بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مطلقہ مغلّظہ کا شوہر اگر فوت ہوجائے تو وہ اپنی عدت کہاں گزارے گی ؟


سوال

میرے بھائی جو گردے کی بیماری کی وجہ سے تقریباً ایک ماہ سے ہسپتال میں زیر علاج تھے، مورخہ 18 اگست 2025 کو رضائے الٰہی سے انتقال کر گئے۔ انتقال سے پانچ دن پہلے میرے بھائی نے ہسپتال کے عملے کی موجودگی میں اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دے دیں۔ میری بھابھی نے اس بات کی تصدیق اپنے بھائی کے سامنے کر دی اور اپنے شوہر کو بیماری کی حالت میں ہسپتال میں چھوڑ کر اپنے میکے چلی گئیں اور عدت میں بیٹھ گئیں۔

ان پانچ دنوں کے دوران ہمارے بھائی نے اس طلاق کی تصدیق اپنی بڑی بہن اور چھوٹی بھابھی کے سامنے بھی کر دی۔ اب جبکہ بھائی کا انتقال ہو گیا ہے تو ہماری سابقہ بھابھی اور ان کے گھر والے میت پر آ گئے اور یہ کہنے لگے کہ بیوہ کی عدت شوہر کے گھر پر ہوگی۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ بیوہ نہیں بلکہ مطلقہ ہیں اور انہیں مطلقہ کی عدت پوری کرنی ہے۔ اس بات پر وہ خود اور ان کے گھر والے بھی گواہ ہیں۔

براہ کرم شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ ان کی عدت کا حکم کیا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کی بھابھی پر بیوہ اور مطلقہ کی عدّت میں سے جو زیادہ طویل ہو، وہی عدّت لازم ہوگی، یعنی بیوہ کی عدّت چار ماہ دس دن  ہے اور مطلقہ کی عدّت تین ماہواریاں(اگر حمل نہ ہو ) ہیں ، ان میں سے جو دورانیہ طویل ہو وہی عدّت  لازم ہوگی۔

اور شرعاً عورت عدّت اپنے شوہر کے گھر گزارے گی اور اپنے شوہر کی میراث میں بھی حق دار ہوگی۔ لہٰذا اگر مرحوم کی وراثت سے ملنے والے حصّے میں عدّت گزارنا ممکن ہو تو عورت اسی گھر میں عدّت گزارے گی، اور اگر شوہر سے وراثت میں ملنے والا حصّہ اس کے رہائش کے لیے کافی نہ ہو اور باقی ورثاء بھی اپنے اپنے حصّے میں رہنے کی اجازت نہ دے رہے ہوں، تو ایسی صورت میں وہ اپنی عدّت میکے میں گزار سکتی ہے۔

الدر مع الرد میں ہے:

"(وفي) حق (امرأة الفار من) الطلاق (البائن) إن مات وهي في العدة (أبعد الأجلين من عدة الوفاة وعدة الطلاق) احتياطا، بأن تتربص أربعة أشهر وعشرا من وقت الموت فيها ثلاث حيض من وقت الطلاق شمني.

(قوله: وفي حق امرأة الفار إلخ) ...والمراد بامرأة الفار من أبانها في مرضه بغير رضاها بحيث صار فارا ومات في عدتها فعدتها أبعد الأجلين عندهما خلافا لأبي يوسف لأنه وإن انقطع النكاح بالطلاق حقيقة لكنه باق حكما في حق الإرث فيجمع بين عدة الطلاق والوفاة احتياطا، وتمامه في الفتح.

قلت: وهو صريح في أنه لو أبانها في مرضه برضاها بحيث لم يصر فارا تعتد عدة الطلاق فقط وهي واقعة الفتوى فلتحفظ."

(کتاب الطلاق،‌‌باب العدة،مطلب في عدة الموت،ج:3،ص:513،ط:سعید)

تبيين الحقائق  میں ہے:

"قال رحمه الله (وتعتدان في بيت وجبت فيه إلا أن ‌تخرج أو ‌ينهدم) أي تعتد المتوفى عنها زوجها إن أمكنها أن تعتد في البيت الذي وجبت فيه العدة بأن كان نصيبها من دار الميت يكفيها أو أذنوا لها في السكنى فيه، وهم كبار أو تركوها أن تسكن فيه بأجر وهي تقدر على ذلك."

(كتاب الطلاق،باب العدة،فصل في الإحداد،ج:3،ص:37،ط:دار الكتاب الإسلامي)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702102134

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں