بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

میاں بیوی میں علیحدگی کے بعد بچوں کی پرورش کا حق کس کو ہے؟


سوال

میری بیٹی کے شوہر نے اسے تین طلاقیں دے کر رشتہ ازدواج ختم کردیا ہے،میری بیٹی کے تین بیٹے اور دوبیٹیاں ہیں ،بڑے بیٹے کی عمر 22 سال،دوسرے بیٹے کی عمر 14 سال ،تیسرے بیٹے کی عمر5 سال ہے،اورایک بیٹی کی عمر11 سال دوسری بیٹی کی عمر 7 سال ہے،ہم چاہتے ہیں کہ تمام اولاد ہم اپنے پاس رکھیں ،سوال یہ ہے کہ شریعت کی روشنی میں بچے کس کے پاس رہیں گے؟

جواب

 میاں بیوی میں علیحدگی کے بعد بچوں کو اپنے زیر پرورش رکھنے کے حوالے سے شرعی ضابطہ یہ ہےکہ بیٹوں میں جو بیٹا سات سال  سے کم عمر ہواور بیٹیوں میں سے جو بیٹی  نو سال سے کم عمر ہو،اسے ماں اپنے زیر پرورش رکھنے کی حق دار ہوتی ہے،مذکورہ عمر مکمل ہونے کےبعد والد اپنی اولاد کو اپنے زیر تربیت رکھنے کا حق دار ہوتاہے،تاہم اگر والد بچوں کو ماں کےپاس چھوڑنے کےلیے تیارہو،تو اس کی اجازت ہوتی ہے،بچوں کے بالغ وسمجھ دار ہونے کےبعد بچوں کو اختیار ہوتا ہےکہ والدین میں سے کسی ایک کے ساتھ رہنا چاہیں یا  باری باری دونوں کے ساتھ رہنا چاہیں وہ رہ سکتے ہیں۔

فتاوی  ہندیہ میں ہے:

"نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد كذا في الجوهرة النيرة"

(کتاب الطلاق، الباب السابع عشر في النفقات، الفصل الرابع في نفقة الاولاد، ج:1، ص:560، ط:رشيدية)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني وقدر بسبع سنين ... وبعدما استغنى الغلام وبلغت الجارية فالعصبة أولى يقدم الأقرب فالأقرب كذا في فتاوى قاضي خان."

(كتاب الطلاق، الباب السادس عشر في الحضانة، 1/ 542، ط: رشيدية)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"الولد متى كان عند أحد الأبوين لا يمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعاهده كذا في التتارخانية ناقلا عن الحاوي."

(کتاب الطلاق ،الباب السادس عشر  فی الحضانة ،ج:543/1،ط:رشیدیة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707100689

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں