بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مطلقہ بائنہ سے نکاحِ جدید کا حکم


سوال

میں نے اپنی بیوی کو 12 سال پہلے دو طلاقیں دی تھی، اور یوں کہا تھا کہ ”میں آپ کو طلاق دیتا ہوں۔“ اس کے بعد وہ عدت کے لیے اپنی ماں کے گھر چلی گئی تھی، اور عدت کے بعد اس نے کہیں دوسری شادی بھی نہیں کی۔ اب میں اس سے دوبارہ شادی کرنا چاہتا ہوں، تو کیا شریعت کی رو سے میں اس سے شادی کر سکتا ہوں کہ نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتاً سائل نے اپنی بیوی کو دو ہی طلاقیں دی تھیں، ان دو طلاقوں سے پہلے یا بعد میں مزید کوئی طلاق نہیں دی، تو اب سائل باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ اپنی اس مطلقہ بیوی سے دوبارہ  نکاح (شادی) کر سکتا ہے۔ بعد ازاں سائل کو آئندہ کے لیے صرف ایک طلاق کا اختیار ہوگا۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها."

(كتاب الطلاق، الباب السادس، ج:1، ص:437، ط:المكتبة الرشيدية كوئته)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707100577

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں