
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: میں نے اپنی بیوی کو دو طلاقِ بائن دی تھیں، اور بیوی کی عدت بھی مکمل ہوگئی ہے،اب دونوں (یعنی میں اور مطلقہ بیوی) بیرونِ ملک جانے کے لیے مختلف قانونی کاغذات میں بحیثیت میاں بیوی کے دستخط کرچکے ہیں،اور مزید بھی کچھ قانونی کاغذات پر بحیثیت میاں بیوی دستخط کرنے ہیں اسی دوران ایک مجلس میں، جہاں پیشی تھی، افسر نے پوچھا کہ "آپ کا شوہر کون ہے؟" تو اس پر میری مطلقہ نے میری طرف اشارہ کرکے کہا: "یہ میرے شوہر ہیں۔"سر ہلا کر کہا اور دستخط بھی کئے۔ اسی طرح نادرا میں شناختی کارڈ کی کارروائی کے دوران بھی اُس نے شوہر ہونے کے حلف نامے پر دستخط کیے، بعد ازاں وہ میرے گھر میں آتوگئی ہے، لیکن الگ کمرے میں رہ رہی ہے، البتہ اب تک ہمارے درمیان نہ باقاعدہ ایجاب و قبول ہوا ہے، نہ گواہوں کی موجودگی میں نکاح کی مجلس قائم ہوئی ہے، اب دریافت یہ ہے کہ:کیا اس تمام صورتِ حال کے باوجود شرعاً نکاح منعقد ہوگیا ہے یا نہیں؟ نیز سائل بچوں کی خاطر نباہ چاہتاہے اس کی کیا صورت ہوسکتی ہے کہ ان کاغذات پر دستخط بھی ہو جائے اور نکاح بھی ہوجائے ؟
واضح رہے کہ طلاق بائنہ سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے،اور دوبارہ نباہ کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ نئے ایجاب و قبول اور نیا مہر مقرر کر کے شرعی گواہوں کی موجودگی میں تجدید نکاح کیا جائے۔
لہٰذا صورت مسئولہ میں سائل کی بیوی کا سائل کی طرف اشارہ کر کے محض یہ کہنے سے کہ یہ میرا شوہر ہے، یا شوہر کے خانے میں سائل کا نام لکھنے سے شرعاً دوبارہ نکاح منعقد نہیں ہوا، بلکہ دونوں ایک دوسرے کے حق میں اجنبی ہیں، البتہ اگر دونوں اب باہمی رضامندی سےدوبارہ ساتھ رہنا چاہتے ہوں، تو اوپر ذکر کردہ طریقے کے مطابق تجدید نکاح کر سکتے ہیں۔
محیط برھانی میں ہے:
"إذا قال لامرأة: هذه امرأتي، وقالت المرأة: هذا زوجي، وكانت بمحضر من الشهود لا يكون نكاحاً."
(المحيط البرهاني، كتاب النكاح، الفصل الأول: في الألفاظ التي ينعقد بها النكاح، 3/ 8، الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144705100176
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن