
میرا ایک شخص کے ساتھ معاملہ طے ہوا کہ وہ کاروبار میں سرمایہ لگائے گا اور میں محنت کروں گا،جو نفع ہوگا اس کا دس فیصد میرا ہوگا،اور جو نقصان ہوگا وہ بھی دس فیصد مجھ پر عائد ہوگا۔چنانچہ چاول کا کاروبار شروع ہوا،جس کا کل سرمایہ وہ شخص لگاتا اور میں صرف چاول خریدتا اور آگے فروخت کرتا،اس کے علاوہ میرا کوئی سرمایہ چاولوں کے کاروبار میں نہیں لگتا تھا،بس میں اپنی محنت کے دس فیصد نفع میں سے لیتا رہا،بعد میں جب نقصان ہوا تو تقریباً چالیس لاکھ روپے مذکورہ معاہدےکے مطابق مجھ پر لاگو ہوتے ہیں۔
میرا سوال یہ ہے کہ میں تو صرف محنت کرنے کا پابند تھا،بالفاظ دیگر میں صرف ایک مزدور تھا جو اپنی محنت کی کمائی میں سے صرف دس فیصد کے حساب سے نفع لینے کا مجاز تھا،سرمایہ تو پورے کاروبار میں مذکورہ شخص کا لگا ہوا تھا،تو کیا شرعاً میرا اس کے ساتھ مذکورہ معاہدہ درست تھا،اور چالیس لاکھ روپے مجھے ادا کرنے ہوں گے یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں مذکور معاملہ عقد مضاربت کا ہےاور "مضاربت" کے معاملہ میں اصول یہ ہے کہ اگر نقصان ہو جائے تو اس نقصان کو اولاً نفع سے پورا کیا جاتا ہے اگر نقصان نفع سے پورا ہوجائے تو بہتر ورنہ اس نقصان کی ذمہ داری رب المال ( انویسٹر ) پر عائد ہوتی ہے ،مضارب پر نقصان ڈالنے کی شرط لگانا درست نہیں ہے،اگر مضارب پر نقصان کی شرط لگائی گئی ،تو اس کی وجہ سےعقد تو فاسد نہیں ہوگا،بلکہ شرط خود فاسد ہوجاتی ہے۔
یہ اس صورت میں ہے جب نقصان مضارب (محنت کنندہ) کی غفلت، کاہلی وغیرہ کی وجہ سے نہیں ہوا ہو ۔اگر نقصان مضارب کے قصور اور تعدی کی وجہ سے ہوا ہو، تو اس نقصان کی ذمہ داری صرف مضارب پر عائد ہوتی ہے۔
مذکورہ تفصیل کی رو سے زیر نظر مسئلہ میں مذکور معاملہ میں جو نقصان ہوا ہےاگر وہ نقصان مضارب (سائل) کی غفلت و تعدی سے نہیں ہو ا،تو اس نقصان کو سب سے پہلے اس نفع سے پورا کیا جائےگا جو اس مضاربت کے معاملہ سے دونوں کو حاصل ہوا تھا، اگر وہ نقصان نفع سے پورا ہوجائے تو بہتر، اور اگر وہ نقصان نفع سے پورا نہ ہو تو پھر یہ نقصان رب المال (سرمایہ دار ) کا شمار ہوگا،سائل پر باقی رقم ادا کرنا لازم نہیں ہوگا۔
خلاصہ یہ ہے کہ سائل اور مذکورہ شخص کے درمیان ہونے والا مذکورہ معاملہ شرعاً درست تھا، البتہ اس معاملہ میں جو نقصان ہوا ہے اس نقصان کی ذمہ داری مطلقاً سائل پر ڈالنا درست نہیں ہے، اگر سائل کی غفلت ثابت ہوجائے تو ایسی صورت میں یہ نقصان سائل کے ذمہ ہے۔
البحرالرائق میں ہے:
"(هي شركة في الربح بمال من جانب وعمل من جانب)."
وفيه أيضاً:
"الخامس أن يكون نصيب كل منهما معلوما فكل شرط يؤدي إلى جهالة الربح فهي فاسدة وما لا فلا مثل أن يشترط أن تكون الوضيعة على المضارب أو عليها فهي صحيحة وهو باطل."
(كتاب المضاربة،ج: 7،ص: 264،263،ط: دارالكتاب الإسلامي)
بدائع الصنائع میں ہے:
"ولو شرطا في العقد أن تكون الوضيعة عليهما بطل الشرط، والمضاربة صحيحة والأصل في الشرط الفاسد إذا دخل في هذا العقد أنه ينظر إن كان يؤدي إلى جهالة الربح يوجب فساد العقد؛ لأن الربح هو المعقود عليه، وجهالة المعقود عليه توجب فساد العقد، وإن كان لا يؤدي إلى جهالة الربح يبطل الشرط وتصح المضاربة وشرط الوضيعة عليهما شرط فاسد؛ لأن الوضيعة جزء هالك من المال، فلا يكون إلا على رب المال."
(كتاب المضاربة، فصل في شرائط ركن المضاربة، ج: 6، ص: 86، ط: دارالكتب العلميه)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144801101288
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن