بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مطلقہ کی عدت کے بارے میں مختلف سوالات کے جوابات


سوال

1-میری بیٹی کی شادی کو ڈیڑھ سال ہو گیا ہے،لیکن گزشتہ  سات مہینے سے وہ  میرے گھر پر ہے باہمی رضامندی سے بیٹی طلاق لے رہی ہے،اور شوہر بھی طلاق دینے پر آمادہ ہے، عدت کے بارے میں ہماری رہنمائی فرمائیں ۔

2-میں مزدور آدمی ہوں اخبار کا کام کرتا ہوں، میری بیٹی جب گھر آکر بیٹھی تھی تو اس نے اسکول میں پڑھانا شروع کر دیا تھا،  اسکول میں چند مرد حضرات بھی ہیں، اور تقریبا 40 کے قریب لیڈی ٹیچر بھی ہیں، میری آمدنی کم ہے، میری بیٹی میرا ہاتھ بٹاتی ہے ،ہم کرائے کے گھر میں رہتے ہیں، کیا میری بیٹی شرعی پردے میں رہ کر طلاق کے بعد دوران عدت اسکول پڑھانے جا سکتی ہے؟ اور یہ جاب جاری رکھ سکتی ہے؟ 

3-میری بیٹی کا حق مہر 50 ہزار روپے لکھوایا گیا تھا، جو انہوں نے ولیمے کے دن اتنی ہی مالیت کے کان کےبندوں کی صورت میں ادا کر دیا تھا، میری بیٹی وہاں جانا نہیں چاہتی، اس صورت میں دونوں کی رضامندی سے طلاق ہو رہی ہے، کیا اس صورت میں حق مہر واپس کرنا پڑے گا یہ میری بیٹی کی ملکیت رہے گی؟

جواب

1-صورت مسئولہ میں سائل  کو چاہیے کہ اپنی بیٹی اور داماد کے درمیان دونوں  خاندان کے بڑوں کے ذریعے صلح صفائی کی کوشش کرے،اور  حتی الامکان اس بات کی کوشش کرے کہ  دونوں آپس میں نباہ کرلیں اور گھر ٹوٹنے سے بچ جائے،اس لیے کہ  اللہ کے نزدیک  حلال چیزوں میں سے سب سے مبغوض  ترین چیز طلاق ہے، طلاق سے شیطان خوش ہوتا ہے، رحمان ناراض ہوتا ہے ،تاہم زیر نظر مسئلہ میں حتی المقدور کوشش کے باوجود میاں بیوی کے درمیان اگر مصالحت کی کوئی امید نہ ہو، میاں بیوی کے حقوق کی ادائیگی ناممکن ہو تو اس صورت میں شوہر سے طلاق لے کر الگ ہونے کی گنجائش ہے، طلاق کی بہتر صورت یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو ایسی پاکی میں ایک  طلاق دے جس میں اس سے تعلق قائم نہ کیا ہو ،طلاق کے بعد عدت (پوری تین ماہواری اگر حمل نہ ہو اگر حمل ہو تو بچے کی پیدائش تک گزار کر )بیوی کا دوسری جگہ نکاح کرنا جائز ہوگا۔

2-اگر شوہر عدت کا نفقہ ادا نہ کرے اور نہ ہی بیٹی کے پاس ایام عدت کے نان و نفقہ   کا انتظام ہو، اور نہ ہی سائل اپنی بیٹی کی ضروریات کی ادائیگی کا متحمل ہو تو ایسی مجبوری  میں سائل کی بیٹی  ایام عدت میں پردے کے اہتمام کے ساتھ صرف دن میں ملازمت کے لیے جا سکتی ہے،اور سورج غروب ہونے سے واپس آ جائے، باقی عورت کا کسی ایسی جگہ پر ملازمت کرنا جہاں مرد و زن کا اختلاط ہو ،خواہ عورت عدت میں ہو یا نہ ہو شرعا جائز نہیں، اور اگر ایام عدت کے نان و نفقہ کا انتظام ہو تو ملازمت کے لیے نکلنا جائز نہیں ہوگا ،نیز  عدت کا نان و نفقہ شرعا شوہر پر لازم ہے، اگر بیوی شوہر کی اجازت سے والد کے گھر آئی ہے، اور سات ماہ سے اپنے والد سائل کے گھر رہ رہی ہے تو بیوی اپنی عدت سائل (اپنے والد)کے گھر گزارے گی اور عدت کا نفقہ  شوہر پر لازم ہوگا۔

3۔ باہمی رضا مندی سے طلاق ہونے کی صورت میں   سائل کی بیٹی  کو اس کے  شوہر کی طرف سے  دیا گیا مہر  بیوی کی ملکیت ہی شمار ہوگا،واپس کرنے کی ضرورت نہ ہوگی۔

جوہرۃ النیرۃ میں ہے:

"قوله وعلى المعتدة أن تعتد في المنزل الذي يضاف إليها بالسكنى حال وقوع الفرقة والموت) هذا إذا كان الطلاق رجعيا أما إذا كان بائنا أو ثلاثا فلا بد من سترة بينها وبين الزوج إلا أن يكون فاسقا يخاف عليها منه فإنها تخرج؛ لأن هذا عذر ولا تخرج عما انتقلت إليه."

(کتاب الطلاق،باب العدۃ،ج:2، ص:80،ط:مطبعۃ الخیریة)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"المعتدة عن الطلاق تستحق النفقة والسكنى كان الطلاق رجعيا أو بائنا، أو ثلاثا حاملا كانت المرأة، أو لم تكن كذا في فتاوى قاضي خان الأصل أن الفرقة متى كانت من جهة الزوج فلها النفقة، وإن كانت من جهة المرأة إن كانت بحق لها النفقة، وإن كانت بمعصية لا نفقة لها، وإن كانت بمعنى من جهة غيرها فلها النفقة."

(کتاب الطلاق،باب السابع عشر فی النفقات،ج:1، ص:557،ط:رشیدیة)

وفیہ ایضا:

"إذا طلق الرجل امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا أو ثلاثا أو وقعت الفرقة بينهما بغير طلاق وهي حرة ممن تحيض فعدتها ثلاثة أقراء سواء كانت الحرة مسلمة أو كتابية كذا في السراج الوهاج."

(کتاب الطلاق،الباب الثالث عشر،ج:1،ص:526،ط:رشیدیة)

وفیہ ایضا:

"والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراءمن صاحب الحق، كذا في البدائع."

(کتاب النکاح،الباب السابع فی المہر،ج:1، ص:304، ط:رشیدیة)

البحر الرائق میں ہے:

"قوله ومعتدة الموت تخرج يوما وبعض الليل) لتكتسب لأجل قيام المعيشة؛ لأنه لا نفقة لها حتى لو كان عندها كفايتها صارت كالمطلقة فلا يحل لها أن تخرج لزيارة ولا لغيرها ليلا ولا نهارا.

والحاصل أن مدار الحل كون خروجها بسبب قيام شغل المعيشة فيتقدر بقدره فمتى انقضت حاجتها لا يحل لها بعد ذلك صرف الزمان خارج بيتها كذا في فتح القدير."

(کتاب الطلاق،باب العدۃ،ج:4، ص: 166، ط:دار الکتاب الاسلامی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707100392

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں