
طلاق کے بعد آج کے حساب سے عدت کا خرچہ کیا ہوگا؟
لڑکی کے سسرال والے کہہ رہے ہیں کہ اگر عدت کا خرچہ ہم دیں گے تو ہماری مرضی ہم کہیں بھی عدت کروائیں تو اس بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ابھی لڑکی اپنے ماں باپ کے گھر عدت گزار رہی ہےتو ماں باپ کے گھر کے علاوہ کہیں اور بھی عدت ہوسکتی ہے یا نہیں ؟
لڑکی کو اس کےشوہر نے موبائل اپنی خوشی سےلےکر دیا تھا ،اور طوطےکاجوڑاجو کہ عیدی کے طورپر دیا تھا تووہ لڑکی کی ملکیت شمار ہے یا نہیں ؟
طلاق دینے کی صورت میں عدت کا خرچہ شرعاً مرد کے اوپر لازم ہے، البتہ اس کی کوئی خاص مقدار متعین نہیں، بلکہ اس میں مرد اور عورت کی حالت کا اعتبار ہے،جتنا شوہر کی وسعت ہو اور عورت کی ضرورت پوری ہوسکے اسی کے بقد ر نان نفقہ یعنی خرچہ واجب ہے،لہٰذا شوہر کی آمدنی اور عورت کے ضروری اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے باہمی رضامندی سے خرچہ متعین کرلیا جائے،البتہ اگر مطلقہ بیوی عدت کے ایام شوہر کے گھر میں گزارے یا شوہر کی اجازت سے میکے میں گزارے تو دونوں صورتوں میں عدت کا خرچہ دینا شوہر پر لازم ہے اور اگر مطلقہ بیوی شوہر کی اجازت کے بغیر کسی اور جگہ چلی گئی تو عدت کا خرچہ دینا شوہر پر لازم نہیں۔
صورتِ مسئولہ میں لڑکی طلاق کے بعدشوہر کے گھر میں عدت گزارے گی،یعنی جس گھر میں وہ طلاق سے پہلے رہائش پذیر تھی اسی گھر میں رہے گی، بلاضرورت شدیدہ میکہ میں عدت گزارنا شرعا ًناجائز ہے، اگر اشد ضرورت ہو، مثلا :گھر منہدم ہوجائے، یا وہ عورت کو گھر سے نکال دیں، یا اس کی جان، مال ، عزت خطرہ میں ہوں تو ایسی صورت میں وہ قریب ترین دوسری جگہ منتقل ہوسکتی ہے،لہٰذا لڑکی کے سسرال والوں کا یہ کہنا کہ اگرہم عدت کا خرچہ دیں گے تو ہم جہاں چاہیں گے لڑکی وہاں عدت گزارے گی درست نہیں ۔
اگر لڑکی کو اس کے شوہر نے طلاق سے پہلے اپنی خوشی سےموبائل اور طوطے کا جوڑا دیا تھا ،اور لڑکی کے قبضہ میں بھی دے دیا تھا ،اورشوہر کی طرف سے واپسی کی کوئی بات بھی نہیں ہوئی تھی تو یہ شوہر کی طرف سے گفٹ شمار ہوگا اور لڑکی ان چیزوں کی مالک ہوگی ۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"المعتدة عن الطلاق تستحق النفقة والسكنى كان الطلاق رجعيا أو بائنا، أو ثلاثا حاملا كانت المرأة، أو لم تكن كذا في فتاوى قاضي خان ... والمعتدة إذا كانت لا تلزم بيت العدة بل تسكن زمانا وتبرز زمانا لا تستحق النفقة كذا في الظهيرية . ولو طلقها، وهي ناشزة فلها أن تعود إلى بيت زوجها، وتأخذ النفقة ... وكما تستحق المعتدة نفقة العدة تستحق الكسوة كذا في فتاوى قاضي خان ويعتبر في هذه النفقة ما يكفيها وهو الوسط من الكفاية وهي غير مقدرة؛ لأن هذه النفقة نظير نفقة النكاح فيعتبر فيها ما يعتبر في نفقة النكاح."
(كتاب الطلاق، الباب السابع عشر في النفقات، الفصل الثالث في نفقة المعتدة، ج:1، ص:557،558، ط: دار الفكر)
البحرالرائق میں ہے:
"المعتدة إذا خرجت من بيت العدة تسقط نفقتها ما دامت على النشوز فإن عادت إلى بيت الزوج كان لها النفقة والسكنى، ثم الخروج عن بيت العدة على سبيل الدوام ليس بشرط لسقوط نفقتها فإنها إذا خرجت زمانا وسكنت زمانا لا تستحق النفقة."
(کتاب الطلاق، باب النفقة ،ج:4/ 217،ط: دار الكتاب الإسلامي)
الدرالمختار میں ہے:
"(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه."
(باب العدة، فصل في الحداد،ج:3، ص: 536،ط:سعید)
درر الحكام في شرح مجلۃالأحكام میں ہے:
"تتم بقبض الهبة والهدية والصدقة قبضا كاملا أي بقبض الموهوب له أو نائبه ومعنى تتم أي يفيد الملكية."
(الكتاب السابع الهبة، الباب الأول بيان المسائل المتعلقة بعقد الهبة، الفصل الأول في بيان مسائل متعلقة بركن الهبة وقبضها، المادة 837، ج:2، ص:396، ط:دار الجیل)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100240
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن