
میرے اور میرے شوہر کے درمیان ،اور سسرا ل والوں کے درمیان مسئلے مسائل ہوئے تھے اس لیے میں اپنی امی کے گھر روٹھ کر آگئی تھی، چار مہینے اپنی امی کے گھر بیٹھی، میرے شوہر نے ہمارا ڈیڑھ سال کا بچہ ہے اس کا بھی کوئی خرچہ نہیں دیا اور نہ ہی میرا کوئی خرچہ دیا، اب ایک مہینے پہلے طلاق ہو گئی ہے ایک مہینہ ہو گیا ہے طلاق کو پھر بھی ہر بچہ خرچ مانگ رہا ہے وہ نہیں دے رہے، وہ یہ شرط رکھ رہے ہیں کہ پہلے سامان اور فرنیچر اٹھاؤ جو ہمیں سیٹنگ کرنے میں ٹائم چاہیے، ہم ان کو کہہ بھی رہے ہیں کہ ہمیں فرنیچر کی سیٹنگ کرنے کے لیے ٹائم چاہیے، آپ پہلے بچے کا خرچہ شروع کرو لیکن وہ یہی شرط رکھ رہے ہیں کہ پہلے فرنیچر اٹھے گا پھر بچے کی بات ہوگی، اور عدت کا معاوضہ بھی نہیں دے رہے، عدت کا معاوضہ دینے کا بالکل منع کر رہے ہیں، کہہ رہے ہیں کہ یہ شریعت میں نہیں ہے۔
تو پوچھنا یہ تھا کہ کیا جو بچے کا چار پانچ مہینے سے میرے سابقہ شوہر نے خرچہ نہیں دیا ہے اس کا اس کو گناہ ملے گا؟ کیا عدت کا معاوضہ شریعت میں ہوتا ہے؟
واضح رہے کہ عدت کا نفقہ شرعا شوہر کے ذمہ لازم ہے جب کہ بیوی شوہر کے گھر ہی میں عدت گزارے یا شوہر کی اجازت سے اپنے میکے چلی جائے، بصورتِ دیگر بیوی نان ونفقہ کے حق دار نہیں ہوگی۔
لہذاصورتِ مسئولہ جب آپ اپنے والدین کے گھر اپنی مرضی سے عدت گزار رہی ہیں تو ایسی صورت میں نان ونفقہ کا مطالبہ کرنا جائز نہیں ہے، اور نہ ہی شوہر پرنفقہ نہ دینے کی وجہ سے کوئی گناہ ہوگا، البتہ بچے کا نفقہ باپ کے ذمہ لازم ہے، اس کا مطالبہ کرنا شرعا جائز ہے اور نہ دینے کی صورت میں والد گناہ گار ہوگا، تاہم سابقہ چار پانچ مہینے کے خرچہ جو خود اپنی مرضی سے کیا اس کا مطالبہ نہیں کرسکتے بلکہ آئندہ کے لیے اس سے نفقہ کا مطالبہ کرناجائز ہوگا۔
کتاب الاصل میں ہے:
"و لو طلقها زوجها و هي في بيت أهلها أو في منزل غيرهم زائرة كان عليها أن تعود إلى منزل زوجها حتى تعتد فيه."
(كتاب الطلاق، باب العدة وخروج المرأة من بيتها، 4/ 407، ط: دار ابن حزم)
البحر الرائق ميں هے:
"المعتدة إذا خرجت من بيت العدة تسقط نفقتها ما دامت على النشوز فإن عادت إلى بيت الزوج كان لها النفقة و السكنى، ثم الخروج عن بيت العدة على سبيل الدوام ليس بشرط لسقوط نفقتها فإنها إذا خرجت زمانا وسكنت زمانا لاتستحق النفقة."
(کتاب الطلاق، باب النفقة، النفقة والكسوة والسكنى لمعتدة الطلاق، 4/ 217، ط: دار الكتاب الإسلامي)
المحیط البرہانی میں ہے:
"والمعنى في ذلك أن النفقة إنما تجب عوضاً عن الاحتباس في بيت الزوج، فإذا كان الفوات لمعنى من جهة الزوج أمكن أن يجعل ذلك الاحتباس باقياً تقديراً، أما إذا كان الفوات بمعنى من جهة الزوجة لا يمكن أن يجعل ذلك الاحتباس باقياً تقديراً وبدونه لا يمكن إيجاب النفقة."
(كتاب النفقات، الفصل الأول في نفقة الزوجات، 3/ 522، ط: دار الكتب العلمية)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد كذا في الجوهرة النيرة."
(کتاب الطلاق، الباب السابع عشر في النفقات، الفصل الرابع في نفقة الأولاد، 1/ 560، ط: دار الفکر)
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله والنفقة لا تصير دينا إلخ) أي إذا لم ينفق عليها بأن غاب عنها أو كان حاضرا فامتنع فلا يطالب بها بل تسقط بمضي المدة."
(كتاب الطلاق، باب النفقة، مطلب لا تصير النفقة دينا إلا بالقضاء أو الرضا، 3/ 594، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703101417
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن