بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

میوچل فنڈ میں پیسا لگانا کیسا ہے؟


سوال

کیا اسلامی میوچل فنڈز میں پیسے انویسٹ کرنا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ مروجہ اسلامی میوچل فنڈز کے طریقہ کار کا خلاصہ یہ ہے کہ :
انویسٹر بطور مؤکل کے اپنی رقم فنڈز والوں کو پیش کرتا ہے۔ فنڈز والے انویسٹر کی رقم اور اس کی ضروریات کے مطابق مختلف شعبوں میں سے کسی ایک شعبہ کی طرف اس کی رہنمائی کرتے ہیں۔

فنڈز والے اس کی رقم کو بطور وکیل کے کل پانچ مدات میں لگاتے ہیں:
(1):-اسٹاک ایکسچینج
(2):-گورنمنٹ کے صکوک
(3):-پرائیویٹ کمپنیوں کے صکوک 
(4):-اسلامی بینکوں کے منافع بخش اکاؤنٹس 
(5):-سونا اور چاندی کی مارکیٹ
اس خدمت کے عوض یہ ادارے فیس وصول کرتے ہیں۔

(بحوالہ ۴۷،فتوی نمبر: ۸۱ جاری شدہ از دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی، مورخہـ:۱۳-۰۴-۱۴۳۸ھ،۲۰۱۷-۰۱-۱۲ء )

ان اداروں میں سرمایہ کاری کے لیے شرعی حکم یہ ہے کہ:

پہلی مد جس میں کہ یہ ادارہ اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کرکے شیئرز کی خرید و فروخت کرتا ہے، اس میں کاروبار کرنے کے لیے شیئرز کے کاروبار کے سلسلے میں اگر مندرجہ ذیل شرائط کا لحاظ رکھاجائے تو جائز ہوگا۔ورنہ نہیں:

1۔ جس کمپنی کے شیئرز کی خرید و فروخت کی جارہی ہو، خارج میں اس کمپنی کا وجود ہو، صرف کاغذی طور پر رجسٹرڈ نہ ہو۔

2۔  اس کمپنی کے کل اثاثے صرف نقد کی شکل میں نہ ہوں، بلکہ اس کمپنی کی ملکیت میں جامد اثاثے بھی موجود ہوں۔

3۔ کمپنی کا کل یا کم از کم اکثر سرمایہ حلال ہو۔

4۔ کمپنی کا کاروبار جائز ہو، حرام اشیاء کے کاروبار پر مشتمل نہ ہو۔

5۔ شیئرز کی خرید و فروخت میں، خرید و فروخت کی تمام شرائط کی پابندی ہو۔ (مثلاً: شیئرز خریدنے کے بعد وہ مکمل طورپرخریدار کی ملکیت میں  آجائیں، اس کے بعد انہیں آگے فروخت کیا جائے، خریدار کی ملکیت مکمل ہونے اور قبضے سے پہلے شیئرز آگے فروخت کرنا جائز نہیں ہوگا، اسی طرح فرضی خریدوفروخت نہ کی جائے۔)

6۔ حاصل شدہ منافع کل کا کل شیئرز ہولڈرز میں تقسیم کیا جاتا ہو، (احتیاطی) ریزرو کے طور پر نفع کا کچھ حصہ محفوظ نہ کیا جاتا ہو۔

7۔ شیئرز کی خرید و فروخت کے دوران بالواسطہ یا بلاواسطہ سود اور جوے کے کسی معاہدے کا حصہ بننے سے احتراز کیا جاتا ہو۔

8۔ مذکورہ بالا شرائط کا لحاظ رکھ کر اگر کوئی کمپنی سونا، چاندی یا نقدی کی خرید و فروخت کرتی ہے تو اس کے صحیح ہونے کے لیے ایک شرط مزید یہ بھی ہے کہ عوضین پر قبضہ مجلسِ عقد میں ہو، اگر کسی ایک عوض پر قبضہ ادھار ہو تو یہ جائز نہیں ہے۔

مذکورہ بالا شرائط کی رعایت کرتے ہوئے اگر شیئرز کا کاروبار کیا جائے تو جائز ہوگا، اور شرائط کا لحاظ نہ رکھنے کی صورت میں یہ کاروبار جائز نہیں ہوگا۔

دوسری اور تیسری مد (صکوک) میں   سرمایہ کاری کرنا بھی درست نہیں، اس لیے کہ مروجہ صکوک (چاہے گورنمنٹ کے ہوں یا بینک کے ہوں) میں مندرجہ ذیل خرابیاں موجود ہیں، اس لئے ان کی خریدو فروخت جائز نہیں ہے، اور منافع بھی حلال نہیں ہے، اور وہ خرابیاں یہ ہیں :

1۔صکوک خرید نے والے لوگ صرف منافع یا کرایہ وصول پاتے ہیں ، نقصان میں حصے دار نہیں ہوتے ، اور یہ شریعت کے خلاف ہے۔ 

2۔لگائے گئے سرمائے پر اصل رقم کے حساب سے طے شدہ منافع دیا جاتاہے، اور یہ سود ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے۔

3۔شراکت کی مدت کے اختتام پر اثاثہ جات کا تصفیہ نہیں کیا جاتا ، بلکہ صکوک جاری کرنے والا صکوک کے اوپر لکھی ہوئی قیمت ( Face Value) کے عوض دوبارہ خرید لیتا ہے، یہ شراکت کے تصور کے خلاف ہے۔  

چوتھی مد(اسلامی بینکوں کے منافع بخش اکاؤنٹس ) میں پیسے بھی ناجائز ہے،اس لیے کہ مروجہ اسلامی بینکوں  کااور ان سےمنسلکہ اداروں کا  اگرچہ یہ دعویٰ ہے کہ وہ اسلامی بینک ہےاور علماءِ کرام کی نگرانی میں  شرعی اصولوں کے مطابق کام کرتے ہیں،لیکن کسی بھی مروجہ اسلامی بینک کے معاملات مکمل طور پر شرعی اصولوں کے مطابق نہیں ہیں،مروج اسلامی  بینک اور  روایتی بینک کےبہت سے  معاملات  تقریباً  ایک جیسے  ہیں۔لہذاکسی بھی مروجہ اسلامی بینکوں  میں سرمایہ کاری  کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ 

پانچوی مد  (سونا اور چاندی کی مارکیٹ) سونا یاچاندی ایسی جنس ہیں کہ جن کی بیع درست ہونے کے لیے  ضروری ہے کہ ہاتھ در ہاتھ ہو اور مجلسِ عقد میں جانبین سے عوضین پر قبضہ پایا جائے، لہٰذا اگر وکیل  دونوں شرطوں (ہاتھ در ہاتھ ہو اور مجلسِ عقد میں جانبین سے عوضین پر قبضہ) کا لحاظ رکھ کر خرید وفروخت کریگا تو جائز ہوگا، ورنہ یہ سود ہونے کی وجہ سے ناجائز ہوگا۔

حدیث شریف  میں ہے:

"عن جابر رضي الله عنه قال: " لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌آ كل ‌الربا وموكله وكاتبه وشاهديه، وقال: "هم سواء".

(مشكاة المصابيح ،باب الربوا، ص: 243، ط: قدیمی)

ترجمہ:”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سُود کھانے والے ، کھلانے والے ، (سُود کا حساب) لکھنے والے  اورسود پر گواہ بننے والے پر لعنت کی ہے۔ ‘‘

البحر الرائق میں ہے:

"‌وأما ‌شرائط ‌المعقود ‌عليه فأن يكون موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه وأن يكون ملك البائع فيما يبيعه لنفسه وأن يكون مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم ... وخرج بقولنا وأن يكون ملكا للبائع ما ليس كذلك فلم ينعقد بيع ما ليس بمملوك له، وإن ملكه بعده."

(كتاب البيع، شرائط النفاذ، ج: 5، ص: 279/280، ط: دار الکتب الإسلامی )

الفقه الإسلامي و ادلته میں ہے:

"وأما الموكل فيه (محل الوكالة): فيشترط فيه ما يأتي: ....

أن يكون التصرف مباحاً شرعاً: فلا يجوز التوكيل في فعل محرم شرعاً، كالغصب أو الاعتداء على الغير."

(کتاب الوكالة، شروط الوكالة، الموكل فيه، ج: 4، ص: 2999، ط: دار الفكر)

فقه المعاملات میں ہے:

"يشترط في الموكل به - لصحة الوكالة - ثلاثة شروط:

(أحدها) أن يكون إتيانه سائغًا شرعًا.

وعلى ذلك فلايصح التوكيل بالعقود المحرمة والفاسدة والتصرفات المحظورة شرعًا؛ لأنّ الموكل لايملكه، فلايصحّ أن يفوضه إلى غيره، و لأن التوكيل نوع من التعاون، و التعاون إنما يجوز على البر والتقوى لا على الإثم والعدوان."

(کتاب الوكالة، المؤكل به، ج: 1، ص: 1067)

الجوهرة النيرة میں ہے:

"‌ومن ‌اشترى ‌شيئا ‌مما ‌ينقل ‌ويحول لم يجز له بيعه حتى يقبضه) مناسبة هذه المسألة بالمرابحة والتولية أن المرابحة إنما تصح بعد القبض ولا تصح قبله."

(كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، ج: 1، ص: 210، ط: المطبعة الخيرية)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"‌أما ‌شركة ‌العقود ‌فأنواع ‌ثلاثة: شركة بالمال، وشركة بالأعمال وكل ذلك على وجهين: مفاوضة وعنان، كذا في الذخيرة. وركنها الإيجاب والقبول ... وشرط جواز هذه الشركات كون المعقود عليه عقد الشركة قابلا للوكالة، كذا في المحيط وأن يكون الربح معلوم القدر، فإن كان مجهولا تفسد الشركة وأن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة لا معينا فإن عينا عشرة أو مائة أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة، كذا في البدائع. وحكم شركة العقد صيرورة المعقود عليه وما يستفاد به مشتركا بينهما، كذا في محيط السرخسي."

(كتاب الشركة، الباب الأول في بيان أنواع الشركة، الفصل الأول في بيان أنواع الشركة، ج:2، ص:301/302، ط:دار الفكر)

جواہر الفتاوی میں ہے:

''نهي رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم عَن بيع الكالئ بالكالئ.''

یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادھار کی بیع ادھار سے منع  فرمایا ہے۔

(ج: 3 ، ص:70، ط: اسلامی کتب خانہ)

أحكام القران للجصاص میں ہے:

"‌وحقيقته ‌تمليك ‌المال ‌على ‌المخاطرة. وهو أصل في بطلان عقود التمليكات الواقعة على الأخطار."

(سورۃ المائدة، ‌‌مطلب: في تأويل ما ورد عنه عليه السلام من أنه۔۔۔الخ،  باب تحريم الخمر، ج:4، ص:127، ط:دار احياء التراث العربي)

وفیہ ایضاً:

"‌ولا ‌خلاف ‌بين ‌أهل ‌العلم ‌في ‌تحريم ‌القمار وأن المخاطرة من القمار; قال ابن عباس: إن المخاطرة قمار وإن أهل الجاهلية كانوا يخاطرون على المال، والزوجة، وقد كان ذلك مباحا إلى أن ورد تحريمه. وقد خاطر أبو بكر الصديق المشركين حين نزلت {الم غلبت الروم} [الروم: 1 -2] وقال له النبي صلى الله عليه وسلم: "زد في الخطر وأبعد في الأجل" ثم حظر ذلك ونسخ بتحريم القمار. ولا خلاف في حظره."

(سورۃ البقرة: 219، باب تحريم الميسر، ج:2، ص:11، ط:دار احياء التراث العربي)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707100841

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں