
میری شادی کو تقریباً 6 سال ہو چکے ہیں۔ شادی کے 4 مہینے بعد میرے شوہر نے مجھے ایک ہی مہینے میں دو دفعہ طلاق دی، اور ان کے الفاظ یہ تھے:"طلاق دیتا ہوں"۔
اس کے بعد انہوں نےعدت میں رجوع کر لیا۔ میں نے اس وقت اپنی والدہ کو اس بات کی اطلاع دی تھی، مگر والدہ نے مجھے شوہر کے ساتھ رہنے کا مشورہ دیا۔
میں اپنے شوہر کے ساتھ رہتی رہی اور وقت گزرتا گیا۔
اب انہوں نے مجھے 9 مہینے پہلے تیسری بار طلاق دی۔ ان کے الفاظ تھے:"میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"
لیکن میں نے اس وقت کسی کو اس بارے میں نہیں بتایا۔ اس واقعے کے بعد میں نے اپنے شوہر کو تعلق قائم کرنے کی اجازت نہیں دی۔ ان 9 مہینوں میں مجھے حیض اپنی عادت کے مطابق آتا رہا ہے۔
اب میں اپنے شوہر سے الگ ہونا چاہتی ہوں۔ میں غلط رشتہ قائم نہیں کرنا چاہتی۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا مجھے عدت گزارنی ہوگی؟ اگر ہاں، تو کتنے دن؟اگر نہیں تو کیا میں فوری طور پر کسی اور سے نکاح کر سکتی ہوں؟
صورتِ مسئولہ میں اگر سائلہ کا بیان حقیقت پر مبنی ہے، تو جب شوہر نے نکاح کے چار ماہ بعد پہلی مرتبہ ایک مہینے میں دو دفعہ یہ الفاظ کہے کہ"میں طلاق دیتا ہوں" تو اس سے سائلہ پر دو رجعی طلاقیں واقع ہو چکی تھیں۔ چونکہ ان دونوں طلاقوں کے بعد عدت میں شوہر نے رجوع کر لیا تھا، لہٰذا نکاح بدستور قائم رہا اور ان دو طلاقوں سے نکاح ختم نہیں ہوا۔
پھر تقریباً نو ماہ قبل جب شوہر نے تیسری مرتبہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" کہا، تو اس وقت تیسری طلاق بھی واقع ہو گئی۔ یوں مجموعی طور پر سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں۔ سائلہ اپنے شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہے، نکاح ختم ہو چکا ہے، لہذا شوہر کے لیے مطلقہ بیوی (سائلہ )سے رجوع کرنا، یا دوبارہ نکاح کرنا حرام ہے۔
تیسری طلاق واقع ہونے کے بعد اگر دونوں کے درمیان واقعۃً ہمبستری نہیں ہوئی تو تین حیض (ماہواریاں) گزرنے پر عدت مکمل ہو گئی تھی؛ لہذا سائلہ کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية ... سواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة."
(کتاب الطلاق، فصل فی حکم الطلاق البائن، ج:3، ص:187، ط:رشیدیة)
الدر المختار میں ہے:
"(ومبدأ العدة بعد الطلاق و) بعد (الموت) على الفور (وتنقضي العدة وإن جهلت) المرأة (بهما) أي بالطلاق والموت لأنها أجل فلا يشترط العلم بمضيه سواء اعترف بالطلاق، أو أنكر."
(كتاب الطلاق ، باب العدة،520/3،ط:دارالفکربیروت)
و فیہ ایضاً :
"(والموطوءة بشبهة) ومنه تزوج امرأة الغير غير عالم بحالها كما سيجيء، وللموطوءة بشبهة أن تقيم مع زوجها الأول وتخرج بإذنه في العدة؛ لقيام النكاح بينهما، إنما حرم الوطء حتى تلزمه نفقتها وكسوتها، بحر، يعني إذا لم تكن عالمةً راضيةً كما سيجيء ... (وإذا وطئت المعتدة بشبهة) ولو من المطلق (وجبت عدة أخرى) لتجدد السبب (وتداخلتا، والمرئي) من الحيض (منها، و) عليها أن (تتم) العدة (الثانية إن تمت الأولى) وكذا لو بالأشهر، أو بهما لو معتدة وفاة۔(قوله: بشبهة) متعلق بقوله: وطئت، وذلك كالموطوءة للزوج في العدة بعد الثلاث بنكاح، وكذا بدونه إذا قال: ظننت أنها تحل لي، أو بعدما أبانها بألفاظ الكناية، وتمامه في الفتح، ومفاده أنه لو وطئها بعد الثلاث في العدة بلا نكاح عالماً بحرمتها لاتجب عدة أخرى؛ لأنه زنا، وفي البزازية: طلقها ثلاثًا ووطئها في العدة مع العلم بالحرمة لاتستأنف العدة بثلاث حيض، ويرجمان إذا علما بالحرمة ووجد شرائط الإحصان، ولو كان منكرًا طلاقها لاتنقضي العدة، ولو ادعى الشبهة تستقبل. وجعل في النوازل البائن كالثلاث والصدر لم يجعل الطلاق على مال والخلع كالثلاث، وذكر أنه لو خالعها ولو بمال، ثم وطئها في العدة عالمًا بالحرمة تستأنف العدة لكل وطأة وتتداخل العدد إلى أن تنقضي الأولى، وبعده تكون الثانية والثالثة عدة الوطء لا الطلاق حتى لايقع فيها طلاق آخر ولاتجب فيها نفقة اهـ وما قاله الصدر هو ظاهر".
(کتاب الطلاق، باب العدة، ج : 3 ص : 518، ط : دار الفکر بیروت )
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"(الباب الثالث عشر في العدة) هي انتظار مدة معلومة يلزم المرأة بعد زوال النكاح حقيقة أو شبهة المتأكد بالدخول أو الموت كذا في شرح النقاية للبرجندي. رجل تزوج امرأة نكاحا جائزا فطلقها بعد الدخول أو بعد الخلوة الصحيحة كان عليها العدة كذا في فتاوى قاضي خان."
(كتاب الطلاق،الباب الثالث عشر في العدة،526/1،ط:دارالفكربيروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702101900
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن