
میاں بیوی کے درمیان بیوی کے ٹیوشن پڑھانے کے متعلق بحث ہو رہی تھی۔اس وقت کہیں بھی طلاق کا موضوع نہیں تھا۔نہ ہی شوہراس وقت بیوی کو طلاق دینے کا کوئی ارادہ اور نیت رکھتا تھا۔اسی موضوع (ٹیوشن) پر جب بحث کافی دیر جاری رہی تو بیوی نے بحث سے تنگ آکر بولا آپ کو جو فیصلہ کرنا ہے کریں۔بیوی نے یہ بات طلاق لینے کی نیت سے نہیں کہی تھی نہ کہی ذہن میں طلاق کا کوئی خیال تھا۔مقصد بحث سے جان چھڑانا تھا۔ اسی بحث کے دوران شوہر نے دو دفعہ بیوی کو بول دیا جاو تم میری طرف سے فارغ ہو ۔یہ الفاظ شوہر نے بیوی کے بغیر شوہر کی اجازت سے ٹیوشن پڑھانے پر ناراضگی میں کہے بیوی کو طلاق دینے کی کوی نیت اور ارادہ نہیں تھا۔ بیوی شوہر سے نیت جانے بغیر گھر سے آ گئ، شوہر کے واپس بلانے پر واپس نہیں گئ نہ کوئی رابطہ رہا ۔اور عدت گزر گئ۔عدت کے بعد بیوی کو شوہر کی نیت کا علم ہوا کہ یہ بولتے وقت نہ شوہر کی نیت طلاق دینے کی تھی نہ شوہر کو ان الفاظ کی نزاکت کا کوئی اندازہ تھا۔ لیکن چونکہ عدت گزر چکی تھی اور خاندان میں بھی یہ بات سب کو معلوم ہو چکی تھی اس لیے اس رشتے کو ختم سمجھ کر سب خاموش ہو گئے۔ اب اس سارے معاملے کو ایک سال کا عرصہ گزر چکا۔مگر دل میں بار بار یہ خیال آتا ہے کہ کنائی الفاظ سے طلاق کے واقع ہونے کی جو شرائط ہوتیں ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی اس وقت موجود نہیں تھی۔ نہ ہی مذاکرہ طلاق تھا،نہ مطالبہ طلاق اور نہ ہی شوہر کی نیت طلاق دینے کی تھی۔تو کیا اس ساری صورتحال میں طلاق واقع ہوی یا نکاح قائم ہے۔بیوی اس سارے معاملے میں کہیں گناہگار تو نہیں ہو گی۔شرعی حکم کیا بنتا ہے؟
صورت مسئولہ میں جب شوہر نے بیوی کے ساتھ ٹیوشن پڑھانے کے مسئلے پر بحث و مباحثے کے دوران دو مرتبہ یہ الفاظ کہے "جاؤ، تم میری طرف سے فارغ ہو"، اور اس وقت نہ مذاکرۂ طلاق تھا، نہ بیوی کی جانب سے طلاق کا مطالبہ کیا گیا تھا، اور نہ ہی شوہر نے طلاق کی نیت سے یہ الفاظ ادا کیے تھے، تو ایسی صورت میں بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ لہٰذا نکاح بدستور برقرار ہے، اور محض عدت گزر جانے یا لوگوں کے رشتہ ختم سمجھ لینے سے نکاح ختم نہیں ہوتا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے :
"الكنايات) لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة.۔۔۔ (وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية بتة بتلة بائن حرام۔۔۔ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين."
(کتاب الطلاق ، ج : 1 ، ص : 374 ، ط : دارالفکربیروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801100715
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن