بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مطلقہ کا بیٹی کے دستاویزات میں والد کے بجائے نانا کا نام درج کرانا


سوال

میری شادی ہوئی،  پھر کچھ سال بعد طلاق ہو گئی،  وہ بہت لالچی تھے،  طلاق اس وجہ سے ہوئی کہ میری پہلی بیٹی پیدا ہوئی اور ان کو پہلا بیٹا چاہیے تھا،  میری بیٹی کے باپ نے نہ کبھی میری بیٹی کو دیکھا نہ کبھی اس کا پوچھا،  اب اس نے دوسری شادی کر لی ہے ، میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں بیٹی کے ولدیت کے خانے میں نانا یا کسی اور کا نام لکھ سکتی ہوں؟ کیونکہ اسکول اور مستقبل وغیرہ میں اس کی ضرورت پڑتی ہے، براہ کرم راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں  سائلہ کا اپنی بیٹی کے سرکاری کاغذات یا تعلیمی  دستاویزات وغیرہ میں   ولدیت کے خانے میں اس کے حقیقی والد کے علاوہ کسی اور نام لکھوانا  جائز نہیں ہے،  کیوں کہ کسی بچے کو اُس کے حقیقی والد کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کرنا  شرعا منع ہے، احادیث مبارکہ میں اس کی سخت وعید آئی ہے، تاہم بیٹی کے سرپرست  (Guardian)   کے خانے میں اس کے نانا یا کسی اور کا نام لکھوایا جاسکتا ہے۔

تفسیر روح المعانی میں ہے:

"لا يجوز انتساب الشخص إلى غير أبيه، ‌وعد ‌ذلك بعضهم من الكبائر لما أخرج الشيخان، وأبو داود عن سعد بن أبي وقاص أن النبي صلّى الله تعالى عليه وسلم قال: من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام۔ وأخرج الشيخان أيضا من ادعى إلى غير أبيه أو انتمى إلى غير مواليه فعليه لعنة الله تعالى والملائكة والناس أجمعين لا يقبل الله تعالى منه صرفا ولا عدلا۔ وأخرجا أيضا ليس من رجل ادعى لغير أبيه وهو يعلم إلّا كفر."

(‌‌سورة الأحزاب: 11/ 147، ط: دار الكتب العلمية)

عمدۃ القاری میں ہے:

"عن أبي عثمان عن سعد رضي الله عنه، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام.

قوله: من ادعى: أي: من انتسب إلى غير أبيه، والحال يعلم أنه غير أبيه، وفي رواية مسلم: ‌من ‌ادعى ‌أبا في الإسلام غير أبيه، والباقي مثله. قوله: فالجنة عليه حرام: وفي الحديث الآتي: فقد كفر، يعني: إذا استحل لأن الجنة ما حرمت إلا على الكافرين، أو المراد: كفران النعمة وإنكار حق الله وحق أبيه أو هو للتغليظ."

(کتاب الفرائض،باب باب من ادعى إلى غير أبيه،23/ 262، ط:دار الفکر، بیروت)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144704100423

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں