بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 صفر 1448ھ 02 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

متعین مسجد یا مدرسے کے چندے کو دوسری جگہ خرچ کرنے کا حکم


سوال

1. اگر کوئی شخص کسی کو کچھ رقم دے کہ وہ یہ رقم ایسی مسجد میں دے جس میں تعمیراتی کام جاری ہو، اب اس شخص نے وہ رقم کسی اور مسجد میں دے دی جو بنی ہوئی تھی تو اس کا کیا حکم ہے؟

2. اگر کسی خاص مدرسے کے لیے چندہ کیا ہو پھر وہ مدرسہ بند ہو کر ختم بھی ہو گیا ہو تو کیا اس چندے کی رقم کسی اور مدرسے میں یا مسجد میں دے سکتے ہیں یا نہیں؟

وضاحت: مدرسہ کے طلبہ نے آپس میں چندہ جمع کیا تھا، رقم تھوڑی تھوڑی تھی، زکوۃ نہیں تھی، چندہ دہندگان سے رابطہ کر کے اجازت لینا ممکن ہے۔

جواب

1. اگر ایک شخص نے دوسرے شخص کو کچھ رقم دی اور اس رقم سے متعلق یہ کہا کہ اس رقم کو ایسی مسجد میں خرچ کیا جائے جہاں تعمیراتی کام جاری ہو، تو  رقم وصول کرنے والے کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس رقم کو کسی تعمیر شدہ  مسجد میں  خرچ کرے، اگر اس نے وہ رقم کسی بنی ہوئی مسجد میں  خرچ کر دی تو ضامن ہوگا اور اتنی رقم زیر تعمیر مسجد میں خرچ کرنا لازم ہوگا۔

2. اگر کسی مخصوص مدرسے کے لیے چندہ کیا گیا ہو پھر وہ مدرسہ بند ہو گیا ہو اور آئندہ اس کے فعال ہونے کی کوئی امید بھی نہ ہو اور چندہ دہندگان سے رابطہ بھی ممکن ہے تو ایسی صورت میں یا تو یہ رقم ان کو واپس کر دی جائے، ورنہ اُن کی اجازت سے وہ چندہ کسی دوسرے مدرسے میں خرچ کیا جا سکتا ہے۔

فتاویٰ شامی میں  ہے:

"(اتحد الواقف والجهة وقل مرسوم بعض الموقوف عليه) بسبب خراب وقف أحدهما (جاز للحاكم أن يصرف من فاضل الوقف الآخر عليه) لأنهما حينئذ كشيء واحد.(وإن اختلف أحدهما) بأن بنى رجلان مسجدين أو رجل مسجدا ومدرسة ووقف عليهما أوقافا (لا) يجوز له ذلك."

(كتاب الوقف، 360/4، ط: سعید)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(حشيش المسجد وحصره مع الاستغناء عنهما و) كذا (الرباط والبئر إذا لم ينتفع بهما فيصرف وقف المسجد والرباط والبئر) والحوض (إلى أقرب مسجد أو رباط أو بئر) أو حوض (إليه)."

(کتاب الوقف ، جلد : 4 ، صفحہ : 359، طبع: سعید)

الجوهرة النيرة علی مختصر القدوری میں ہے:

"وإن ‌استغني ‌عن ‌حصر ‌المسجد وخشبه وحنفيته نقل إلى مسجد آخر عند أبي يوسف، وقال بعضهم يباع ويصرف في مصالح المسجد ولا يجوز صرف نقضه إلى عمارة بئر؛ لأنها ليست من جنس المسجد."

(کتاب  الغصب، ج:1، ص:338، ط:المطبعة الخيرية)

فتاوٰی محمودیہ میں ہے:

"ایک مدرسہ کی وقف کی آمدنی دوسرے مدارس یاامارتِ شرعیہ کے تعاون میں صرف کرناجائز نہیں"۔

(بقیۃ کتاب الوقف، باب مایتعلق بالمدارس، الفصل الثانی فی مصارف المدرسۃ واستبدالھا،465/15، ط: ادارہ الفاروق)

فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:

"سوال:(592) چندہ جو ایک مسجد کے واسطے کیا گیا ہو وہ دوسری مسجد میں صرف کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟(1154/ 32- 1333ھ)

الجواب: چندہ دینے والوں کی اجازت سے دوسری مسجد میں صرف ہو سکتا ہے، بدون ان کی اجازت کے درست نہیں ، مگر (یعنی یہ بھی شرط ہے)  جب کہ اس مسجد میں فی الحال ضرورت نہ رہے، اور آئندہ کو بھی کوئی ضرورت متصور نہ ہو۔"

(وقف کابیان، مسجد کی آمدنی اور اس کے مصارف کا بیان، ج:13، ص:447، ط:دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801101693

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں