بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیٹے کا والد سے زبردستی لیے ہوئی مال کا حکم


سوال

میرے بیٹے کے پاس 14 لاکھ روپے اس کے ذاتی تھے ، اس کے ساتھ میں نے چار لاکھ روپے ملا کر دو پلاٹ خریدے،اور یہ طے پایا کہ اگلا پلاٹ بیٹے کا ہوگا،جبکہ پچھلا پلاٹ میرا ہوگا،اگلے پلاٹ کی قیمت گیارہ لاکھ روپے،اور پچھلےپلاٹ کی قیمت ساڑھے چھ لاکھ روپے تھی،اس کےعلاوہ دونوں پلاٹ  نام کروانےپر پچاس ہزار روپے خرچہ آیا، بیٹے نےمجھ سے زبردستی پیسے لےکر اپنا پلاٹ تعمیر کیا،میرے پلاٹ پر صرف چار دیواری بنائی،اپنے  پلاٹ کی تعمیر کےلیے مجھ سے 25 لاکھ روپے لیے، اب وہ بیٹا دعوی کر رہا ہے کہ تم لوگوں نےمیرے پیسوں میں چار لاکھ ملائےہے (حالاں کہ چار لاکھ کے علاوہ پچیس لاکھ تک تو تعمیرات پر خرچہ کیا ہے)لہٰذا چار لاکھ روپے لو، اور پورا مکان میرا ہے۔

اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا شرعاًاس کا یہ کہنا درست ہے کہ صرف چار لاکھ پر ہمارا حق ہےباقی مکان میں نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل اور اس کے بیٹے نے مل کر دو پلاٹ خریدے اور دونوں میں یہ طے پایا کہ اگلا پلاٹ بیٹے کا ہوگا اور پچھلا پلاٹ والد کا ہوگا، اس کے بعد بیٹے نے جو تعمیر اپنے ذاتی پلاٹ پر کی ہے، وہ اسی کی ملکیت شمار ہوگی، کیونکہ اس نے اپنی ملکیت میں تعمیر کی ہے، البتہ چونکہ خرچہ سارا والد سے لیا تھا لہذا وہ یہ ساری رقم واپس کرنے کا پابند ہوگا، باقی رہا سائل کا پلاٹ، جس کی خریداری میں بیٹے کے ڈھائی لاکھ روپے خرچ ہوئے ہیں تو اگر یہ رقم بیٹے کی طرف سے قرض تھی تو وہ رقم سائل کےمذکورہ پچیس لاکھ میں سے منہا کرکےباقی ماندہ (ساڑھے بائیس لاکھ روپے) کے متعلق سائل اپنےبیٹے سے وصول کرسکتا ہے۔

بیٹے کا یہ کہنا کہ والد کا حق صرف چار لاکھ روپے ہے، درست نہیں۔ اگر بیٹا والد کو ان کا حق نہیں دیتا تو وہ شرعاً غاصب شمار ہوگا اور سخت گناہ گار ہوگا۔

مسند ابی یعلیٰ میں ہے:

"عن أبى حرة الرقاشى، عن عمه، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "‌لا ‌يحل ‌مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه".

(‌‌مسند عم أبى حرة الرقاشي رضي الله عنه، ج:3، ص:70، ط:دار الحديث - القاهرة)

دررالحکام میں ہے:

"إن هذا التعبير عام ويستفاد من عموميته أنه كما يعد أخذ الأجنبي غصبا يعد أخذ القريب لصاحب المال أو الشريك في ذلك المال غصبا أيضا.

مثلا لو أخذ وضبط أحد مال أبيه أو زوجته بدون إذنهما يكون غاصبا."

(الكتاب الثامن الغصب، ج:2، ص:494، ط:دارالجیل)

وفیه أیضاً:

"المادة:  لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي."

 (المقالة الثانیة،ج:1،ص:98،ط:دار الجيل)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701100709

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں