بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 صفر 1448ھ 10 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

مطلقہ بائنہ کو عدت کے بعد طلاق دینے کا حکم


سوال

 میں نے اپنی بیوی کو ایک طلاق بائن دی   عدت گزرنے کے بعد میں نے لڑکی (مطلقہ بائنہ )کے گھر فون کیا اپنے بچوں کی خیر خیریت پوچھنے کے لئے ،تو فون لڑکی (مطلقہ )نے اٹھایا ،تو جب لڑکی کے ماموں کو پتہ چلا تو اسے یہ بات ناگوار گزری ،اور اس نے کہا جب آپ کو اس سے بات کرنی ہے اور دوبارہ نکاح کرنا  ہے تو دس تولہ سونا دے کر نکاح کرے  ، تو میں  نے کہا کہ میری استطاعت دس تولہ سونا دینے کی نہیں ہے ،اگر آپ دس تولہ سونا ہی مہر چاہتے ہیں ،تو پھر میری طرف سے "طلاق،طلاق،طلاق ہے "۔

تو اب سوال یہ ہے کہ آیا یہ طلاق واقع ہوچکی ہے یا نہیں ؟

اور کیا جس عورت کو میں نے طلاق بائن دی ہے تو اس کے ساتھ دوبارہ میر ا نکاح ہوسکتاہے یا نہیں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل نے اپنی بیوی کو ایک طلاقِ بائن دی تھی اور اس کی عدت بھی ختم ہو چکی تھی، لہٰذا عدت گزرنے کے بعد زوجیت کا تعلق منقطع ہو گیا۔ اس کے بعد سائل نے جو الفاظ کہے: "میری طرف سے طلاق، طلاق، طلاق ہے"، ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، کیونکہ طلاقِ بائن کے بعد عدت گزر جانے کی صورت میں عورت پر مزید طلاق اس وقت تک واقع نہیں ہوتی جب تک دونوں کے درمیان از سرِ نو نکاح نہ ہو جائے۔

لہٰذا مذکورہ عورت اور سائل اگر باہمی رضامندی سے دوبارہ ازدواجی تعلق قائم کرنا چاہیں تو نئے مہر اور شرعی گواہوں کی موجودگی میں  دوبارہ  نکاح کر سکتے ہیں، اور آئندہ کے لئے سائل کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا، کیونکہ ایک طلاق پہلے واقع ہو چکی ہے۔البتہ اگر فریقین میں سے کوئی ایک دوبارہ نکاح پر آمادہ نہ ہو تو شرعاً اسے مجبور نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ نکاح باہمی رضامندی سے منعقد ہوتا ہے۔

فتاوی شامی میں ہے :

"(الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) الصريح ما لا يحتاج إلى نية بائنا كان الواقع به أو رجعيا فتح".

(کتاب الطلاق، باب الکنایات، 3/ 306، ط:سعید)

البحر الرائق میں ہے :

"(قوله: والصريح يلحق الصريح، والبائن) فلو قال لها: أنت طالق ثم قال أنت طالق أو طلقها على مال وقع الثاني وكذا لو قال لها: أنت بائن أو خالعها على مال ثم قال لها: أنت طالق أو هذه طالق كما في البزازية يقع عندنا لحديث الخدري مسندا «المختلعة يلحقها صريح الطلاق ما دامت في العدة» ولما ذكر في الأصول من بحث الخاص أطلقه فشمل المنجز، والمعلق إذا وجد شرط فكما يقع في العدة منجزا يقع إذا وجد شرط فيها".

 (کتاب الطلاق، باب الکنایات فی الطلاق، 3/ 330، ط:دار الکتاب الاسلامی )

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها."

(كتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة ، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به ،ج:1، ص:472، ط:دار الفکر ،بیروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144802100895

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں