
میری بہن کے شوہر نے اپنی منکوحہ (میری بہن) کو پہلے دو مرتبہ، الگ الگ اوقات میں طلاق دی تھی ، یہ کہا تھا کہ میری طرف سے آزاد ہو، اس کے بعد دونوں بغیر کسی فتویٰ کے دوبارہ اکٹھے رہنے لگے، یعنی میاں بیوی کی طرح زندگی گزارنے لگے۔ جب یہ معاملہ گھر والوں کے علم میں آیا تو سب بڑوں نے کہا کہ طلاق واقع ہوچکی ہے، اس لیے کسی مفتی صاحب سے رجوع کیا جائے۔چنانچہ بنوری ٹاؤن کے مفتی صاحب سے رجوع کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ پہلی مرتبہ طلاق دینے سے ایک طلاقِ بائن واقع ہوگئی تھی، اور اس سے نکاح ختم ہوچکا تھا، لہٰذا دوبارہ اکٹھے رہنا جائز نہیں تھا۔ ساتھ رہنے کے لیے دوبارہ نکاح کرنا ضروری تھا۔خیر، بعد میں دوبارہ نکاح کرلیا گیا، مگر اس کے بعد بھی جھگڑے ہوتے رہے۔ شوہر اکثر غصے میں یہ الفاظ کہتے کہ “میں تمہیں طلاق دے دوں گا”۔ اسی طرح زندگی گزرتی رہی۔ ان کی اٹھارہ سال کی ایک بیٹی بھی ہے۔شوہر کو اپنی بیوی (میری بہن) سے یہ شکایت رہتی تھی کہ وہ بیمار کیوں رہتی ہے، اور کہتا تھا: “میں تمہارا علاج نہیں کراسکتا۔” میری بہن کو دل کی تکلیف تھی، پھر فالج ہوگیا، مگر اللہ کا شکر ہے کہ بعد میں کچھ صحت یاب ہوگئیں۔اب 15/10/2025 کو لڑائی کے دوران شوہر نے کہا:“میں نے تجھے طلاق دی، طلاق دی، طلاق دی۔”اور بیٹی اس وقت موجود تھی، تو اس نے کہا: “میں بیٹی کو گواہ بناتا ہوں۔”اب سوال یہ ہے کہ کیا اس طلاق کے بعد کوئی گنجائش باقی رہتی ہے؟میری بہن نے اسی دن سے طلاق کو قبول کرلیا اور کہا کہ میری عدت شروع ہوگئی ہے۔میری بہن کا کوئی کمانے والا نہیں، گھر کرائے کا ہے، صرف ایک ہی بیٹی ہے جو ٹیوشن پڑھاتی ہے۔ بہن بیمار رہتی ہے، ڈاکٹر نے ٹیسٹ لکھے ہیں، دل کا مسئلہ اور فالج دونوں ہیں، کسی بھی وقت اسپتال جانا پڑتا ہے۔
اس حالت میں عدت کا کیا حکم ہے؟
کیا عدت گزارنا فرض یا واجب ہے یا اختیار پر ہے (یعنی اگر نہ کرے تو گناہ نہیں)؟
صورتِ مسئولہ میں شوہر کے اس قول سے: "میں نے تجھے طلاق دی، طلاق دی، طلاق دی" دوسری اور تیسری طلاق بھی واقع ہوگئیں۔اب نہ رجوع کی کوئی گنجائش باقی ہے اور نہ ہی دوبارہ نکاح کرنا جائز ہے۔سائلہ (بہن) پر واجب ہے کہ وہ اسی گھر میں، جس میں طلاق سے پہلے رہتی تھی، سابق شوہر سے پردہ کرتے ہوئے عدت گزارے،عدت گزارنا واجب ہے، اگر عدت نہ گزارے تو گناہ ملے گا، عدت پوری ہونے تک نان و نفقہ اور رہائش کا خرچ سابق شوہر کے ذمے ہے۔بلا ضرورت گھر سے نکلنا جائز نہیں، البتہ اگر کسی ضرورت کے تحت مثلاً علاج کے لیے ڈاکٹر کے پاس جانا پڑے، تو اس سے عدت ساقط نہیں ہوتی، بلکہ علاج یا ضرورت پوری ہوتے ہی فوراً واپس آنا لازم ہے۔
الدر مع الرد میں ہے:
"(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه.
قال في الفتح: والحاصل أن مدار حل خروجها بسبب قيام شغل المعيشة فيتقدر بقدره، فمتى انقضت حاجتها لا يحل لها بعد ذلك صرف الزمان خارج بيتها. اهـ. وبهذا اندفع قول البحر إن الظاهر من كلامهم جواز خروج المعتدة عن وفاة نهارا ولو كان عندها نفقة، وإلا لقالوا: لا تخرج المعتدة عن طلاق، أو موت إلا لضرورة فإن المطلقة تخرج للضرورة ليلا، أو نهارا اهـ.ووجه الدفع أن معتدة الموت لما كانت في العادة محتاجة إلى الخروج لأجل أن تكتسب للنفقة قالوا: إنها تخرج في النهار وبعض الليل، بخلاف المطلقة. وأما الخروج للضرورة فلا فرق فيه بينهما كما نصوا عليه فيما يأتي."
(كتاب الطلاق، باب العدۃ، فصل في الحداد، ج:3، ص:536، ط:سعید)
شرح مختصر الطحاوی میں ہے:
قال: (والعدة واجبة من يوم الطلاق، ويوم الموت) وذلك لقول الله تعالى: {والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء}، فأوجب الأقراء في وقت الطلاق
(كتاب الطالق، باب العدد و الاستبراء 5/ 248 ط: دار البشائر الاسلامية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101921
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن