بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

متعنت شوہر سے تنسیخِ نکاح کا طریقہ


سوال

شوہر   مجھے دو سال پہلے گھر میں لڑائی جھگڑے کی وجہ سے زبردستی میکے لے گئے تھے کیوں کہ وہ کماتے نہیں تھے، دس مہینے کی بچی تھی، کوئی خرچہ نہیں دے کر گئے تھے، اپنی بیٹی کا بھی نہیں دیا،  آہستہ آہستہ فیملی کے ساتھ باتیں ہوئیں، کہتا ہے نہ لے کر جاؤں گا، نہ چھوڑوں گا،  اسی دوران گھر والے خلع کی طرف آ رہے تھے اور میں خرچے کی طرف گئی کہ کیا پتا گھر بس جائے بچی کی خاطر،  پھر میں نے خرچے کا کیس کیا لیکن کوئی جواب نہیں آیا، بس کال پر یہی باتیں کہتا ہے کہ ”کس چیز کا خرچہ؟  باپ کے گھر ہو، اور ہو میری بیوی ہی،  جب میرا دل کرے گا میں لے کر چلا جاؤں گا“،  میں نے کہا میرا نہ سہی اپنی بیٹی کا تو دے، وہ تو آپ کا حق ہے خرچہ دینا،  پھر فضول باتیں شروع کر دیں، گالی گلوچ کرنے لگ گئے،  میں نے یہ میسج کر کے نمبر بلاک کر دیا : ”جو بھی آپ کو پرابلم ہے ایشوز ہیں مجھ سے، آئیں سامنے بیٹھ کر بات کریں گے فیس ٹو فیس“،  پھر معزز بندے بیچ میں پڑے تو انہوں نے دو مہینے میرے سسر اور شوہر سے بات کی، ان کو سمجھایا  کہ جیسے اچھے طریقے سے نکاح کیا تھا ویسے ہی اگر چھوڑنا ہے تو اچھے طریقے سے چھوڑ دو، لیکن اس طرح آپ کسی کی بیٹی پر ظلم نہیں کر سکتے، دو مہینے ان کو منتیں کیں، پھر اس نے کہا:  ”بیٹھی رہے، دوں گا طلاق پندرہ بیس سال بعد“،  پھر اچانک دو مہینے پہلے ہمیں پتا لگا کہ باہر چلا گیا ہے، اب میں چاہتی ہوں کہ میں خلع لے لوں ، اس نے  بہت ذہنی ٹارچر کیا ہے، اپنے ساتھ رکھتے ہوئے بھی اور میکے میں چھوڑ کر بھی، اب آپ مجھے بتائیں قرآن کی روشنی میں  کہ ایسی صورتِ حال میں خلع لینا میرےلیے  جائز ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب سائلہ کا شوہر نان ونفقہ نہیں دے رہا تو   شوہر کو  اپنی  زندگی کے بارے میں  سوچنا ہوگا  کہ وہ اگر اپنی بیوی کو ساتھ  رکھنے اور اپنا گھر بسانے کا  ارادہ رکھتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ بیوی کا نان ونفقہ ادا کرتارہے اور اس کے ساتھ  خوشحالی سے  زندگی گزارنے کے لیے تیار ہوجائے، اور اگر اس کا ارادہ اپنا گھر بسانے کا نہیں ہے تو  پھر اسے چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے  یا خلع دینے پر راضی ہوجائے، اور اگر دونوں صورتوں پر راضی نہیں ہے تو پھر بیوی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ عدالت جاکر تنسیخِ نکاح کا کیس دائر کرے، جس کا طریقہ یہ ہےکہ : بیوی شوہر پر حقوق ، نان و نفقہ نہ دینے کی بنیاد پر  تنسیخِ نکاح کا  مقدمہ   عدالت میں دائر کرے،پھر اپنے نکاح کو شرعی گواہوں سے ثابت کرے ،اس کے بعد شوہر کے حقوق ادا نہ کرنے کو شرعی گواہوں سے ثابت کرے ،پھرقاضی شرعی شہادت کے ذریعہ پوری تحقیق کرے،اگر عورت کا دعویٰ صحیح ثابت ہو کہ شوہر باوجود وسعت کے حقوق ادا نہیں کررہا تو  جج شوہرکوعدالت میں حاضر ہونے کاسمن جاری کرے  ، اگر شوہر عدالت میں حاضر ہوکر گھر بسانےاور نان و نفقہ کی ادائیگی  پر آمادہ  ہوجائے تو ٹھیک،لیکن  اگر وہ عدالت میں حاضر نہ ہو یا حاضر ہو لیکن حقوق کی ادائیگی پر راضی نہ ہو  تو عدالت نکاح فسخ کردے، جس کے بعد  عورت اپنی عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔

حیلۂ ناجزہ میں ہے:

"والمتعنت الممتنع عن الانفاق ففی مجموع الامیر ما نصه: إن منعھا نفقة الحال فلها القیام فإن لم یثبت عسرہ أنفق، أو طلق، وإلا طلق علیه، قال محشيه: قوله: وإلا طلق علیه، أي طلق عليه الحاکم من غیر تلوم، ... إلى أن قال: وإن تطوع بالنفقة قریب أو أجنبي، فقال ابن القاسم: لها أن تفارق لأن الفراق قد وجب لها، وقال ابن عبدالرحمن: لا مقال لها لأن سبب الفراق هو عدم النفقة قد انتهى وهو الذی تقضيه المدونة، کما قال ابن المناصب، انظر الحطاب."

(حیلۂ ناجزہ، ص: 73، فصل فی حکم زوجۃ المتعنت)

وفیہ ایضا: 

”زوجۂ متعنت کو اول تو لازم ہے کہ کسی طرح خاوند سے خلع وغیرہ کر لے ،لیکن اگر با وجو د سعی بلیغ کے کوئی صورت نہ بن سکے تو سخت مجبوری کی حالت میں مذہب مالکیہ پر عمل کرنے کی گنجائش ہے، کیوں کہ ان کے نزد یک زوجہ متعنت کو تفریق کا حق مل سکتا ہے، اور سخت مجبوری کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ عورت کا خرچ کا کوئی انتظام نہ ہو سکے، یعنی نہ تو کوئی شخص عورت کے خرچ کا بندو بست کرتا ہو ،اور نہ خود عورت حفظ آبرو کے ساتھ کسب معاش پر قدرت رکھتی ہو، اور دوسری صورت مجبوری کی یہ ہے کہ اگر چہ بسہولت یا بدقت خرچ کا انتظام ہو سکتا ہے لیکن شوہر سے علیحدہ رہنے میں ابتلاء معصیت کا قومی اندیشہ ہو۔“

(الحیلۃ الناجزہ، حکم زوجہ متعنت ، ص :72، ط: دار الاشاعت)
فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704100924

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں