
میں نے ایک ہوٹل کھولا لوگوں سے قرض لے کر، اور اپنے دو بھائیوں کو تنخواہ پر رکھا۔ کاروبار کی آمدنی والد صاحب کو بھیجتا تھا، جو ہمارا پورا گھر چلا رہے تھے (جس میں بھائی بھی ساتھ رہتے تھے)۔ اب حالات کی خرابی کی وجہ سے کاروبار میں نقصان ہوا تو میں نے بھائیوں سے مطالبہ کیا کہ آپ لوگ اب تک میرے کاروبار کے منافع سے فائدہ اٹھا رہے تھے، لہٰذا میرا نقصان بھی پورا کریں۔ لیکن بھائی نقصان پورا کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا بھائی شرعاً نقصان پورا کرنے کے پابند ہیں یا نہیں، حالانکہ میرے منافع سے بھائی بھی فائدہ اٹھا رہے تھے؟
صورتِ مسئولہ میں سائل جو والد اور بھائیوں پر خرچ کر رہا تھا وہ سائل کی طرف سے احسان اور تبرع تھا۔ لہٰذا نقصان کی صورت میں شرعاً بھائی نقصان اٹھانے کے پابند نہیں ہیں۔البتہ بھائیوں کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ احسان کا بدلہ احسان سے دیں۔
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية میں ہے:
"المتبرع لا يرجع بما تبرع به على غيره كما لو قضى دين غيره بغير أمره."
(كتاب المداينات: ج:2 ،ص:226، ط: دار المعرفة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703101440
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن