
اعتکاف میں بیٹھنے وا لا جمعے کے دن غسل کرسکتا ہے؟
اعتکاف میں بیٹھنے والا شخص جمعے کے دن غسل کر سکتا ہے، لیکن اس کے لیے مسجد سے باہر نکلنا جائز نہیں ہے، بلکہ اگر مسجد ہی میں کوئی ایسا انتظام ہو جس میں مسجد کی تلویث (پانی گرنے یا گندگی) کے بغیر معتکف غسل کر سکے، تو ایسی صورت میں معتکف کے لئے غسل کرنے کی اجازت ہوگی۔ معتکف کے لیے مسجد سے باہر جا کر صرف اس غسل کی اجازت ہے جو احتلام کی وجہ سے اس پر واجب ہوا ہو اور مسجد میں غسل کا ایسا کوئی انتظام نہ ہو جس میں مسجد کی تلویث نہ ہوتی ہو۔ مستقل غسلِ جمعہ یا ٹھنڈک حاصل کرنے کی غرض سے باہر نہ نکلے، البتہ ایک صورت یہ ممکن ہے کہ جب وہ قضاءِ حاجت کے لئےجائے، تو وہاں جتنی دیر میں وضو کیا جاتا ہے، اتنی ہی دیر میں جلدی جلدی پورے جسم پر پانی بہا کر فوراً واپس آ جائے اور اس میں اضافی وقت بالکل صرف نہ کرے، تو اس کی گنجائش ہوگی۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله: وغسل) عده من الطبيعية تبعا للاختيار والنهر وغيرهما وهو موافق لما علمته من تفسيرها وعن هذا اعترض بعض الشراح تفسير الكنز لها بالبول والغائط بأن الأولى تفسيرها بالطهارة ومقدماتها ليدخل الاستنجاء والوضوء والغسل لمشاركتها لهما في الاحتياج وعدم الجواز في المسجد، اهـ، فافهم (قوله: ولا يمكنه إلخ) فلو أمكنه من غير أن يتلوث المسجد فلا بأس به بدائع أي بأن كان فيه بركة ماء أو موضع معد للطهارة أو اغتسل في إناء بحيث لا يصيب المسجد الماء المستعمل، قال في البدائع: فإن كان بحيث يتلوث بالماء المستعمل يمنع منه لأن تنظيف المسجد واجب اه"
(كتاب الصوم،باب الاعتكاف،ج:2، ص:445، ط:دار الفكر-بيروت)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"(وأما مفسداته) فمنها الخروج من المسجد فلايخرج المعتكف من معتكفه ليلًا ونهارًا إلا بعذر، وإن خرج من غير عذر ساعة فسد اعتكافه في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى- كذا في المحيط. سواء كان الخروج عامدًا أو ناسيًا، هكذا في فتاوى قاضي خان"
(كتاب الصوم،الباب السابع في الاعتكاف،ج:1،ص:212،ط: دار الفكر،بيروت)
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح میں ہے:
"إلا لحاجة شرعية" كالجمعة والعيدين فيخرج في وقت يمكنه إدراكها مع صلاة سنتها قبلها ثم يعود وإن أتم اعتكافه في الجامع صح وكره "أو" حاجة "طبيعية" كالبول والغائط وإزالة نجاسة واغتسال من جنابة باحتلام لأنه عليه السلام كان لا يخرج من معتكفه إلالحاجة الإنسان واغتسال من جنابة باحتلام أما جناية الوطء فمفسدة وفيه أن الغسل من الحوائج الشرعية ولعل عدم إياه من الطبيعية باعتبار سببه كذا في كتابة الدرر"
(کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ص: نمبر 702،ط: دار الکتب العلمیة)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144709102243
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن