بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مزارعت، زمین کا کرایہ اور نوکری اور ٹینڈر کے حصول کے لیے رشوت


سوال

۱)کیا وہ زمین جس میں فصل لگتی ہے اس کو ٹھیکے پر دینا جائز ہے کہ نہیں؟یعنی کرائے پر دینا جائز ہے؟ ہم یوں کرتے ہیں گندم کی فصل کی کٹائی کے بعد زمین کسی دوسرے شخص کو ۴ ماہ یا ۶ ماہ کے لیے کرائے (ٹھیکہ) پر دے دیتے ہیں اور اس سے فی ایکڑ ایک متعین رقم کرایہ وصول کرلیتے ہیں، پھر جو فصل نکلتی ہے وہ کرائے پر لینے والے کی ہوتی ہے۔

۲)اسی طرح گورنمنٹ  کی طرف سے جو ٹینڈر ہوتے ہیں وہ اس کو ملتے ہیں جو پیسے دیتا  ہے تو کیا ٹینڈر حاصل کرنے کے لیے پیسے دینا جائز ہے؟

۳)اسی طرح سرکاری ملازمت پیسے دے کر ملتی ہے ، تعلیمی طور پر لائق ہونے پر نہیں، تو کیا پیسے دے کر ملازمت لینا جائز ہے؟اور جس نے لی اس کو تبادلہ میں مدد کرنا جائز ہے کہ نہیں؟

جواب

۱) صورت مسئولہ میں زمین کو ایک متعین مدت کے لیے متعین رقم کے عوض  کرائے پر دینا جائز ہے۔ جس نے زمین کرائے پر لی ہے اس کا اختیار ہے کہ اب وہ اس پر جو اگانا چاہتا ہے اگائے ۔ نیز حاصل ہونے والی مکمل کھیتی کرائے پر لینے والے کی ہوگی۔

۲) رشوت دے کر سرکاری ٹینڈر حاصل کرنا شرعا جائز نہیں ہے اور رشوت دینے ولا سخت گناہ گار ہوگا۔اس  کے بجائے متبادل حلال ذریعہ آمدن تلاش کرنا چاہیے۔

نیز اگر رشوت دے کر ٹینڈر حاصل کرلیا  اور  مفوضہ کام ذمہ داری سے پورا کیا، جو اشیاء اس ٹینڈر میں استعمال کرنی ہیں وہ بھی معیاری استعمال کیں ، کسی قسم کی کوئی دھوکہ دہی اور خیانت سے کام نہیں کیا (جیسا کہ عام طور پر رشوت دے کر ٹنڈر حاصل کرنے میں ہوتا ہے) تو پھر اجرت حلال ہوگی۔

۳)  رشوت دے کر سرکاری نوکری حاصل کرنا شرعا جائز نہیں ہے،رشوت دینے والا سخت گناہ گار ہوگا۔ متبادل ذریعہ آمدن تلاش کر کے وہ اختیار کرنا چاہیے۔

نیز اگررشوت دے کر نوکری حاصل کرکے اپنی اہلیت کی بناء پر نوکری کی ذمہ داریوں کو پورا کیا اور اس میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی نہیں کی تو   اجرت حلال ہوگی ۔ایسی صورت میں  ایسے شخص(یعنی جو اہلیت کی بناء پر ذمہ داریوں کو پورا کر رہا ہے) کی تبادلہ میں مدد کی جاتی ہے تو یہ مدد کرنا جائز ہوگا۔ 

تحفۃ الفقہاء میں ہے:

"أما الأول فنقول المزارعة عبارة عن عقد الزراعة ببعض الخارج وهو إجارة الأرض أو العامل ببعض الخارج وأما إجارتهما بالدراهم والدنانير في الذمة أو معينة فلا يكون عقد مزارعة ‌بل ‌سمي ‌إجارة وقد ذكرنا في كتاب الإجارة."

(کتاب المزارعۃ، ج:۳،ص:۲۶۳،دار الکتب العلمیۃ)

فتاوی شامی میں ہے:

"الرشوة لا تملك بالقبض.

لا بأس بالرشوة إذا خاف على دينه والنبي عليه الصلاة والسلام كان يعطي الشعراء ولمن يخاف لسانه وكفى بسهم المؤلفة من الصدقات دليلا على أمثاله 

(قوله إذا خاف على دينه) عبارة المجتبى لمن يخاف، وفيه أيضا دفع المال للسلطان الجائر لدفع الظلم عن نفسه وماله ولاستخراج حق له ليس برشوة يعني في حق الدافع اهـ."

(کتاب الحظر والاباحۃ، ج:۶،ص:۴۲۳، ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144612101027

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں