
ہم دو شریک ہیں، میری انویسٹمنٹ ہے، دوسرے بندے کی محنت ہے، دکان کا جتنا خرچہ ہے وہ میرے ذمہ ہے( کرایہ، بجلی کا بل، سولر سسٹم، سلائی مشینیں، استری وغیرہ )، اور اس کا عمل کل مال کی چیکنگ اور کپڑے کی کٹنگ وغیرہ ہے، عمل کے حوالے سے جتنے کام ہیں وہ اس کے ذمہ ہیں، اس میں میرا فائدہ صرف یہ ہے کہ میں کام سے فارغ ہوں، مجھے کوئی دیکھ بھال نہیں کرنی پڑتی، سب کام میرے شریک کے حوالے ہیں۔
کاریگروں کی رہائش اگر میں دیتا تو ان کا خرچہ بھی میں دیتا، لیکن چونکہ شریک کے پاس گھر تھا اوررہائش کا انتظام تھا، تو کاریگر وہاں کام کرتے ہیں، لیکن اس پر ابتدائی خرچہ 15، 20 ہزار میں نے کیا ہے، کاریگروں کا کھانا پینا میرے ذمہ ہے، میرے شریک کی طرف سے صرف عمل ہے۔
اب میرا شریک چاہتا ہے کہ اس کا عمل انویسمنٹ کے درجے میں بن جائے، اور میں اور میرا شریک کاریگروں کے خرچے میں آدھے آدھے شریک ہوجائیں، کاریگروں کا کل خرچہ میرے ذمہ ہے، میرا شریک بھی اس عمل میں شریک ہونا چاہتا ہے، لیکن میں نہیں چاہتا کہ وہ شریک ہو، جب ہم منافع دیکھتے ہیں، تو پھر اگر مثلاً چار لاکھ منافع ہوں، تو اس میں سے کاریگروں کا خرچہ نکالنے کے بعد منافع تقسیم کرتے ہیں، آدھا نفع وہ لیتا ہے اور آدھا نفع میں لیتا ہوں اور پھر میں اس آدھے کو اپنے جو اخراجات کیے ہوتے ہیں اس میں سے شمار کرتا ہوں۔اسی طرح سوٹ گم ہونے کی صورت میں یا حساب کتاب میں کمی ہونے کی صورت میں میرا شریک کہتا ہے کہ میری نیت یہ ہے کہ اس کام کی تلافی میں کروں گا۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ہماری یہ شرکت جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز نہیں ہے ، تو اس کی متبادل صورتیں کیا ہوں گی؟
مذکورہ صورت میں سائل اور شریک کے درمیان جو معاملہ ہوا ہے وہ عقدِ اجارہ کا معاملہ ہے، جس میں سائل کی طرف سے کل مال اور انویسمنٹ ہے اور دوسرا شریک بطورِ اجیر محنت اور کام کرنے والا ہے، اور عقدِ اجارہ میں اجرت کا طے اور متعین ہونا ضروری ہے، اسی طرح مذکورہ معاملے میں سائل اور اجیر کے درمیان نفع کا آدھا آدھا ہونا طے ہوا تھا، جو کہ درست نہیں؛ اس لیے کہ اجیر کو اجرت ملتی ہے، خواہ نفع ہو یا نقصان، لہذا اجرت کے مجہول ہونے کی صورت میں مذکورہ معاملہ فاسد ہوگیا تھا،اب اجیر کو اپنے عمل کی اجرتِ مثل (یعنی مارکیٹ میں اس طرح کام کرنے کی جو اجرت ہو) ملے گی۔
نیز اجیرکایہ کہنا کہ سوٹ گم ہونے کی صورت میں یا حساب وکتاب میں کمی ہونے کی صورت میں نقصان کی تلافی میرے ذمہ ہے، درست نہیں ہے، اس لیے کہ اجارہ میں سارے نفع و نقصان کا ذمہ دار اصل مالک (اجارہ پر رکھنے والا) ہوتا ہے۔
لہذا مذکورہ مسئلے کی نوعیت شراکت کی نہیں ہے، بلکہ یہ عقد اجارہ ہے، اگر دوبارہ سے اجارہ کا ہی معاملہ کرنا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ اجرت رقم کی صورت میں متعین ہو، اور نفع ونقصان سارا مالک کے ذمہ ہو۔
اور اگر شراکت کرنی ہو تو اس صورت میں دونوں کی رقم کو شامل کرنا ضروری ہوگا اور ہر ایک کا سرمایہ اور نفع بھی طے کیا جائے گا، لہذا اس صورت میں مسئلہ کی نوعیت تفصیل کے ساتھ لکھ کر دوبارہ معلوم کر سکتے ہیں۔
الاختیار لتعلیل مذہب المختار میں ہے:
" (اعلم أن الإجارة تفسد بالشروط كما يفسد البيع، وكل جهالة تفسد البيع تفسد الإجارة من جهالة المعقود عليه أو الأجرة أو المدة لما عرف أن الجهالة مفضية إلى المنازعة. والأصل قوله عليه الصلاة والسلام: «من استأجر أجيرا فليعلمه أجره» شرط أن تكون الأجرة معلومة كما شرطه في البيع؛ ولو آجر الدار على أن يعمرها أو يطينها، أو يضع فيها جذعا فهو فاسد لجهالة الأجرة لأن بعضها مجهول؛ لأنه لا يدري ما يحتاج إليه من العمارة، ويعرف غيرها من الشروط المفسدة لمن يتأملها فتقاس عليها.وإذا فسدت الإجارة يجب أجر المثل) لأن التسمية إنما تجب بالعقود الصحيحة. أما الفاسدة فتجب فيها قيمة المعقود عليه كما في البيع."
( كتاب الإجارة، فصل بيان ما يجب إذا فسدت الإجارة، ج:2، ص:57، ط:دار الكتب العلمية )
فتاوی ہندیہ میں ہے:
" ومنها أن تكون الأجرة معلومة."
( كتاب الإجارة، الباب الأول تفسير الإجارة وركنها وألفاظها وشرائطها، ج:4، ص:411، ط:رشیدیة )
درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:
(المادة 450) كون الأجرة معلومة
" ثالثا: إذا استأجر شخص دكانا من آخر على أن يؤدي نصف مربحه فيها إلى الآخر يكون الإيجار فاسدا والربح كله لذلك الرجل وإنما للآجر أخذ أجر المثل (الهندية)."
( الكتاب الثاني الإجارة، الباب الثاني، الفصل الثالث في شروط صحة الإجارة، ج:1، ص:503، ط:دار الجیل )
وفیہ ایضا:
" (المادة 529) أعمال الأشياء التي تخل بالمنفعة المقصودة عائدة على الآجر)
أعمال الأشياء التي تخل بالمنفعة المقصودة عائدة على الآجر: مثلا تطهير الرحى على صاحبها، كذلك تعمير الدار وطرق الماء وإصلاح منافذه وإنشاء الأشياء التي تخل بالسكنى وسائر الأمور التي تتعلق بالبناء كلها لازمة على صاحب الدار."
( الكتاب الثاني الإجارة، الباب السادس، الفصل الأول في بيان مسائل تتعلق بإجارة العقار وأحكامها، ج:1، ص:608، ط:دار الجیل )
وفیہ ایضا:
" تجوز إجارة الآدمي للخدمة أو لإجراء صنعة ببيان مدة أو بتعيين العمل بصورة أخرى، كما بين في الفصل الثالث من الباب الثاني. تجوز إجارة الآدمي للخدمة، أو المحافظة على الوديعة، أو لإجراء صنعة ما كالخياطة والنجارة، أو تعليم القرآن، أو علم الصرف والنحو والفقه وما أشبه ذلك ببيان المدة أو المسافة، أو بتعيين العمل بصورة أخرى، كما بين في الفصل الثالث من الباب الثاني."
( أیضا، الفصل الرابع في بيان إجارة الآدمي، ص:647 )
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801100011
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن