
اگر کوئی شخص مستحقِ زکات ہو اور دینے والا یہ چاہتا ہو کہ زکات کی رقم سے وہ عمرہ ادا کرے، لیکن غالب گمان یہ ہو کہ اگر اُسے نقد رقم دی گئی تو وہ عمرہ کرنے کے بجائے وہ رقم اپنے ذاتی اور گھریلو اخراجات میں استعمال کر لے گا، تو ایسی صورت میں شرعاً کون سا طریقہ جائز اور کون سا افضل ہے؟ مستحق کو زکات کی رقم نقد دے دی جائے اور اُس کے تصرف پر چھوڑ دیا جائے؟ یاخود مکمل انتظام کر کے اُسے عمرہ پر بھیج دیا جائے؟ براہِ کرم !اس بارے میں شرعی رہنمائی فرما دیں۔
صورتِ مسئولہ میں مستحق کو زکات کی رقم اس طرح مالک بناکر دے دی جائے کہ وہ اپنی مرضی اور اختیارسے اُس میں جس طرح بھی چاہے تصرف کرسکتا ہو، پھر اگر وہ خود چاہے تو اُس رقم سے عمر ہ کرلے، اس صورت میں زکات دینے والے کی زکات بھی ادا ہوجائے گی اور عمرہ کرنے والے کا عمرہ بھی ادا ہوجائے گا، البتہ سائل کے لیے ممکنہ صورت یہ ہوسکتی ہے کہ مستحق ِزکات شخص کو عمرہ کی تیاری کا کہنے کے بعد اُدھار پر ٹکٹ، و دیگر اخراجات کا انتظام کر وائے، اور جب بکنگ ہوجائے، تو پھر مستحقِ زکات شخص کو زکات کی مد میں رقم دے کر مالک بنا دے، اور اس سے عمرہ کے اخراجات ادا کر وا دے، یوں کرنے سے زکات بھی ادا ہو جائے گی، اور عمرہ پر بھیجنے کی خواہش کی تکمیل بھی ہو جائے گی۔
"الدر المختار"میں ہے:
"(هي) لغةً: الطهارة والنّماء، وشرعاً (تمليك جزء مال عيّنه الشّارع) وهو ربع عشر نصاب حوليّ، خرج النّافلة والفطرة (من مسلم فقير) ولو معتوهاً (غير هاشميّ ولا مولاه مع قطع المنعفة عن المملّك من كلّ وجه) فلا يدفع لأصله وفرعه (لله تعالى)".
(كتاب الزكاة، ج: 2، ص: 256-258، ط: سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144707102237
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن