
میری پہلی شادی ہوئی تھی، لیکن میرے پہلے شوہر نے مختلف مواقع پر مجھے تین طلاقیں دیں۔ اس کے بعد میں نے عدت پوری کی، اور عدت مکمل ہونے کے بعد میری دوسری جگہ شادی ہوگئی۔
میرے پہلے شوہر سے ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں۔ ایک بیٹی کی عمر 16 سال اور دوسری کی عمر 12 سال ہے۔میرا بیٹا مجھ سے بدظن ہوگیا ہے۔ وہ نہ مجھ سے ملنے آتا ہے اور نہ ہی میری کال اٹھاتا ہے۔ اسی طرح میری بیٹیوں کو بھی مجھ سے ملنے نہیں دیا جاتا۔ انہیں یہ کہا جاتا ہے کہ میرا موجودہ شوہر ان کے لیے غیر محرم ہے، اسی وجہ سے میرا بیٹا اور ان کے تایا میری بیٹیوں کو مجھ سے ملنے سے منع کرتے ہیں۔
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا میری بیٹیاں مجھ سے مل سکتی ہیں یا نہیں؟ میں نے دوسری شادی صرف اس لیے کی تھی کہ گناہوں سے محفوظ رہ سکوں۔ کیا میری دوسری شادی کرنا غلط تھا، جس کی وجہ سے میرے بچے مجھ سے ناراض ہیں؟
صورت مسئولہ میں میاں بیوی میں جدائی کے بعد سائلہ کے سابق شوہر، بیٹا اور تایا کے لیے بیٹیوں کو ان کی والد ہ (سائلہ) سے ملاقات کرنے سے روکنا شرعاناجائز ہے،کیونکہ بچیوں سے ملاقات کرنا ماں کا شرعی حق ہے،نیز سائلہ کا موجودہ شوہر بچیوں کے لیے محرم ہے، لہذا دوسری شادی کو بنیاد بنا کریہ کہنا کہ موجودہ شوہر نا محرم ہے، شرعا غلط ہے، نیز سائلہ کی دوسری شادی کا اقدام بالکل جائز تھا، دوسری شادی کی وجہ سے بیٹے کا ناراض ہونا درست نہیں۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"الولد متى كان عند أحد الأبوين لا يمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعاهده كذا في التتارخانية ناقلا عن الحاوي."
(کتاب الطلاق، الباب السادس عشر في الحضانة، ج: 1، ص: 543، ط: رشیدیة)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"وفي الحاوي: له إخراجه إلى مكان يمكنها أن تبصر ولدها كل يوم كما في جانبها فليحفظ.
قلت: وفي السراجية: إذا سقطت حضانة الأم وأخذه الأب لا يجبر على أن يرسله لها، بل هي إذا أرادت أن تراه لا تمنع من ذلك.
ويؤيده ما في التتارخانية: الولد متى كان عند أحد الأبوين لا يمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعهده. اهـ. ولا يخفى أن السفر أعظم مانع. (قوله: كما في جانبها) أي كما أنها إذا كان الولد عندها لها إخراجه إلى مكان يمكنه أن يبصر ولده كل يوم. (قوله: لا يجبر على أن يرسله) وكذا يقال في جانبها وقت حضانتها ط".
(كتاب الطلاق، باب الحضانة، ج: 3، ص: 571، ط: ایچ ایم سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144802100663
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن