔

اسی طرح ریاکار اپنے علم کے ذریعے بظاہر آخرت کا طالب دکھائی دیتا ہے، لیکن باطن میں لوگوں کی تعریف اور دنیاوی فائدہ چاہتا ہے،  اور بعض قاری ایسے ہوتے ہیں جو ظاہر میں یہ دکھاتے ہیں کہ وہ صرف اللہ کی رضا کے لیے قرآن پڑھتے ہیں، لیکن حقیقت میں ان کا مقصد اپنے نفس کا حصہ، یعنی ثواب حاصل کرنا ہوتا ہے، پھر وہ اپنے آپ کو اس کا مستحق سمجھتے ہیں اور اپنے عمل کو عظمت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں،اس اعتبار سے وہ منافق کے مشابہ ہو جاتے ہیں، کیونکہ دونوں میں یہ قدرِ مشترک پائی جاتی ہے کہ ان کے ظاہر اور باطن میں مطابقت نہیں ہوتی۔"

(فيض القدير، (2/ 80) برقم (1384)، ط/ المكتبة التجارية الكبرى، مصر)

اس حدیث کی روشنی میں یہ کہنا  درست  نہیں  کہ ہر قرآن پڑھنے والا منافق ہے، بلکہ اس میں امت کو تنبیہ کی گئی ہے کہ کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے جو قرآن کی تلاوت اور قرأت کی ظاہری صفت رکھتے ہوں گے، مگر ان کا باطن اور عمل منافقین جیسا ہوگا،اصل بات یہ ہے کہ دین کو دنیاوی فائدے، شہرت یا لوگوں کی تعریف حاصل کرنے کا ذریعہ بنانا اور اللہ کی خالص رضا کو چھوڑ دینا، یہی ریاکاری اور عملی نفاق کی بنیاد ہے، اس حدیث کا مقصد اہلِ قرآن کو اخلاص کی طرف متوجہ کرنا اور ریا و دکھلاوے سے بچانا ہے۔فقط واللہ تعالي اعلم


فتویٰ نمبر : 144712101471

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں