
میرا سوال یہ ہے کہ میرا دوست آن لائن کاروبار کر رہا ہے، اُس نے مجھ سے کہا ہے کہ" تم مجھے دس لاکھ روپے دے دو، میں تمہیں ہر ماہ پچیس ہزار سے تیس ہزار روپے دوں گا" ہو سکتا ہے اس سے زیادہ بھی دوں، لیکن پچیس ہزار سے کم نہیں دوں گا۔ یعنی جتنا بھی منافع ہو، ایک لاکھ ہو یا پچاس ہزار، میں تمہیں اسی منافع میں سے ہر ماہ صرف پچیس سے تیس ہزار روپے دوں گا۔ اور اُس نے یہ بھی کہا ہے کہ "اگر کاروبار میں نقصان ہوا تو وہ نقصان میرا ہوگا، تمہارا کوئی نقصان نہیں ہوگا"، اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ صورت سود (ربا) کے زمرے میں آتی ہے یا نہیں؟ کیوں کہ سود میں تو طے شدہ رقم مقرر ہوتی ہے، براہِ کرم راہ نمائی فرمائیں کہ اگر یہ سود ہے تو پھر ہمیں ایسا کیا کرنا چاہیے کہ ہم دونوں کاروبار بھی کر سکیں اور سود سے بھی بچ جائیں۔
واضح رہے کہ ایک شخص کی رقم اور دوسرے کی محنت کی بنیاد پر کی جانے والی سرمایہ کاری شرعاً مضاربت کہلاتی ہے،اور مضاربت کے عقد میں نفع کی ایک مخصوص رقم مقرر کرنا جائز نہیں ہے،بلکہ حاصل شدہ نفع کو رب المال (انویسٹر) اور مضارب (محنت کرنے والے) کے درمیان فیصد کے اعتبار سے مقرر کرنا ضروری ہے، اگر کسی عقد مضاربت میں ایک مخصوص رقم کسی بھی فریق کے لیے منافع کے طور پر طے کر دی جائے تواس سے یہ عقد فاسد ہوجاتا ہے،اور اس کو ختم کرنا ضروری ہوتا ہے،اور اس سے حاصل شدہ نفع رب المال کو ملے گا،نیز "مضاربت میں اگر نقصان ہو جائے تو اس نقصان کو اولاً نفع سے پورا کیا جاتا ہے، اگر نقصان نفع سے پورا ہوجائے تو ٹھیک ہے، ورنہ اس نقصان کی ذمہ داری رب المال ( انویسٹر ) پر عائد ہوتی ہے ،بشرطیکہ اس نقصان میں مضارب (عامل) کا کوئی دخل نہ ہو ،یعنی وہ نقصان مضارب کی غفلت، کاہلی وغیرہ کی وجہ سے نہ ہوا ہو ۔اگر نقصان مضارب کے قصور اور تعدی کی وجہ سے ہوا ہو تو اس نقصان کی ذمہ داری صرف مضارب پر عائد ہوتی ہے۔
لہذا صورت ِ مسئولہ میں مذکورہ معاملہ میں ہر ماہ متعین رقم طے کرنا اور نقصان کی ذمہ داری لینا شرعاً جائز نہیں ہے ،جواز کی صورت یہ ہے کہ منافع حاصل شدہ حقیقی نفع کا فیصد کے اعتبار سے طے کیا جائے مثلاً اگر سو روپے نفع ہوگا تو دونوں کو اپنے اپنے فیصد کے حساب سے ملیں گے،اور اگر نقصان ہو تو جو بھی نقصان ہو وہ اولاً سابقہ حاصل شدہ دونوں کے نفع سے پورا کیا جائے اور اگر نقصان اس سے بھی زیادہ ہو تو مزید نقصان رب المال برداشت کرے گا ،مضارب کا نقصان یہی ہے کہ اسے کوئی نفع نہ ملا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے :
"أما تفسيرها شرعا فهي عبارة عن عقد على الشركة في الربح بمال من أحد الجانبين والعمل من الجانب الآخر۔۔۔۔۔(ومنها) أن يكون نصيب المضارب من الربح معلوما على وجه لا تنقطع به الشركة في الربح كذا في المحيط. فإن قال على أن لك من الربح مائة درهم أو شرط مع النصف أو الثلث عشرة دراهم لا تصح المضاربة كذا في محيط السرخسي."
(کتاب المضاربة، الباب الاول فی تفسیر المضاربة، ج:4، ص:287، دارالفکر)
در مختار میں ہے :
"(وكون الربح بينهما شائعا) فلو عين قدرا فسدت."
(کتاب المضاربة، ج:5، ص:648، سعید)
وفيه أيضا :
"(وما هلك من مال المضاربة يصرف إلى الربح) ؛ لأنه تبع (فإن زاد الهالك على الربح لم يضمن) ولو فاسدة من عمله؛ لأنه أمين (وإن قسم الربح وبقيت المضاربة ثم هلك المال أو بعضه ترادا الربح ليأخذ المالك رأس المال وما فضل بينهما، وإن نقص لم يضمن) لما مر."
(کتاب المضاربة، ج:5، ص:656، سعید)
تبیین الحقائق میں ہے :
"قال - رحمه الله - (وما هلك من مال المضاربة فمن الربح)؛ لأنه تابع ورأس المال أصل لتصور وجوده بدون الربح لا العكس فوجب صرف الهالك إلى التبع لاستحالة بقائه بدون الأصل كما يصرف الهالك العفو في الزكاة قال - رحمه الله - (فإن زاد الهالك على الربح لم يضمن المضارب)؛ لأنه أمين فلا يكون ضمينا للتنافي بينهما في شيء واحد".
(کتاب المضاربة، باب المضارب یضارب، ج: 5، ص: 67، ط:المطبعة الكبرى الأميرية)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144704101125
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن